
سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) کے مرکزی صدر پروفیسر منور عباس، کراچی ریجن کے صدر پروفیسر رسول قاضی، دیگر عہدیداران نہال اختر، عدیل خواجہ، پروفیسر آصف منیر، شبانہ افضل، زکیہ ٹالپر، پروفیسر زاہد لطیف، شفق زہرا، پروفیسر حبیب خان، پروفیسر نوید علی، پروفیسر کنول مجتبیٰ، پروفیسر محمد جمال، جناب سید محمد حیدر، ریاض مہدی خاصخیلی و دیگر نے اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے حالیہ فرسٹ ایئر کے نتائج کے حوالے سے طلبہ و طالبات میں پائے جانے والی بے چینی اور اضطراب پر اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا اخر کیا بات ہے تقریبا ہر سال انٹرمیڈیٹ کے نتائج تنازع کا شکار بن رہے ہیں؟ طلباء و طالبات اساتذہ اور والدین ایک ذہنی کوفت سے گزرتے ہیں یہی مسئلہ پچھلے سال بھی درپیش آیا اور اس سال بھی اسی صورتحال کا سامنا ہے۔ سپلا کے رہنماؤں کے مطابق اس کی ایک اہم وجہ کی جانب ہم گزشتہ کئی سالوں سے ارباب اختیار کی توجہ سندھ کے تعلیمی بورڈز کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گزشتہ 18 سال سے سندھ کے کسی بھی تعلیمی بورڈ میں مستقل ناظم امتحانات تعینات نہیں کیا جا سکا!! سیکرٹری بورڈز تعینات نہیں کیے جا سکے!! اسی طرح گزشتہ کئی سالوں سے کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ سمیت بہت سے تعلیمی بورڈز چیئرمین سے بھی محروم ہیں۔ سپلا کے رہنماؤں نے مزید کہا ان نتائج کے حوالے سے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے سبجیکٹ وائز اساتذہ کی کمیٹیز تشکیل دے کر انہیں یہ اختیار دیا جائے کہ وہ ان امتحانی کاپیوں کو رینڈملی دوبارہ جانچیں۔ تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ غلطی کہاں ہے۔ آیا نتائج کو جمع کرنے میں کوئی غلطی ہوئی ہے یا کاپیوں کی جانچ صحیح طرح سے نہیں کی گئی یا طلبہ نے صحیح طرح سے جوابات حل نہیں کیے۔ سپلا کے رہنماؤں نے وزیراعلی سندھ وزیر تعلیم اور وزیر بورڈز اینڈ یونیورسٹیز سے مطالبہ کیا کہ وہ فورا سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں میرٹ پر چیئرمین بورڈز، ناظم امتحانات سیکرٹری بورڈز اورفئنانس ڈائریکٹر تعینات کریں۔
سید محمد حیدر
سپلا میڈیا سیل کراچی























