کراچی(کورٹ رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے بیٹے عمر کی گمشدگی سے متعلق درخواست پر ایس ایس پی سینٹرل و دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔ ہائیکورٹ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے بیٹے عمر کی گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار والدہ کی نے کہا کہ میں عثمانیہ گرلز کالج میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوں، میرے بیٹے کو 5 دسمبر کو کورنگی آفس سے اٹھا کر لے گئے، میرا بیٹا سرکاری ملازم ہے، ایف آئی اے والے روز میرے گھر آتے ہیں، میرے گھر میں میرے بھائی پر بھی تشدد کیا گیا۔ عدالت نے ایف آئی اے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ بتائیں ان کا بیٹا کہاں ہے۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا ہمارے پاس نہیں ہے، ان کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج ہے، ایف آئی اے نے ایکسپورٹ کیلئے جعلی سرٹیفکیٹ کے اجراء پر انکوائری شروع کی تھی، ملزمان نے یورپی یونین کو چاول کی ایکسپورٹ کیلئے بغیر قانونی تقاضوں کے سرٹیفکیٹ جاری کئے تھے۔ ملزمان نے مجموعی طور 46 ایسے سرٹیفکیٹ جاری کئے جو کہ خلاف قانون ہے۔ عمر مصعب سمیت 17 ملزمان کیخلاف انکوائری شروع کی گئی تھی۔ 10 ملزمان کو گرفتار بھی کیا چکا ہے۔ عدالت نے ایس ایس پی سینٹرل و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 28 جنوری تک فریقین سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے درخواستگزار کو ہراساں نہ کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے۔

کراچی(کورٹ رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے ہائیکورٹ ے لیئے نوٹس جاری کردیئے۔ جسٹس ظفر احمد راجپوت کی سربراہی میں دو رکنی کے روبرو ججز کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن کے رولز کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ریمارکس دیئے کہ رولز بنانے کا اختیار تو آئین نے دیا ہے، یہ رولز عدلیہ کی آزادی کے کیسے خلاف ہیں، یہ درخواست آئینی بینچ میں زیر سماعت نہیں وہاں ہونی چاہیئے۔ درخواستگزار کے وکیل ابراہیم سیف الدین ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ جوڈیشل کمیشن پاکستان نے 21 دسمبر کو ججز تعیناتی کے رولز کی منظوری دی، ان رولز میں تمام ارکان کو ججز نامزدگی کا اختیار دیا گیا، آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کا ڈھانچہ تبدیل ہوچکا ہے، ان رولز کی وجہ سے جوڈیشل کمیشن میں عدلیہ کے بجائے ایگزیکیٹیو کی اکثریت ہوگئی ہے، ایگزیکیٹیو کی اکثریت کی بنیاد پر من پسند ججز کی تعیناتی کرسکتے ہیں۔ ججز کے ناموں کی نامزدگی صرف عدلیہ کے پاس ہونی چاہیئے۔ عدالت نے درخواستگزار کے وکیل کو بھی آئندہ سماعت پر تیاری کرکے آنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو 22 جنوری کیلئے نوٹس جاری کردیئے۔ دوسری جانب درخواستگزار کے وکیل ابراہیم سیف الدین ایڈووکیٹ نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کافی تفصیل سے سنا ہے کہ درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں اور آئینی بینچ کا معاملہ ہے یا ریگولر بینچ کا، اس سے پہلے بھی ہائی کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے کہ ریگولر بینچ سنے گی، ہم نے 26 ویں آئینی ترمیم کے آرٹیکلز کو چیلنج نہیں کیا ہے بلکہ ہم رولز کو چیلنج کررہے ہیں۔ جو رولز ہیں وہ عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے ہونے چاہیں، انہیں تجاوز نہیں کرنا چاہیئے، رولز میں لکھا ہوا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کا ہر رکن ججز کو نامزد کرسکتا ہے، مسئلہ یہ ہے جوڈیشل کمیشن میں سیاسی اراکین زیادہ ہیں اور جوڈیشل اراکین کم ہیں، وہ ووٹنگ کرکے کسی کو بھی جج بناسکتے ہیں، اس سے جوڈیشری کا حال بہت برا ہو جائے گا۔
Load/Hide Comments























