
جیکب آباد میں دھند کے باعث مزدا اور مسافر وین میں تصادم، 2 خواتین سمیت 13 افراد زخمی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کی قومی شاہراہ پہنور موڑ کے مقام پر مسافر وین اور مزدا میں ٹکر ہوگئی جس کے نتیجے میں وین پر سوار خواتین آشا کماری، سیجل کماری، کرشن، دیپک، امیت کمار، وکی کمار، سمیت کمار، بلوند، گرمک، عبدالنبی سمیت 13 افراد زخمی ہوگئے، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا، پولیس کے مطابق مسافر وین میں ہندو برادری کے لوگ سکھر سے اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کے بعد واپس جیکب آباد آرہے تھے کہ دھند کے باعث حادثہ پیش آیا۔


جیکب آباد جمعیت علماء اسلام ضلعی امیر ڈاکٹر اے جی انصاری نے کہا ہے کہ سندہ کا امن سولی پر لٹکا ہوا ہے، امن بحال کرنے والے بااثروں کے چوکیدار بن گئے ہیں، دریائے سندھ پر کینال غیر آئینی اور غیر شرعی ہیں جو کسی صورت میں برداشت نہیں کرینگے، انڈس ڈیلٹا 6 لاکھ ہیکٹر پر مشتمل ہے لیکن پانی کی کمی سے وہ تباہ ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی کی جانب سیمنعقدہ اسلام زندہ باہ کانفرنس سے خطاب اور قراردادیں پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اغوا انڈسٹری اور قبائلی جھگڑوں نے خوف پیدا کر رکھا ہے اور کافی علاقے نوگو ایریا بنے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ اسپتالیں تباہ، روڈ، راستے اور ڈرینیج سسٹم ناکارہ اور ہر طرف گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے انہوں نے کہا کہ جرگوں کا منافع بخش کاروبار کرنے والے وڈیرے بدامنی کی آگ کو بڑھا کر جھگڑے کرانے میں مصروف ہیں، انہوں کہا کہ بدامنی، اغواخوری اور کینالوں کی خاتمے سمیت عوام کو تحفظ اور بد امنی میں ملوث وڈیروں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر گرفتار کیا جائے اور عوام کو امن و امان اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

جیکب آباد میں بجلی و گیس بندش کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا، کاروبار زندگی مفلوج، پی پی شہید بھٹو کا احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں بجلی و گیس کی بندش نے شہریوں کا جینا محال کردیا ہے، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے جبکہ کاروبار بھی شدید متاثر ہورہا ہے، پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی جانب سے بجلی و گیس کی بندش کے خلاف ایک احتجاجی جلوس شہید بھٹو ہاؤس سے نور محمد منجھو، عبدالسلام سومرو کی قیادت میں نکالا گیا، مظاہرین نے شہر کی مختلف شاہراہوں پر مارچ کرتے ہوئے بجلی و گیس کی بندش کے خلاف نعریبازی کی بعدازاں مظاہرین نے پریس کلب کے سامنے پہنچ کر دھرنا دیا، اس موقع پر مظاہرین نے کہا کہ سارا سارا دن گیس کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ تھوڑے وقت کے لیے جب گیس فراہم کی جاتی ہے تو اس کا پریشر کم کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے شہری مہنگے داموں ایل پی جی گیس اور لکڑیاں خرید کراپنا گزارا کررہے ہیں، جبکہ دوسری طرف بجلی کی 18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کے باعث شہر کا کاروبار شدید متاثر ہورہا ہے، گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند کیا جائے۔
جیکب آباد میں لاکھوں روپیوں کی ڈکیتی کی واردات، ڈاکو نقدی اور زیورات لوٹ کر فرار۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے سول لائن تھانہ کی حدود لورا محلہ میں نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے محنت کش ظفر علی وگھن کے گھر میں داخل ہوکر اہلخانہ کو یرغمال بنایا اور گھر میں موجود ایک بزرگ عبدالنبی وگھن کو تشدد کا نشانہ بنا کر گھر میں موجود لاکھوں روپے نقدی اور زیورات لوٹ کر فرار ہوگئے، زخمی بزرگ عبدالنبی وگھن نے بتایا کہ 7 نامعلوم مسلح ڈاکو گھر میں داخل ہوئے میری آنکھ کھلی تو انہوں نے مجھے ڈنڈے مار کر شدید زخمی کردیا اور گھر میں موجود تمام خواتین و مرد کو یرغمال بنا کر گھر میں موجود 16 لاکھ نقدی اور 8 تولا سونے کے زیورات لوٹ کر فرار ہوگئے، واقعہ کے بعد پولیس نے پہنچ کر جائے وقوعہ کا معائنہ کیا تاہم آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی تھی۔ متاثرین نے مطالبہ کیا کہ لوٹی گئی رقم اور زیورات واپس کرائے جائیں۔
جیکب آباد جے یو آئی کا ٹھل میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا۔تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کی تحصیل ٹھل میں جے یو آئی کی جانب سے بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف احتجاجی جلوس نکال کر ٹھل کندھکوٹ روڈ پر دھرنا دیا گیا جس کے باعث کئی گھنٹوں تک ٹریفک معطل رہی، جے یو آئی رہنماؤں خلیل احمد کھوسو، وحید بروہی، میر حسن اور دیگرنے کہا کہ تحصیل ٹھل اور اس کے گردونواح میں بدامنی عروج پر پہنچ چکی ہے لیکن پولیس امن و امان کو بحال کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، بدامنی کی وجہ سے لوگ غیر محفوظ ہوچکے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ امن و امان بحال کو شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے بصورت دیگر جے یو آئی کی جانب سے احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔























