کراچی سمیت صوبے بھر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف گذشتہ 5 سالوں کے مقابلے 2024 میں سب سے زیادہ آپریشن کئے گئے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز تیزی سے جاری ہے

سعید غنی/ سندھ اسمبلی وقفہ سوالات

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف گذشتہ 5 سالوں کے مقابلے 2024 میں سب سے زیادہ آپریشن کئے گئے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز تیزی سے جاری ہے۔ جلد ہی ایس بی سی اے کے قوانین میں ترامیم کرکے 20 فیصد خلاف ورزی کا خاتمہ کیا جائے گا اور غیر قانونی تعمیرات میں ملوث عناصر کے خلاف سزائیں، جرمانہ کے ساتھ ساتھ ایسے عناصر کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کرنے کی تجویز دی جائے گی۔ ایسے افسران جو غیر قانونی تعمیرات میں ملوث پائے گئے ہیں ان کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئی ہیں البتہ سخت کاروائیوں کے لئے قانون موجود نہیں ہے۔ محکمہ بلدیات میں لاپتہ ملازمین کا میرے علم میں نہیں کہ کون سے سرکاری ملازم لاپتہ ہیں اگر معزز رکن کے پاس کوئی فہرست ہے تو مجھے دیں ہم ان کی تنخواہوں اور پینشن کا معاملہ ضرور دیکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سندھ اسمبلی میں محکمہ بلدیات کے حوالے سے وقفہ سوالات میں مختلف ارکان اسمبلی کے تحریری اور ان کے ضمنی سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ ایم کیو ایم کے رکن عبدالباسط کے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات اور اس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کردار پر سوال کے جواب میں صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کاروائی کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال 2018 سے 2024 کے درمیان 8171 عمارتوں کے خلاف کاروائی ہوئی، جس میں 2018 میں 1150 کاروائیاں ہوئی، 2019 میں 1220، 2020 میں 976، 2021 میں 1308، 2022 میں 1142، 2023 میں 892 اور 2024 میں 1784 عمارتوں کے خلاف کاروائی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر کراچی سمیت صوبے بھر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں بڑے مسائل ہیں، ممکنہ حد تک کاروائیاں ہوتی ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ میں اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہوں کہ کاروائیوں کے باوجود غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر کو روک نہیں سکے ہیں، اس کی مختلف وجوہات کے ساتھ ساتھ قوانین میں سخت سزائوں کا نہ ہونا بھی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کوئی افسر ملوث ہوگا تو اس کے خلاف بھی کاروائیاں کی گئی ہیں اور کئی افسران کا کراچی سے تبادلہ کرکے سندھ کے دیگر اضلاع میں بھیجا گیا ہے اور ہم مزید بھی کارروائیاں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قوانین میں 20 فیصد غیر قانونی تعمیرات کی اجازت ہے، اب قانون میں تبدیلی کرنے جا رہے ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات کی زیرو فیصد اجازت نہیں ہوگی اور غیر قانونی تعمیرات پر بلڈرز پر ایک کروڑ روپے جرمانہ کریں گے ساتھ ہی میری تو یہ بھی تجویز ہے کہ ایک بار کے بعد دوبارہ وہی بلڈر یہ غلطی کرے تو اس کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کردیا جائے۔ ایک ضمنی سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی عمارت یا پورشن کے خلاف کاروائی کے بعد دوبارہ تعمیر ہو جاتی ہے، ہم نے سختی سے ہدایات دی ہے کہ دوبارہ تعمیرات ہوگی تو دوسری بار کاروائی ہوگی، بلکہ اس کو بار بار توڑی جائے گی تاکہ بلڈر بیزار ہو جائے۔ سعید غنی نے کہا کہ میں تمام معزز ارکان اسمبلی کو بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی غیر قانونی عمارت کے خلاف مجھے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ایک دوسرا مافیا ہے وہ درخواستیں دیتے ہیں، لین دین کرکے درخواست واپس لیتے ہیں. ہم نے اس پر بھی ڈی جی کو پابند کیا ہے کہ جو درخواست دے وہ چونکہ شکایت ہے اس لئے اس شکایت پر فوری ایکشن لے اور شکایات کسی صورت واپس نہیں ہوتی اس لئے شکایت کنندہ چاہے تو بھی اس کی شکایات

