
عمران خان اندرونی اور بیرونی محاذوں پر ناکام۔
کارکنوں کے اعصاب جواب دیے گئے تھکن سے چور چور
صرف عمران خان اور پی ٹی ائی اوورسیز ڈٹ کر کھڑی ہے
ڈیل کر کے بنی گالہ میں خاموشی سے جا کر بیٹھ جائیں
عمران خان زرداری نواز شریف سے زیادہ سخت جان ثابت ہوئے
نواز شریف اور زرداری نہیں بنوں گا عمران خان
عمران خان اور پی ٹی ائی کا چارج اوورسیز پاکستانیوں کے پاس
نو مئی اٹھ فروری 26 نومبر ہوچکے اب عمران اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے
کراچی ا سٹاپ رپورٹر
پی ٹی ائی اے بانی عمران خان اندرونی اور بیرونی محازوں پر بری طرح ناکام ہو گئے جبکہ ان کے کارکن بھی تھکن سے چور چور نظر اتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ عمران خان کوئی سمجھوتہ کر کے ان کی مشکلات ختم کر دیں کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ کارکنوں اور رہنماؤں کے اعصاب جواب دیتے جا رہے ہیں اور وہ اب مزید کسی کشمکش کے حق میں نہیں ہے پارٹی کے اندر بھی وقت کے ساتھ ساتھ بددلی پھیل رہی ہے اور پھوٹ پڑ چکی ہے اس وقت صرف عمران خان اور اوورسیز پاکستانی میدان میں ہیں عمران خان اور پی ٹی ائی کا چارج بھی اوورسیز پاکستانیوں کے پاس ہے اور پی ٹی ائی کو وہی چلا رہے ہیں پی ٹی ائی پاکستان کو ایک ایسی فورس قرار دیا گیا ہے جو کہ خرچ ہو چکی ہے سیاسی حلقوں کے مطابق پی ٹی ائی کے غبارے سے نو مئی اور 26 نومبر کو ہوا نکل گئی تھی اب پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکن عمران خان کی خواہشات کا ایندھن بننے کے لیے تیار نہیں وہ عمران خان کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ حکومت کے ساتھ ڈیل کر کے بنی گالہ میں جا کر بیٹھ جائیں تاکہ ان کی بھی جان چھوٹ جائے عمران خان سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہوں نے ڈیل کی تو وہ نواز شریف اور زرداری بن جائیں گے اگر وہ عدالتوں کے ذریعے باہر اتے ہیں تو اس میں بہت وقت لگ جائے گا عمران خان اٹھ فروری کی دھاندلی پر بھی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں اٹھ فروری کو عمران خان الیکشن جیت گئے تھے لیکن سسٹم نے خود کو کامیابی کے ساتھ بحران سے نکال لیا اس طرح عمران خان اور سسٹم کے درمیان جاری کشمکش میں سسٹم کا پلڑا بھاری رہا ہے اور سسٹم عمران خان کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے لیکن عمران خان اس وقت نواز شریف اور اصف زرداری سے زیادہ سخت جان اور طاقتور ثابت ہو رہے ہیں سسٹم عمران خان کی مقبولیت کا اعتراف تو کرتا ہے لیکن یہ خیال بھی موجود ہے کہ پاکستان کے عوام 77 یا بنگلہ دیش کے عوام کی طرح باہر نہیں نکلیں گے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے سسٹم شہباز شریف کو 2035 تک اقتدار میں دیکھنا چاہتا ہے 2035 اڑان پروگرام کی ڈیڈ لائن ہے نو مئی 8 فروری اور 26 نومبر سسٹم کے لیے بہت سخت تھے اور اب سب کو یقین ہے کہ نو مئی اور 26 نومبر جیسے دن واپس نہیں ا سکتے























