عمران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھانے پر مسلم لیگ ناراض۔ عمران خان کے ساتھ ٹریک ٹو ڈپلومیسی پر بھی تحفظات

عمران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھانے پر مسلم لیگ ناراض۔

عمران خان کے ساتھ ٹریک ٹو ڈپلومیسی پر بھی تحفظات

کراچی اسٹاف رپورٹر

عمران خان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھانے پر مسلم لیگ نون نے دبا دبا احتجاج کیا ہے مسلم لیگ نون حالیہ مذاکرات سے خوش نہیں ہے سیاسی ذرائع کے مطابق ایک جانب حکومت عمران خان کی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سمیت پوری حکومت کی رات کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں شہباز شریف حکومت نے عمران کے ساتھ ٹریک ٹو ڈپلومیسی اور مذاکرات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہےاور سسٹم کی جانب سے اعتماد میں نہ لیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے
==================

قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے اعلان کیا ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان جاری مذاکرات کا آخری دور کھلے اسٹیڈیم میں ہوگا جہاں فیصلوں کا اجراء ہوگا۔

ان کے اس فیصلے پر فریقین کی کمیٹیوں کے ارکان اور پارلیمنٹ کے کمیٹی روم میں موجود صحافیوں نے قہقہے لگادیئے۔

بانی تحریک کو شیخ مجیب الرحمٰن کی طرح پیرول پر رہا کرکے مذاکرات میں لانے کے امکان پر سینٹر پروفیسر عرفان صدیقی نے کہا تجویز آئی تو متعلقہ لوگ جواب دینگے۔

ذرائع کا دعوٰی ہے تحریک انصاف چھ جنوری کا انتظار کر رہی ہے بانی کو سزا ہوگئی تو وہ مذاکرات سے نکل جائے گی اسی وجہ سے وہ مطالبات کا چارٹر تحریری دینے میں متامل ہے۔

قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں کسی جگہ تحریک انصاف کا نام نہیں، مذاکرات میں حکومت اور حزب اختلاف کو فریقین بیان کیا گیا ہے۔

اسپیکر سے ایک صحافی نے دریافت کیا تھا کہ ان مذاکرات کو کب تک بند دروازوں کے عقب میں خفیہ رکھا جائے گا۔ اس کے جواب میں قومی اسمبلی کے بزلہ سنج اسپیکر نے کہا کہ فی الحال برداشت کریں مذاکرات کب تک خفیہ رہیں گے۔