اسلامک فنانس کے فروغ کے بغیر مسلم امہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتی: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری


منہاج یونیورسٹی لاہور میں منعقدہ دو روزہ “ورلڈ اسلامک اکنامکس اینڈ فنانس کانفرنس” کانفرنس اختتام پذیر
لاہور () منہاج یونیورسٹی لاہور میں منعقدہ آٹھویں “ورلڈ اسلامک اکنامکس اینڈ فنانس کانفرنس” کے آخری روز اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین بورڈ آف گورنرز منہاج یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ اسلامی معاشی نظام کو اپنائے بغیر مسلم دنیا ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی۔ مسلم امہ کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ اسلامی اقتصادیات اور مالیات کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے ہی ممکن ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ موجودہ عالمی مالیاتی نظام میں اسلامی اصولوں کو اپنا کر نہ صرف معاشی ناہمواریوں کو ختم کیا جا سکتا ہے بلکہ ایک منصفانہ اور مستحکم اقتصادی ڈھانچہ بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد نے ملکی اور بین الاقوامی محققین، ماہرین تعلیم اور سکالرز کو کانفرنس میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ اختتامی سیشن میں کانفرنس کنوینئر ،رجسٹرار منہاج یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خرم شہزاد نے کانفرنس کا اعلامیہ پیش کرتے ہوئے اسلامک فنانس کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامک فنانس کے شعبے کو مستحکم اور عالمی سطح پر قابل قبول بنانے کے لیے مستند ریگولیٹری نظام اور شریعہ کمپلائنس کا قیام از حد ضروری ہے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسلامک فنانس کے اصول و ضوابط قرآن و سنت کی روشنی میں وضع کیے جاتے ہیں، جن پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ماہرینِ شریعت اور ریگولیٹری اداروں کا فعال کردار ناگزیر ہے۔ ایک مضبوط اور شفاف نظام کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے اور اسلامک فنانس کے ذریعے عالمی معیشت میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔کانفرنس کے اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اسلامک فنانس کے تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول تعلیمی ادارے، مالیاتی ادارےاور حکومتیں، اس شعبے کی ترقی کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔ اعلامیے کے اختتام پر شرکاء نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اسلامک فنانس کو آسان، شفاف اور عوامی دسترس میں لانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔ دو روزہ کانفرنس میں نامور ماہر معاشیات پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی اسلامی معاشیات کے موضوعات پر لکھی گئی 8 کتب کی تقریب رونمائی بھی کی گئی ۔دو روزہ کانفرنس میں بہترین ریسرچ پیپر زپیش کرنے پر لیبیا سے ڈاکٹر فوزی گرفال ،اسلام آباد پاکستان سے ،عائشہ ثروت اور برونائی سے ڈاکٹر محمد حیرالاذین حاجی بصر کو بیسٹ پیپر ایورڈز سے نوازا گیا۔ دو روزہ کانفرنس میںمجموعی طور 80 ریسرچ پیپرز میں سے 26 پیپرز منتخب کیے گئے ۔کانفرنس میں مجموعی طور پر 18 کلیدی خطابات ،6 ٹیکنیکل سیشنز ،4 پینل ڈسکشنز کے انعقاد کے علاوہ ایک انٹرنیشنل رپورٹ بھی پیش کی گئی ۔ دو روزہ عالمی کانفرنس میں پاکستان سمیت امریکہ ،برطانیہ ،ملائشیا، بحرین،برونائی ،ایران ،سعودی عرب ،بنگلہ دیش ،نائجیریا ،یو اے ای ،لیبیا اور مصر سے اسلامی معاشیات سے وابستہ نامور محققین ،ماہرین تعلیم اور ریسرچ سکالرز نے شرکت اور خطاب کیا۔