
اسلام آباد؛ 24 جنوری، 2025۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی برقرار اور مضبوط ہے۔ جوہری اور میزائل ٹیکنالوجی شہید قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا پاکستانی قوم کو دیا ہوا تحفہ ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اس معاملے پر کبھی سودے بازی نہیں کرے گی۔
صدر ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے سوال پر چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ یہ میڈیا پر چلنے والی خبر ہے اور اس سوال کا جواب میڈیا سے ہی پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف ناشتے کی تقریب میں شرکت کریں گے اور پیپلز پارٹی کے لیے یہ روایت کافی عرصے سے چل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے، اس لیے ان کا امریکی حکام کے ساتھ باضابطہ ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ارادہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دوستوں سے ملاقات کرنے کا ہے۔
پیپلز پارٹی کے حکومت میں شامل ہونے کے سوال پر انہوں نے نفی میں جواب دیا۔
پی ای سی اے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ریکارڈ پر ہے کہ ہم نے پی ٹی آئی حکومت کے دوران پی ای سی اے آرڈیننس کی مخالفت کی تھی۔ وہ مخالفت صرف مخالفت برائے مخالفت نہیں تھی بلکہ ہم نے اس قانون سازی میں اپنی تجاویز اور آراء شامل کیں، جو قانون کے حتمی مسودے میں شامل ہوئیں۔ پی پی پی نے مسلسل حکومت کے ساتھ رابطے میں رہ کر کئی ترامیم کیں جن کی وجہ سے قانون پہلے سے بہتر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اگر تجاویز دینا چاہیں تو دے سکتی ہیں۔ یہی طریقہ ہے کہ آپ اپنی پارٹی کا نقطہ نظر پارلیمنٹ میں پیش کریں۔ پیپلز پارٹی کے پاس اکثریت نہیں کہ اپنی مرضی سے قانون سازی کر سکے لیکن پارلیمنٹ میں اپنی عددی طاقت کے مطابق مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا اگر اس قانون سازی کے لیے صحافتی تنظیموں سے مشاورت کی جاتی تاکہ اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا اور میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں کو بھی کمیٹی کی سطح پر قانون سازی کے وقت شامل کیا جاتا۔
سپریم کورٹ کے حوالے سے 26ویں ترمیم کے معاملے پر ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ جب بھی سپریم کورٹ میں پوزیشنز تبدیل ہوتی ہیں تو جج صاحبان چیف جسٹس کی حمایت کرنے کے بجائے اس کے برعکس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف پارلیمنٹ کو 26ویں ترمیم کو واپس لینے کا اختیار ہے اور اگر کوئی دوسرا ادارہ ایسا کرنے کی کوشش کرے گا تو کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔ سپریم کورٹ، چاہے وہ ریگولر بینچ ہو یا آئینی بینچ، آئین کو تسلیم اور اس کی پیروی کرے گا کی بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام کیا۔























