واٹر کارپوریشن کی کڑی نگرانی کیساتھ جاری کاروائیاں تیز پانی چور مافیا اور محکمہ جاتی افسران و سہولت کاروں کے خلاف قانونی کا شکجنہ ہر گزرتے لمحے کیساتھ سخت کئی افسران کی نیندیں حرام ہونے کیساتھ کئی مطلوب افسران ‘ ضمانت قبل از گرفتاری ‘ کیلے بھی متحرک ہیں

کراچی ( رپورٹ جوہر مجید شاہ) واٹر کارپوریشن کی کڑی نگرانی کیساتھ جاری کاروائیاں تیز پانی چور مافیا اور محکمہ جاتی افسران و سہولت کاروں کے خلاف قانونی کا شکجنہ ہر گزرتے لمحے کیساتھ سخت کئی افسران کی نیندیں حرام ہونے کیساتھ کئی مطلوب افسران ‘ ضمانت قبل از گرفتاری ‘ کیلے بھی متحرک ہیں ‘ سب سوئل لائسنس ‘ کے نام پر اربوں کی پانی چوری کا پینڈورا باکس کھولنے کی تیاریاں عروج پر واضح رہے کہ کے واٹر کارپوریشن کے کرپٹ افسران و سہولت کاروں کے پانی مافیا سے غیرقانونی گٹھ جوڑ و اشتراک کے عوض بناء لائسنس جاری کئے پانی مافیا نے شہریوں کا اربوں / کھربوں کا پانی فروخت کرکے ‘ اربوں / کھربوں ڈکار لئے اس گورکھ دھندے کے مرکزی کرداروں میں ‘ دلاور جعفری ‘ عامر پیجر ‘ عبید و دیگر شامل رہیں ہیں واٹر کارپوریشن ‘ حساس اداروں ‘ کی کڑی نگرانی کے بعد پانی چوری کا میگا اسکینڈل اور اسکے مرکزی کرداروں کے چہروں کی نقاب کشائی کا وقت قریب آپہنچا ادھر ‘ محکمہ اینٹی کرپشن ایسٹ کے آفیسر’ عباس علی لاڑک ‘ نے ‘ سب سوئل لائسنس و پانی چوری کے میگا اسکینڈل کی جاری تحقیقات کے حوالے سے مطلوب افسران کو بزریعہ لیٹر ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن واٹر کارپوریشن کو 8 مطلوب افسران کو بتاریخ 14 جنوری صبح 11 بجے انکوائری کمیٹی میں پیش ہونے کے احکامات جاری کئے ہیں جن مطلوب افسران کو طلب کیا گیا ہے ان افسران میں ‘ غلام مصطفیٰ ایمپلائز نمبر ‘ 20910ـ0 ‘ seBws 2 ” محمد اسلم ایمپلائی نمبر ‘20759ـ9 se Korangi ‘ غلام محمد ایمپلائی نمبر 8258ـ8 se Central B ‘ ساجد محسن ایمپلائی نمبر 20938ـ8 se East B ‘ محمد عثمان ایمپلائی نمبر 21195ـ5 se kemari ‘ انور علی ایمپلائی نمبر 2098ـ5 se leyari south B ‘ جاوید حسین ایمپلائی نمبر 14439ـ9 se /Rac ‘ اقبال ایمپلائی نمبر 20905 se Bws 1 pm civil kwssip ان 8 افسران کو تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو تمام دستیاب دستاویزات ‘ سروس پروفائل و دیگر لازمی دستاویزات کے ہمراہ پیش ہونے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں واٹر کارپوریشن میں پانی مافیا کو پہلی بار سخت مشکلات کا سامنا ہے اور مزکورہ کاروائیاں کسی طور بھی نمائشی میچ نہیں بلکہ ان کاروائیوں کے نتائج اور تحقیقات کے بعد ہوشرباء انکشافات کیساتھ ملوث و مرتکب افسران ‘ سہولتکار اور پانی چور مافیا کو قانونی کے شکنجے میں جکڑ لیا جائگا محکمے میں ایک جانب اطمینان تو دوسری طرف دوڑیں ہیں جلد کئی پردہ نشین سلاخوں کے پیچھے پابند سلاسل ہونگے مختلف سیاسی سماجی مذہبی جماعتوں اور شخصیات نے سپریم کورٹ وزیر اعلیٰ سندھ گورنر سندھ وزیر بلدیات سندھ سمیت تمام وفاقی و صوبائی تحقیقاتی اداروں سے اپنے فرائض منصبی اور اٹھائے گئے حلف کے عین مطابق سخت ترین قانونی و محکمہ جاتی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے