
کراچی(کورٹ رپورٹر) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو مبینہ پولیس مقابلے سے متعلق بننے والی جے آئی ٹی اراکین کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ کراچی میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت کے روبرو مبینہ پولیس مقابلے میں مقدمے کے اندراج سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار نے ایس ایچ او پیر آباد سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواستگزار نے موقف اختیار کیا کہ میرے 24 سال کے بیٹے اور اس کے دوست کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، 2 دسمبر کو پولیس نے یہ جعلی انکاؤنٹر اسٹیج کیا، مقتول کو ٹارچر کیا گیا اور ایک جھوٹا مقدمہ بھی دہشتگردی کی دفعات کے تحت بنایا گیا، پولیس نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا، عوامی احتجاج کے بعد محکمہ جاتی کاروائی کا آغاز کیاگیا،محکمہ جاتی کارروائی کے دوران مقابلے کو مشکوک قرار دیا گیا۔ اس کے بعد ایک جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی۔ مقابلے کے دوران جاں بحق ہونے والے محمد نقش کے والد کی درخواست پر جج سہیل احمد مشوری نے ہدایت جاری کیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی اس معاملے پر بننے والی جے آئی ٹی کمیٹی کے اراکین کو 30 جنوری تک عدالت میں پیش کریں اور اس واقعے پر ایک جامع رپورٹ بھی جمع کروائیں۔ کمیٹی اراکین میں ایس ایس پی انویسٹیگیشن سینٹرل ویسٹ کنور آصف، ڈی ایس پی سینٹرل انویسٹیگیشن محمد مقیم اور انسپکٹر اعجاز بلوچ شامل ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پولیس آفیشلز پر لگائے گئے الزمات سنگین نوعیت کے ہیں، جو کمیٹی 10 دسمبر کو بنائی گئی اس نے اب تک کچھ پیشرفت نہیں کی۔























