چار سال گزرنے کے باوجود آج تک زیر تعمیر ہے یہ روڈ

چار سال گزرنے کے باوجود آج تک زیر تعمیر ہے یہ روڈ

ساسول روڈ بجٹ 80 فیصد غائب_کام صرف 5 فیصد مکمل_خستہ حال ترقی کی شاہراہ۔

پاکستان پیپلزپارٹی ڈسٹرکٹ خضدارکے سابقہ صدرسجادزیب محمدحسنی نےاپنے ایک بیان میں کہاھےکہ ھمیں افسوس اورحیرانگی ہوتی ہیکہ ایکسئین بی اینڈ آرخضدارکس طرح اتنے بڑے پروجیکٹ کی رقم کو ملی بھگت کرکے کام کی تکمیل سے پہلے نکال دئیے ہیں🤔ساسول روڈ کی تعمیراتی منصوبہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیا جاتا ہے جسکے لیئے سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب ثناءاللہ خان زہری نے خطیر رقم مختص کروایا تھا لیکن بدقسمتی سے اس منصوبے کی تعمیر میں تاخیر ہو رہی ہے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ایکسئین بی اینڈ آر کی ملی بھگت کے نتیجے میں منصوبے کا 80 فیصد بجٹ نکال لیا گیا لیکن زمین پر منصوبے پر محض %5 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہو سکا ہے یہ معاملہ اس وقت مزید ایک سنگین رخ اختیار کر رہا ہے کیونکہ اسکیم میں غلط فنڈز کا استعمال سامنے آرہا ہے ساسول روڈ علاقے کی ترقی اور آمدورفت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے آج اپنی بگڑی ہوئی حالت کی وجہ سے عوام کے لیے مشکلات کا سبب بن رہا ہے روزمرہ کے سفر کرنے والے شہریوں کو خستہ حال سڑک کی وجہ سے شدید پریشانی کا سامنا ہے ابتدائی منصوبے کے تحت سڑک کی مکمل تعمیر کے لیے ایک خطیر رقم مختص کی گئی تھی لیکن تعمیراتی کام کا جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو مطلوبہ معیار کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی کام کی تکمیل کے لیے سنجیدہ کوششیں کی گئیں منصوبے پر ہونے والے %5 فیصد کام بھی انتہائی ناقص معیار کا ہے جو کہ اسکیم کی تکمیل سے پہلے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے اہل علاقہ محکمہ کے ایکسئین بی اینڈ آر کی غفلت پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہا ہے اور محکمہ کے سیکرٹری و اعلی حکام سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔ تاکہ آئندہ علاقے کی ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں کوئی غفلت نہ ہو۔
ساسول روڈ کا یہ منصوبہ اس بات کی جیتی جاگتی مثال ہے کہ کس طرح چند افراد کی ذاتی مفادات پر مبنی سازشیں عوامی بہبود کے منصوبوں کو ناکام بنا دیتی ہیں وقت کا تقاضا یہی ہے کہ اعلی حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور عوام کو یقین دلائے کہ ان کے وسائل اور حقوق کی حفاظت کی جائے گی۔