سندھ اسمبلی نے پیر کو اپنے اجلاس میں ایجنڈے کی دوسری تمام کارروائی معطل کرکے پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے یوم ولادت کی مناسبت سے انہیں نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک قرارداد متفقہ طورپر منظور کرلی

سندھ اسمبلی کی مکمل خبر
کراچی ( نامہ نگار خصوصی ) سندھ اسمبلی نے پیر کو اپنے اجلاس میں ایجنڈے کی دوسری تمام کارروائی معطل کرکے پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے یوم ولادت کی مناسبت سے انہیں نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک قرارداد متفقہ طورپر منظور کرلی جس میں شہید لیڈر کو ان کی ملک و قوم اور جمہوریت کے لئے گراں قدرخدمات پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سید اویس شاہ کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا تو پیپلز پارٹی سندھ کے صدر اور سینئر پارلیمنٹرین نثار احمد کھوڑو نے ایوان میں قرارداد پیش کی کہ ایجنڈے کی تمام کارروائی معطل کرکے شہید بھٹو کو نذرانہ عقیدت پیش کرنے کی قرارداد پر بحث کی جائے جس پر اسپیکر نے سندھ اسمبلی کے اجلاس کے لئے آج کاتمام بزنس جمعہ کے روز تک موخر کردیا۔ نثار کھوڑو نے اپنی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید بھٹو جیسا عظیم لیڈر پاکستان میں کبھی پیدا نہیں ہوا انہوں نے پیپلز پارٹی بنا کر بڑا کام کیا۔ شہید بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ ملک کو ایک متفقہ آئین دینا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر بھٹو اور شہید بینظیر زندہ ہوتے تو آج یہ ملک ایسا نہ ہوتا اور ملک ترقی کی اعلیٰ منازل طے کرچکا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہم جس آئین پر فخر کرتے ہیں اس پر عمل درآمد بھی ضروری ہے ۔ پاکستان میںآئین بننے کے بعد ہم دنیا میں منہ دکھانے کے لیے قابل ہوئے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پوری قیادت ہمیشہ آئین کی نگہباں رہی ہے اور اس حفاظت کی پاداشت میں آصف زرداری، فریال تالپور اور ہماری دوسری لیڈر شپ نے جیلیں بھی کاٹی ہیں۔سندھ کے سینئر وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے شہید بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو نے جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئی اس ملک کو ایٹمی طاقت بنایا ، یہ اللہ کی شان ہے کہ آج سیاسی مخالفین بھی اپنے جلسوں میں بھٹو کی مثالیں دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج کے لیڈر اور بھٹو شہید میں زمین آسمان کا فرق ہے ، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لئے کام کیا ،بھٹو شہید کی انتھک محنتوں کی وجہ سے شملہ معاہدہ ہوا اور نوے ہزار فوجی رہا ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ یہ وژن انکا ہوسکتا ہے جس کو اس مٹی سے محبت ہو ، جو لوگ پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہر سودا کرنے کے لیے تیار ہیں وہ لیڈر کیسے ہوسکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ساری چیزیں ٹھیک کرنے پر آئیں تو صرف فلسفہ بھٹو کا چلے گا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مسائل سے نکالنے کے لیے بھٹو جیسی ذہین شخصیت کی ضرورت ہے ۔شرجیل میمن کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے اراکین نے شور شرابہ کرنے کی کوشش بھی کی ۔ پی پی کے رکن: جمیل سومرو نے کہا کہ بھٹو صاحب نے سرزمین بے آئین کو آئین دیا اور مسلم دنیا کو اکٹھا کیا۔ قائد عوام مفکر، مدبر اور عالم اسلام کے لیڈر تھے ۔ اپوزیشن کے رکن شبیر قریشی نے کہا کہ شہید بھٹو دنیا کے عظیم رہنماء تھے۔ بھٹو کا ایک کارنامہ ہی دنیا پر بھاری ہے جو انہوں نے ترمیم کی کہ جو آخری نبی کو نہ مانے وہ مسلمان نہیں ہے ۔ صوبائی وزیر جام خان شورو نے کہا کہ آج تاریخی قرارداد ایک تاریخ ساز شخص کے لیے پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تاریخ نے ثابت کیا کہ بھٹو صاحب کا عدالتی قتل ہوا تھا اور پاکستان میں پارلیمنٹ کا وجود بھی بھٹو کی وجہ سے ہے ۔ پیپلز پارٹی کے امداد پتافی نے کہا کہ عظیم لیڈر پر بات کرتے کرتے وقت ساتھ چھوڑ جائیگا لیکن ان کی خدمات کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہوسکے گا۔ بھٹو کی صلاحیت نے اس ملک کو عظیم ملک بنایا ،بھٹو نے ملک میں جمہوری ادارے بنائے ۔سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ بھٹو جیسی عظیم شخصیات صدیوں میں کبھی پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن ان کا نظریہ اور فلسفہ ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ آج ایک لیڈر جیل سے نکلنے کے لئے نہ جانے کیا کیا جتن کررہا ہے جبکہ بھٹو نے بہادری کے ساتھ پھانسی کا پھندا قبول کرلیا مگر اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کی خاتون رکن خیرالنساءمغل نے بھی شہید بھٹو کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔بعدازاں قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔قبل ازیں ایوان کی کارروائی کے دوران قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے اپنے ایک پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ جمعہ والے دن احتجاج تعلیمی اداروں میں مسائل کے باعث ہوا تھا۔
حکومت کی جانب سے بورڈز میں مسائل کے لیے کیا کیا گیا ہے ؟ اس حوالے سے سرکاری موقف ایوان میں آنا ضروری ہے ۔اگر حکومت نے مسئلہ حل نہیں کیا تو بچوں کا مستقبل خراب ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شاہ فیصل کالونی میں گٹر کا ڈھکن نہ ہونے کے باعث بچے کی جان گئی ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ گٹر کے ڈھکن نہ ہونے کے باعث جو اموات ہوتی ہیں ان کے لیے سرکاری امداد کا اعلان کیا جائے۔ وزیر پارلیمانی امور ضیاءالحسن النجار نے کہا کہ سندھ کے ہر انچ کو پیپلز پارٹی اونرشپ دیتی ہے۔ حکومت کی نیت خراب کبھی بھی نہیں رہی۔ انہوں نے پیش کش کی کہ علی خورشیدی کے ساتھ بیٹھ کر ٹی آر اوز بنالیتے ہیں۔ بچوں کا مستقبل ہمیں بھی عزیز ہے۔ وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ
حکومت نہیں چاہتی کہ گٹر کے ڈھکن نہ ہونے کے باعث اموات ہوں۔ میں ضرور تحقیقات کرواﺅں گا، بڑی لائین تھی اس پر ڈھکن کیوں نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میںچار لاکھ سے زائد گٹروں کے ڈھکن لگائے گئے ہیں۔ یوسیز کو بھی کہا ہے کہ ہر گٹر پر دھکن ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کی بھی تھوڑی ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی میں ہول± نکال رہا ہے تو اس کی شکایت کریں ۔بعدازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

کراچی (نامہ نگار خصوصی )سندھ اسمبلی میں پیر کو قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کی تقریب منعقد ہوئی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ، پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی سربراہ محترمہ فریال تالپور ، سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کا کیک کاٹا۔کیک کاٹنے کی تقریب ٹریڑری لابی میں منعقد ہوئی جس میں صوبائی وزرائ اور اراکین اسمبلی نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی اور اپنے بانی چیئرمین سے عقیدت و محبت کا اظہار کیا ۔اس موقع پر پوری لابی جیئے بھٹو کے نعروں سے گونج اٹھی۔