تعلیم اور صحت عوام کا بنیادی آئینی حق ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم اور صحت کے شعبے میں ہر سال بجٹ میں اضافہ تو ہوتا ہے لیکن یہ اضافہ آبادی کے تناسب سے نہیں ہوتا

ٹھٹھہ (رپورٹ: علی گوہر قمبرانی) 
تعلیم اور صحت عوام کا بنیادی آئینی حق ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم اور صحت کے شعبے میں ہر سال بجٹ میں اضافہ تو ہوتا ہے لیکن یہ اضافہ آبادی کے تناسب سے نہیں ہوتا ان خيالات کا اظھار نیشنل پریس کلب ٹھٹھہ میں سماجی تنظیم سندھ سجاگ سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام تعلیم و صحت کی سہولیات، بجٹ اور اس کے اثرات کے حوالے سے منعقدہ سیمینار کے دوران مقررین نے کیا ۔ ورکشاپ میں سماجی تنظیم سی. پی۔ ڈی ۔  آئی سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن پاکستان کے شمس الہادی نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے بہت اہم ہیں اور ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وفاقی حکومت بالخصوص سندھ حکومت سالانہ بجٹ میں ان دونوں شعبوں کے بجٹ میں اضافہ کرے۔ کسی بھی ملک کی سماجی اور معاشی ترقی اس وقت ممکن ہے جب وہاں کے رہنے والے تعلیم یافتہ اور صحت مند ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے زندگی کے ہر شعبے سے زیادہ اہم ہیں۔ دونوں شعبوں کے لیے مختص بجٹ مخصوص طبقوں میں بانٹی جاتی ہے  ہے جہاں ضرورت ھوتی ھے ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔  سیمینار میں این آر ایس پی کے پراجیکٹ منیجر عمران جوکھیو، این آر ایس پی ڈاکٹر آکاش عباسی، ایس۔ آر ڈی ایس۔  جی ۔ قادر بخش اوٹھو، سندھی ادبی سنگت شاخ ٹھٹھہ کے اکرم منگنہار، نیشنل پریس کلب کے جنرل سیکریٹری اور ادیب رمضان میمن، سندھ سجاگ سماجی تنظیم کے ابراھیم ھیجب اور دیگر نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کو تعلیم  اور صحت کی فکر نہین ہے کیونکہ ریاست اپنی ذمیداری محسوس کرتی ہے اور ہمارے پاس تعلیم اور صحت خوراک سے زیادہ مہنگی ہے۔ تاکہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق مل سکیں۔ انہوں نے حکومت سے صحت اور تعلیم کے سالانہ بجٹ میں اضافہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