بیسویں صدی کے اوائل میں اُردو صحافت پر ہم عصر ترک تاریخ کے اثرات

ڈاکٹر رانا خالد محمود
انسانوں کے درمیان باہمی ارتباط اور یگانگت کی راہ میں جو سب سے اہم فطری رکاوٹ حائل رہی ہے شاید دو زبانوں کا فرق ہے۔ اس فرق کو دور کرنے میں تاریخ اور صحافت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ فطری رکاوٹ کوئی پیچیدہ یا دشوار عمل کی بجائے ایک سادہ کاری کا عمل ہے۔ صحافت اور تاریخ نے فاصلے دور کر دئیے ہیں۔ ترکیہ اور براعظم پاک وہند ہزاروں میل دور ہوتے ہوئے بھی ایک ڈور سے بندھے نظر آتے ہیں۔ بیسوی صدی کے اوائل میں صحافت کو وہ سہولیات میسر نہ تھیں جو آج عملاً نظر آرہی ہیں۔ آج کے دور میں صحافت جدید سہولیات سے مزین ہے اور پلک جھپکنے سے پہلے خبریں دنیا کے طول وعرض تک پہنچ جاتی ہیں۔ بیسوی صدی کے اوائل میں ایسا نہ تھا، البتہ ٹیلی گرام کی محدود سہولیات میسر تھیں۔
سلطنت عثمانیہ جس کی بنیاد 1299ء میں رکھی گئی، یہ سلطنت 1922 میں گرینڈ نیشنل اسمبلی کے فیصلے سے اپنے 600 سالہ دور کے بعد اپنا وجود کھو بیٹھی۔ سلطنت عثمانیہ تین برآعظموں تک پھیلی ہوئی تھی۔ بلغاریہ، مصر،یونان، ہنگری، اُردن، لبنان، اسرائیل کچھ فلسطینی علاقے، مقدونیہ، رومانیہ، شام، سعودی عرب کے کچھ حصے اور شمالی افریقہ کے ساحلی حصوں پر سلطنت عثمانیہ کی حکومت تھی۔ اتنی وسیع وعریض حکومت کے انتظامی، دفاعی، معاشی اور مذہبی امور کے فیصلے لازمی طور پر تاریخی اثرات کے حامل رہے ہیں۔
سلطنت عثمانیہ کا عروج 1299 سے 1453 تک رہا، اس میں توسیع 1453 سے 1683 تک ہوئی جبکہ 1683 سے 1827 تک جمود طاری رہا۔ 1828 سے 1908 تک زوال کا دور ہے جبکہ خاتمے کا دور 1908 سے 1922 پر مشتمل ہے، یوں عبدالمجید ثانی آل عثمان عہد کے آخری خلیفہ ثابت ہوئے۔
3 مارچ 1924 میں مصطفی کمال پاشا نے ترکی علاقے آزاد کراکے جمہوریہ کے قیام اور اپنی صدارت کا اعلان کیا۔ براعظم پاک وہند کے مسلمانوں کا براہ راست رشتہ سلطنت عثمانیہ سے جڑا ہوا تھا لہٰذا حالات کی گردش نے پاک وہند کی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔
اگر ترکی میں اُردو تدریس اور صحافت کا جائزہ لیا جائے تو خیری برادران کا نام سامنے آتا ہے۔ 1915 میں عبدالجبار خیری اور عبدالستار خیری کی کاوشوں سے اُردو تدریس کا آغاز ہوا۔ یاد رہے کہ خیری برادران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالبعلم تھے، ترکی میں اُردو صحافت کا آغاز 1880 میں پیک اسلام سے ہوا جس کے مدیر نصرت علی خان تھے۔ پیک اسلام، جہان اسلام، الدستور اور اخوت ترکی میں اُردو صحافت کے اخبار تھے۔ ترکی میں پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر اُردو صحافت کا اولین دور ختم ہوا۔
برعظیم پاک وہند میں مولانا آزاد کے الہلال اور البلاغ، مولانا ظفر علی خان کے زمیندار، محمد علی جوہر کے کامریڈ اور ہمدرد نے اُردو صحافت میں یادگار کارنامے انجام دئیے جبکہ 1842 میں جام جہاں نما (کلکتہ) دو عدد لکھنو اخبار (اودھ) 1937 میں ماہنامہ خیر خواہ ہند نے بھی صحافتی خدمات انجام دیں۔