کو واپس نہ لیا جائے بلکہ اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ ایم کیو ایم کے رکن صابر قائمخانی کے ضمنی سوال ہے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ صوبے کے تمام اضلاع میں فائر ٹینڈرز لائیں اور آئندہ چند ماہ میں ہائس رائس تک کی رسائی کے لئے فائر ٹینڈرز دیں گے، اس سے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ ایک کیو ایم کے رکن افتخار احمد کے ضمنی سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث درجنوں افسران کو سزا کے طور پر کراچی سے باہر ٹرانسفر کیا ہے، اس سے دیگر افسران کو بھی پیغام گیا۔ انہوں نے کہا کہ دل تو بہت چاہتا ہے کہ سزا دوں لیکن قانون سے باہر نہیں جاُسکتا۔ ایم کیو ایم کے رکن محمد دانیال ہے تحریری اور نی سوالات کے جواب میں وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کورنگی میں ضرورت کے پیش نظر دو ایسے فلائی اوور بنائے گئے ہیں جو دو سائیڈ ہیں، اس کو زیادہ چوڑا نہ کرنے کی وجوہات تھی کیونکہ اس قسم کے فلائی اوور کے پاس سے وہاں بجلی کے بڑے بڑے ٹاورز لگے ہوئی ہیں۔ ٹاورز کو مد نظر رکھتے ہوئی یہ فلائے اوور بنایا گیا، البتہ ہم وہاں ٹریفک مینجمنٹ کو ٹھیک کرلیں تو مسائل نہیں ہونگے۔ جوہر چورنگی پر جو انڈر پاس میں پیورز لگانے اور چند ماہ بعد خراب ہونے پر اس کے ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اس انڈر پاس کی رپیئرنگ اسی ٹھکیدار سے کروائی گئی اور اس پر حکومت نے ایک رپیہ بھی مزید خرچ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیورز کی لائف زیادہ ہے اس کو پانی سے بھی نقصان نہیں ہوگا۔ معزز رکن کے شاہراہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایکسپریس وے کی مکمل تعمیر کب تک ہونے کے سوال کے جواب میں وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ یہ منصوبہ اس سال دسمبر میں مکمل ہوجائے گا۔ یہ بڑا منصوبہ ہے۔ مارچ میں شاہراہ کو قائدآباد تک کھول دیں گے، اس سے شہریوں کو بڑا فائدہ ہوگا اور دسمبر 2025 تک اس کو ایم نائین سے ملا دیا جائے گا۔ لاپتہ سرکاری ملازمین کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ان کو کون ڈھونڈے گا، یہ کام محکمہ داخلہ کا ہے بلدیات کا نہیں ہے۔ اس پر ایم۔کیو ایم۔کے رکن دلاور قریشی کے ضمنی سوال کہ ان ملازمین کے اہلخانہ ان کی تنخواہیں اور پینشن بند ہونے سے دہری مشکلات کا شکار ہیں کہ جواب میں سعید غنی نے کہا کہ میرے علم میں نہیں کہ کون سے سرکاری ملازم لاپتہ ہیں، اگر آپ کے پاس کوئی فہرست ہے تو مجھے دیں ہم ضرور اس کو دیکھیں گے۔ ایم۔کیو ایم۔کے رکن جمال کے پیڈسٹل برجز کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اس حوالے سے جہاں سے شکایت آتی ہے وہاں کارروائی کرتے ہیں، برجز کی ریگیولر صفائی ہونی چاہیے، نشئیوں کو وہاں سے ہٹائیں گے۔ البتہ لوہا اور جگہوں سے بھی چوری ہوتا ہے۔ ایم۔کیو ایم۔کی خاتون رکن قرعت العین خان کے سوال کےجواب میں سعید غنی نے کہا کہ دو گریڈ میں ڈرائیورز اور نائب قاصد ہوتے ہیں۔ ان کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اس لیے زیادہ اسٹاف ہے۔ ضمنی سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کا مسئلہ تو بڑی حد تک حل کردیا گیا ہے البتہ ان کے واجبات کی ادائیگی کا مسئلہ بلکل جائز ہے اس کو حل کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ کے ایم سی کو 13 ارب روپے درکار ہیں پینشن اور رٹائرمنٹ دینے کے لیے۔ ابھی ایچ ڈی اے کی بھی درخواست آئی اور پانچ سو ملین کابینہ نے منظور کیے۔ کے ایم سی اور کے ڈی اے کا جو مسئلہ ہے اس پر کی ایم سی نے دو ارب روپے اور کے ڈی اے نے 3 ارب روپے سندہ حکومت سے قرضہ مانگا ہے، ہم خود چاہتے ہیں کہ اس مسئلے سے نکل آئیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ کے ڈی اے اور ایس بی سی اے کا لنک ہوتا ہے تمام منظوریاں مشترکہ طور پر اپروولز ہوتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ میں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارروائیوں کے حوالے سے جو بھی ایوان میں بتایا ہے وہ تمام غیر قانونی تعمیرات کے متعلق تھی؟ جو لوگ جائز تعمیرات کرتے ہیں وہ اس ترمیم سے خوش ہونگے
سختیوں سے اس شعبے کو فائدہ ہوگا۔ قانونی طور پر جو تعمیرات کرتے ہیں ہم ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں سنتے بھی ہیں۔ قرعت العین کے شہر میں پتھارے اور دیگر تجاوزات کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ یہ مسئلہ تمام شہروں کا ہیں۔ ہم ان پتھاروں اور ٹھیلوں کو ہٹاتے ہیں وہ پھر آجاتے ہیں۔ خود دوکان والے اپنے دوکان کے آگے پتھارہ لگانے کے پیسہ لیتے ہیں۔ ہم علاقے کے لوگوں کو اعتماد میں لیکر کام کریں گے۔ میری ذاتی رائے ہے کہ پتھاروں کو ہٹانہ بہت بڑا مسئلہ ہے، حال ہی میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی کی بڑی شاہراہوں کو انکروچمنٹ سے پاک کریں۔ ٹریفک جام کا مسئلہ غیرقانونی پارکنگ سے بھی ہوتا ہے۔ ایم۔کیو ایم کی رکن کی جانب سے ان پتھاروں کو ریگولائیز کرنے کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ کچھ مقامات پر ہم دیکھ رہے ہیں جہاں پتھاروں کو شفٹ کریں گے؟ لیکن وہاں بھی مسائل ہوتے ہیں اور آرڈرز آجاتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رکن شیخ عبداللہ کے اسی سوال کے ضمنی سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ میرے علم میں ہے کہ کئی دوکانیں اور بازاریں ان ٹھیلوں اور پتھاروں سے پیسہ لیتے ہیں، لیکن یہ کوئی سرکاری فیس نہیں ہے، غیرقانونی ہے ان کو ہٹنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پتھارے والے لوگ غریب ہوتے ہیں اپنے بچوں کو روزگار کرتے ہیں۔
اگر حکومت ایکشن لیتے ہے تو ہھر تنقید برائے تنقید ہوتی ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر یہ اتفاق کر لیں کہ جو ہم شہریوں کے مفاد کام کریں گے تو ہم ساتھ ہوں گے تو ہم کوئی کارروائی کرسکتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی خاتون رکن فوزیہ حمید کے کراچی ہے چڑیا گھر میں موجود پرندوں کے لئے سندھ حکومت کیا کررہی ہے کے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ کراچی چڑیا گھر میں دو واقعات کے بعد بہتری آئی۔ اب جانوروں کا پراپر خیال رکھا جاتا ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن دلاور قریشی کی جانب سے چڑیا گھر کو شہر سے باہر شفٹ کرنے کی تجویز پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ یہ تاریخی چڑیا گھر ہے۔ یہ 1870 سے یہاں موجود ہے۔ اس تاریخی ورثہ کو شفٹ نہیں البتہ نئے چڑیا گھر ضرور شہر سے باہر بننے چاہیے۔

