
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے صوبائی وزیر شجیل میمن کی رہائش گاہ پہنچنے کے بعد اسے سیاسی حلقوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ کیا وزیراعلی سندھ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے کیا وزیراعظم شہباز شریف پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے یا سیاسی حلقوں کے لیے کوئی پیغام چھوڑ کر گئے ہیں کیا مراد علی شاہ کی جگہ شجیل میمن کو وزیراعلی سندھ بنانے پر غور ہو رہا ہے کیا سرائیاں کی جا رہی تھیں کہ پچھلے سال یا مریم نواز کو وزیر اعلی پنجاب بنایا گیا تو صدر اصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کو سندھ کا وزیرلہ بنانے کی بات شروع ہوئی تھی کچھ ہلکے سمجھتے ہیں کہ فریال تالپور کو وزیراعلی بنایا جا سکتا ہے لیکن بلاول اور آصف زرداری اس حق میں نہیں ہیں دوسری طرف سید اسمبلی کے سپیکر اور صوبائی وزیر بھی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں سید خشی جو اپ نے داماد کو وزیر اعلی بنوانا چاہتے ہیں جب کہ سکھر سے ایک اور مضبوط امیدوار ناصر شاہ بھی میدان میں موجود ہیں اور وہ وزیر اعلی بننا چاہتے ہیں شرجیل میمن کے لیے بھی ایک مضبوط لابی کوشش کر رہی ہے
کہ انہیں وزارت اعلی حاصل ہو جائے یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ وزیراعلی کو 10 جنوری تک کا ٹائم دیا گیا ہے کیونکہ 10 جنوری کو ان کی صاحبزادی کی شادی ہے اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ ان کو مزید وقت دینا ہے یا ان کو گھر بھیجنا ہے جبکہ وزیراعلی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تجربے اور کامل ادر کامیابی کے لحاظ سے کوئی بھی وزیراعلی سید مراد علی شاہ کا مقابلہ کرنے کے قابل نظر نہیں آتا مراد علی شاہ کو سندھ کے 32 شاہوں کی بھرپور حمایت اور اعتماد حاصل ہے اگر ان کو چھیڑا گیا تو خود پیپلز پارٹی کے لیے سندھ کی حد تک مسائل پیدا ہو سکتے ہیں
اپنی کارکردگی اور کامیابیوں کے لحاظ سے وزیراعلی سندھ سید مراد رلی شاہ کو کوئی خطرہ نہیں اور وہ پانچ سال پورے کریں گے پیپلز پارٹی کی قیادت نے اگر ان کو چھیڑا تو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور پارٹی پوزیشن کے لیے مسائل پیدا ہوں گے اس لیے صدر اصف زرداری اور بلاول نہیں چاہیں گے کہ سندھ میں کوئی بحران پیدا ہو لہذا صوبائی حکومت پانچ سال پورے کرے گی اور وزیراعلی سید مراد علی شاہ بھی اپنا دور مکمل کریں گے