1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں پر سختیاں حد سے زیادہ بڑھا دیں جس کے نتیجے میں نفرت کی چنگاریاں بھڑکتی رہیں۔ مسلمان اور ہندو اکابرین نے مختلف تحریکوں میں حصہ لیا۔ برصغیر میں پیدا ہونیوالی تحریکوں میں سب سے اہم مقام تحریک خلافت کو حاصل ہوا۔ پہلی جنگ عظیم میں ترکی نے برطانیہ کیخلاف جرمنی کا ساتھ دیا۔ یہ تحریک انگریزوں کو کئے ہوئے وعدے یاد دلانے کیلئے تھی۔ اس کیلئے 5 جولائی 1919 کو خلافت کمیٹی بنی جس کے صدر سیٹھ چھوٹانی اور سیکرٹری حاجی صدیق کھتری منتخب ہوئے۔ خلافت کمیٹی کے مقاصد ذیل تھے۔
1) خلافت عثمانیہ برقرار رکھی جائے
2) مقامات مقدسہ (مکہ مکرمہ/ مدینہ منورہ) عثمانی خلافت کی تحویل میں رہیں
3) سلطنت عثمانیہ کو تقسیم نہ کیا جائے
1920 میں خلافت کمیٹی کے دورۂ برطانیہ کے ناکامی کے بعد تحریک ترک موالات کا فیصلہ کیا گیا۔ تحریک خلافت ترکی میں جمہوریت کے اعلان کیساتھ ہی خلافت کا خاتمہ ہوا۔ اس کے اثرات براعظم پاک وہند کی تاریخ پر مرتب ہوئے
مسلمانوں میں قدرے مایوسی پھیل گئی
مسلمانان ہند میں سیاسی شعور بیدار ہوا
پرجوش قیادت اُبھری
علماء اور طلبہ کا سیاست میں داخلہ
آل انڈیا کانگریس اور جمعیت علماء ہند میں تعاون
ہندو ذہنیت آشکار ہوئی
برطانوی راج کا خاتمہ اور ہندو مسلمان اتحاد کا خاتمہ
ہندوستان میں ترک ہم عصر صحافت وتاریخ کو اکبرآلہ آبادی نے یوں منظوم کیا
کھینچو نہ کمانوں کو، نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو، تو اخبار نکالو
اُردو صحافت پر ہم عصر ترک تاریخ کے اثرات سیاسی، سماجی، معاشی، علمی اور فکری طور پر مرتب ہوئے ہیں۔ صحافت کے میدان میں ترکیہ میں اُردو اخبارات اور مسلم اُمہ کی باہمی گفت شنید نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں اضافہ کیا۔
ثقافتی حوالوں سے بھی ترکوں نے مختلف ادوار میں مسلم ممالک کی تہذیبوں پر اپنا رنگ جمایا۔ ان رنگوں اور اثرات میں تاریخ، ثقافت، فن تعمیر، رہن سہن، موسیقی، فنون لطیفہ، شاعری اور علم وادب جیسے اہم رنگ شامل ہیں۔
یہ زندہ تہذیب کی ایک زندہ علامت ہے کہ تہذیبیں ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتی ہیں۔
اُردو ترکیہ کے ایک دوسرے کے صحافتی، تاریخی اور تہذیبی اثرات کیلئے محترم خلیل طوقار لکھتے ہیں
”اُردو بنفس نفیس ترکی زبان کا لفظ ہے اور اُردو زبان کے خمیر میں ترکی اور ترکوں کا نمک بھی شامل ہے۔ اسلئے میں اُردو زبان کو جتنا برعظم پاک وہند کی زبان سمجھتا ہوں اتنا ہی خود ترکوں کی بھی زبان سمجھتا ہوں”
اُردو اور ترکی زبان، ادب اور صحافت کے تاریخی اثرات اتنے اہم ہیں کہ آج یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کی شاخیں قائم ہو چکی ہیں اور اُردو اور ترکئے زبانوں کا باہمی تعاون جاری وساری ہے۔