جاری کردہ : زبیر میمن، میڈیا کنسلٹینٹ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی کو پانی کی فراہمی کے میگا منصوبے کے فور پر کام تیزی سے جاری ہے اور یہ منصوبہ جولائی 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تین حصوں پر علیحدہ علیحدہ کام تیزی سے جاری ہے اور اس کے لئے وزیر اعلٰی سندھ نے دوسرے حصہ کے لئے 7000 ارب روپے ورلڈ بینک سے منظوری کا انتظار نہ کرنا پڑے اس لئے دینے کا اعلان کردیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو سندھ اسمبلی میں معزز رکن کی جانب سے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ معزز ممبر کے حلقہ انتخاب شاہ فیصل کالونی چونکہ ٹیل پر ہے اس لئے وہاں پانی کی فراہمی دیگر علاقوں کی نسبت کم اور دیر سے ہوتی ہے البتہ ان کو دو ذرائع سے پانی کی فراہمی کی جارہی ہے اور اس میں جو مسائل تھے اس کا سدباب کردیا گیا ہے۔ جبکہ معزز ممبر نے کے فور منصوبے سے متعلق سوال کیا ہے تو اس کے تین حصوں کا کام ایک ساتھ چل رہا ہے، جس میں کینچھر سے کراچی کے لئے واپڈا کام کررہا ہے جو 55 فیصد مکمل ہوگیا ہے اور یہ دسمبر 2025 تک مکمل ہوجائے گا، دوسرا فیز یوٹیلیٹی کی شفٹنگ کا ہے، جو کراچی واٹر اینڈ سیوریج امپرومنٹ پروگرام کے تحت کیا جارہا ہے اور اس کے لئے وزیر اعلٰی سندھ نے ورلڈ بینک سے منظوری کا انتظار کئے بغیر 7000 ارب روپے جاری کئے ہیں اور یہ کام بھی دسمبر 2025 تک مکمل کرلیا جائے گا جبکہ اس کا تیسرا مرحلہ 50 میگاواٹ کے پاور اسٹیشن کی تعمیر کا ہے جو 16 ارب روپے کی لاگت کا ہے، اس پر بھی حیسکو نے کام شروع کردیا ہے اور انشاء اللہ اگر کوئی رکاوٹ نہیں آئی تو یہ بھی دسمبر 2025 تک مکمل کرلیا جائے گا، جس کے بعد ٹیسٹنگ کا مرحلہ ہوگا اور جون 2026 تک یہ منصوبہ مکمل کرکے کراچی کو پانی کی فراہمی شروع ہونے کا امکان ہے۔

جاری کردہ: زبیر میمن، میڈیا کنسلٹینٹ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی 03333788079