
سندھ میں کاشتکاروں اور فصلوں کو بھاری نقصان کی اصل وجہ سامنے آگئی۔ سندھ میں فراہم کی جانے والی فرٹیلائزر ، بیج اور کیڑے مار ادویات میں بڑے پیمانے پر جالی ناقص اور نقصان دہ فرٹیلائزر بیج اور ادویات کی فراہمی نے زمینوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے بہت سی اہم فصلوں کو زبردست نقصان ہوا ہے جس کی وجہ سے کاشتکار زمیندار ہاری سب پریشان ہیں محکمہ زراعت کے بارے میں بہت سی شکایات سامنے ائی ہیں اور اب صوبائی حکومت نے اس حوالے سے سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے دو نمبر جالی ناقص ادویات بیج اور فرٹیلائزر فراہم کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ ہوا ہے اور ان کے لیے سفارشیں کرنے والوں اور ان عناصر کی پشت پناہی کرنے والوں کو واضح پیغام دیا جا رہا ہے کہ قومی معیشت اور قومی زراعت کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی غریب کسانوں کو اور ان پڑھ لوگوں کو اچھے معیاری اور امپورٹڈ بیج فرٹیلائزر اور ادویات کے نام پر جعلی دو نمبر ناقص بیج فرٹیلائزر اور ادویات فراہم کرنے والوں نہیں نہ صرف غریب کسانوں اور کاشتکاروں کو


بہت نقصان پہنچایا ہے بلکہ قومی معیشت کے ساتھ بھی کھلواڑ کیا ہے ایسے عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف انے والی شکایات پر سخت ایکشن لینے کا فیصلہ ہوا ہے صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں ڈنڈا اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے صوبائی وزیر اور صوبائی سیکرٹری اس سلسلے میں ایک پیج پر ہیں اور نچلے افسران کو بتا دیا گیا ہے کہ اب اس معاملے پر کوئی رعایت نہیں ہوگی کسی کے ساتھ کوئی رعایت کرنے کی ضرورت نہیں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں پیاز کی فصل بڑے پیمانے پر خراب ہو گئی جس کے بعد اس مرتبہ پیاس کی کاش میں نمایاں کمی ائی ہے اور اب پیاز کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ممکنہ طور پر پیاس کو باہر سے منگوانا پڑے گا اس کی وجہ پیاز کے حوالے سے غلط بیج ناقص فرٹیلائزر اور جالی ادویات کے چھڑکاؤ نے

زمینوں کو متاثر کیا جس کے بعد پیاز کی فصل متاثر ہوئی اور کسانوں نے اس مرتبہ سندھ میں پیاز بہت کم کاشت کی ہے جس کا نقصان ہوگا اس کے علاوہ کپاس اور گندم کو بھی نقصان ہوا ہے اور مختلف علاقوں سے کافی شکایات ا رہی ہیں لہذا محکمہ زراعت نے اس حوالے سے سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے جو کمپنیاں اور افسران اس حوالے سے ذمہ داریاں رکھتے ہیں ان کی لسٹیں تیار کی جا رہی ہیں اور جہاں جہاں شکایات موصول ہوئی ہیں وہاں ایکشن ہوگا
=======================
حکومت سندھ نے محکمہ زراعت سندھ کے 45 افسران کو ترقیاں دے دیں.
کراچی09 جنوری ۔ وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر کی ہدایت پر سیکریٹری زراعت سہیل احمد قریشی نے کافی عرصے سے ترقی کے انتظار میں بیٹھے محکمہ زراعت کی ریسرچ ونگ کے 5، ایکسٹینشن ونگ کے 33 اور مارکیٹ کمیٹی کے7 افسران کو گریڈ 16 سے گریڈ 17 میں ترقی دینے کی منظوری دے دی ہے. سیکریٹری زراعت سہیل احمد قریشی نے ایکسٹینشن ونگ کے 33 آفس اسسٹنٹ کو اسٹینو گرافر کے عہدے پر ترقی دی، مارکیٹ کمیٹی ونگ کے 5 افسران کو سیکریٹری مارکیٹ کمیٹی اور 2 کو آفس سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی دی، جبکہ ریسرچ ونگ کے 5 افسران کو سپریٹینڈنٹ کے عہدے پر ترقی دے دیں. سیکریٹری زراعت کا کہنا تھا کہ محکمہ زراعت کے افسران کو ترقی دینا نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے ملک کی زراعت اور معیشت میں بہتری آتی ہے، ترقی ملنے سے افسران زیادہ محنتی اور ذمہ دار بن جاتے ہیں اور اپنی کارکردگی میں بہتری لاتے ہیں. ترقیوں کا سلسلہ جاری رہے گا، اگلے مرحلے میں دیگر افسران کی بھی ترقیاں ہوں گی. سہیل احمد قریشی کا کہنا تھا کہ تمام افسران شعبہ زراعت کے ترقی میں بھر کردار ادا کریں، محکمہ زراعت اپنی تمام استعداد برائے کار لاتے ہوئے خطہ کو معاشی اور زرعی اعتبار سے خود کفیل بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہا ہے.
ہینڈآؤٹ نمبر 32۔۔۔آئی ایس























