پاکستان کے صحت کے عالمی اہداف کے حصول اور پولیو اور خسرہ جیسے بڑی بیماریوں کے خاتمہ کے لیے سب بچوں کا حفاظتی ٹیکہ کا بروقت کورس مکمل کرنا بہت اہم ہے

صوبائی وزیر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے صحت کے عالمی اہداف کے حصول اور پولیو اور خسرہ جیسے بڑی بیماریوں کے خاتمہ کے لیے سب بچوں کا حفاظتی ٹیکہ کا بروقت کورس مکمل کرنا بہت اہم ہے ۔
توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کی پانچ سالہ حکمت عملی برائے 30 ـ 2025 کی تیاری کی حوالہ سے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سالانہ اور سہ ماہی اہداف طے کر کے أگے بڑھنے کا راستہ طے کیا گیا ہے۔ انہوں نے ورکشاپ کے انعقاد اور تکنیکی اور مالی تعاون فراہم کرنے پر عالمی ادارہ صحت کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر صحت نے کہا کہ وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ایک مضبوط، اور حساس نظام کا قیام ضروری ہے جسے اس حکمت عملی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور عالمی ادارہ صحت سمیت یونیسیف اور اضلاع سے ماہرین کی مشاورت اور اجتماعی دانش سے اگلے پانچ سالوں کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ورکشاپ میں صوبائی سربراہ عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر جمشید احمد، ڈائریکٹر توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات ڈاکٹر سمرہ خرم، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے تکنیکی ماہرین، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ، عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف، پروگرام منیجرز موجود تھے۔ گیٹس فاؤنڈیشن ، ایمرجنسی آپریشن سینٹر، ضلعی حکام اور جان ہاپکنز یونیورسٹی کے نمائندے بھی شامل تھے۔ خواجہ عمران نذیر نے قلیل مدتی اور طویل مدتی مقاصد کے اہداف کے تعین کے لیے ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔ “میں پانچ سال کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں اور چاہوں گا کہ دوسرے پروگرام بھی ایسا ہی کریں۔ ہمیں کمیونٹی میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ پنجاب دو سال سے کم عمر کے بچوں کو 12 مہلک بیماریوں کے لیے مفت ویکسین فراہم کرتا ہے۔ بچوں کے لیے بہترین ممکنہ تحفظ کے لیے مقررہ شیڈول کے مطابق تمام ویکسین لگوانا انتہائی ضروری ہے۔ تاہم اگر کچھ بچے اپنی معمول کی خوراک نہ لے پائیں تو والدین ترمیم شدہ شیڈول کے مطابق پانچ سال تک انہیں ویکسین لگوا لیں۔ ہم حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے لیے جامع قانون سازی پر کام کر رہے ہیں۔ ویکسین کی فراہمی مریم نواز کلینکس اور کلینک آن وہیلز کے اقدامات کا لازمی حصہ ہیں۔ مزید برآں، ہمیں دوسرے پروگراموں کے ساتھ اشتراکی انتظامات تیار کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں عوام تک پہنچنے اور یونین کونسل سطح کی سرگرمیاں وضع کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ورکشاپ میں مقاصد کے ساتھ حفاظتی ٹیکوں کی حکمت عملی کی ترقی، رکاوٹوں کی نشاندہی اور یونیورسل ہیلتھ کیئر کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے اقدامات کی فہرست ترتیب دی گئی ہے۔ڈائریکٹر توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات ڈاکٹر سمرہ خرم نے صوبائی اور قومی حکمت عملی میں انضمام کے پس منظر کو واضح کیا۔ صوبائی سربراہ عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر جمشید احمد نے بتایا کہ حکمت عملی کی ترتیب دیتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی اہداف کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارہ صحت محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کی تکنیکی معاونت جاری رکھے گا۔