
نواز شریف مائنس ہو گئے تو عمران خان کیوں نہیں ہو سکتے
نواز شریف کا متبادل موجود عمران خان کا کوئی متبادل نہیں
عمران کے ساتھ تو ان کی پارٹی کے رہنما بھی نہیں سب کمپرومائز ہیں
عمران جانتے ہیں ان کے ساتھ پارٹی نہیں لیکن عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں
کراچی اسٹاف رپورٹر
حکومت میں عمران خان کے اگے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور یہ اعتراف کر لیا ہے کہ عمران خان کو مائنس نہیں کیا جا سکتا اس استفسار کے جواب میں کہ جب نواز شریف کو مائنس کیا جا سکتا ہے تو عمران خان کو مائنس کیوں نہیں کیا جا سکتاذرائع کا کہنا ہے نواز شریف کو اس لیے مائنس کیا گیا کہ ان کی اور ان کی پارٹی کی مقبولیت ختم ہو گئی تھی اور الیکشن میں ان کی پارٹی کو پورے ملک میں 17 سیٹیں بھی نہیں ملی تھیں اور اب اگر الیکشن ہوں تو پانچ سیٹیں بھی نہیں ملیں گی جبکہ عمران کی پوزیشن مختلف ہے اور وہ پورے ملک میں پاپولر ہیں عمران خان کا متبادل بھی موجود نہیں ہے جبکہ نواز شریف کے متبادل موجود ہیں جو کہ ان کے خود ان کے بھائی اور بیٹی ہیں دوسری جانب عمران خان کی پارٹی برائے نام ہے تحریک انصاف عمران خان کا نام ہے اس پارٹی میں عمران کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے سب مہرے ہیں جو کہ عمران خان کے گرد جمع ہو گئے ہیں اس بات کا علم عمران خان کو بھی ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پی ٹی ائی کے رہنما کمپرومائز ہیں عمران خان کے ساتھ نہیں ہیں جس کی عمران کو کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ ان کے ساتھ عوام کھڑے ہیں
======================
چیف جسٹس نے کلنٹن کو واش روم میں یقین دلایا نواز شریف کو پھانسی نہیں دی جائے گی، کتاب میں انکشاف
20 جنوری ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
پشاور( ارشدعزیز ملک) جنرل پرویز مشرف دور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کے سابق سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا ہے کہ بل کلنٹن نے نوازشریف کو پھانسی سے بچانے کیلئے چیف جسٹس سے خفیہ ملاقات کی تھی،امریکی صدر نے پرویز مشرف کے ظہرانے کے دوران واش روم جانے کا فیصلہ کیا اگلے ہی لمحہ چیف جسٹس ارشاد حسن خان بھی واش روم پہنچ گئے دونوں کے درمیان ملاقات پانچ منٹ تک گفتگو جاری رہی ، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کلنٹن کو دورہ پاکستان سے منع کیا ،مشرف دورمیں اسرائیل کوتسلیم کرنے کا کام شروع ہوا،ڈاکٹر اسرار نے مکالمے کی حمایت کی ، اسٹیٹ ڈپپارٹمنٹ نے امریکی صدر بل کلنٹن کو دورہ پاکستان سے منع کر دیا تھا لیکن صدر بل کلنٹن نے محض اس لئے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا کہ برطرف وزیراعظم میاں نواز شریف کو پھانسی سے بچایا سکیں۔ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یقین دہانی کے بعد وہ چند گھنٹوں کے لئے پاکستان آئے۔ امریکی صدر نے چیف جسٹس آف پاکستان سےبھی ایک خفیہ ملاقات کی تاکہ یہ یقین دہانی حاصل کی جا سکے کہ نواز شریف کو پھانسی نہیں دی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنی کتاب رنگ سائیڈ میں کیا ہے جس کی پشاور میں کل تقریب رونمائی ہو گی جبکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی کتاب کی رونمائی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ یہ کتاب اردو میں میدان عمل کے نام سے شائع کی گئی ہے۔ بل کلنٹن کے دورہ پاکستان کے بارے میں انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر پرویز مشرف کی یقین دہانی کے باوجود انہوں نے صدارتی ظہرانے کے دوران واش روم جانے کا فیصلہ کیا اگلے ہی لمحہ پاکستان کے چیف جسٹس ارشاد حسن خان بھی واش روم چلے گئے جہاں دونوں کے درمیان ملاقات پانچ منٹ تک گفتگو جاری رہی ۔ صدر کلنٹن نے چیف جسٹس آف پاکستان سے استفسار کیا کہ کہنواز شریف کو پھانسی کی سزا تو نہیں ہو گی جس پر جسٹس ارشاد حسن خان نے انہیں یقین دلایاکہ ایسا نہیں ہو گا۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کا ایک تاریخی اور چشم کشا واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ شہباز شریف کابینہ میں شامل ڈاکٹر مصدق ملک نے ملک و قوم کی خاطر امریکہ میں لاکھوں روپے ماہانہ کی ملازمت چھوڑ کر پاکستان آنے اور یہاں انسانی ترقی کے شعبہ میں کام کرنے کا فیصلہ کیا وہ ایک انتہائی محب وطن پاکستانی ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق انہوں نے لکھا ہے کہ جنرل مشرف کے دور میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق کام ہوا تھا اور مرحومڈاکٹر اسرار احمد نے بھی اسرائیل مکالمے کی حمایت کی تھی۔انہوںنے 2019 میں عمران خان کے دورہ امریکہ کو۔کامیاب قرار دیتے پوئے لکھا ہے کہ اس دورہ کے نتیجہ میںپاکستان اور امریکہ کے تعلقات مستحکم ہوئے تھے۔ڈاکٹر نسیم اشرف کے مطابق جنرل پرویز مشرف کے دورہ ہندوستان کے موقع پر انہوں نے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی اور ان سے ایک واقعہ کے بارے میں استفسار کیا جس کے جواب میں منموہن سنگھ نے تصدیق کی کہ انہوں نے بھارتی بوئنگ طیارے میں دو ٹن سونا بنک آف برطانیہ کے لئے بھیجا تاکہ قرضہ حاصل کیا جا سکے وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حق میں نہیں تھے بنک آف انگلینڈ سے لئے جانے والے قرض سے انہوں نے ہندوستان میں نئی اقتصادی پالیسی کا آغاز کیا۔ڈاکٹر نسیم اشرف نے عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے اپنا سب کچھ پاکستان ہر قربان کر دیا تھا وہ ایک قابل فخر انسانی ہمدرد ہیں۔قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کو ڈاکٹر نسیم اشرف اپنا ایک عظیم کارنامہ قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اس ادارے نے تعلیم کے فروغ اور لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکانے میں قابل ذکر کردار ادا کیا ہے تاہم انہیں چئیرمین کی حیثیت سے کئی محازوں پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ایک بار تو انہوں نے استعفے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا۔ پروگرام کی کامیابی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم برطانیہ ٹونی بلئیر کے صاحبزادے نکولس بلئیرخاص طور پر انٹرن شپ کے لئے پاکستان میں آئے ۔پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے ڈاکٹر نسیم اشرف نے کئی امور پر قلم کشائی کی ان کے خیال میں نائن الیون کے واقعہ نے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا یہی وجہ تھی کہ امریکہ نے افغانستان کو نشانہ بنایا تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ صدر پرویز مشرف نے امریکی صدر جارج بش کو ہر ممکن تعاون کا یقہن دلایا البتہ سات میں سے پانچ مطالبات تسلیم کئے۔ اگر پاکستان امریکی مطالبات نہ مانتا تو پاکستان کو معاشی طور پر تباہی سے دوچار ہونا پڑتا جو ملکی سلامتی کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا۔ڈاکٹر نسیم نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی جمہوریت کے داعی اور محب وطن پاکستانی ہیں جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا اور یہی وجہ تھی کہ جب نواز شریف کو ہٹایا گیا تو پاکستانیوں نے ان کی بحالی کے لئے مظاہرے کئے اور اخبارات میں اشتہارات بھی دئیے جبکہ کانگرس اراکین سمیت امریکی صدر کو خط بھی لکھا جس کے نتیجہ میں صدر کلنٹن نے پاکستان کا دوہ بھی کیا۔ ن کا مزید کہنا تھا کہ چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کی حیثیت سے مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، خوشی ہے کہ ملک بھر میں 19 سٹیڈیم بنائے۔ڈاکٹر نسیم اشرف نے پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میچ کے بائیکاٹ سے متعلق لکھا ہے کہ اوول ٹیسٹ پہلے انضمام الحق نے کھیلنے سے انکار کیا بعد میں وہ جنرل مشرف کی مداخلت پر راضی ہوئے تو امپائرز نے انکار کر دیا۔
https://e.jang.com.pk/detail/834498























