پڑھے لکھے عقل کے اندھے لوگ


تحریر ۔۔۔۔شہزاد بھٹہ
پاکستانی قوم ماشاءاللہ دنیا کی عقل مند ترین قوم ھے ان میں پڑھائے لکھے بلکہ ڈگری یافتہ اور ان پڑھ لوگ دونوں اقسام کے افراد شامل ھیں جو کہ آنکھیں بھی رکھتے ھیں عقل و شعور بھی مگر ان کا استعمال اس وقت کرتے ھیں جب ان کو صرف اپنا ذاتی مفاد ھوتا ھے
اور بدقسمتی سے ھماری اکثریت ایسی ھے جو اجتماعی نہیں بلکہ صرف اور صرف اپنے بارے میں ھی سو چتے ھیں یہی وجہ ھے جنت نظیر خطہ روز بروز تباھی ھی کی طرف جارھا ھے گلی محلے شہروں میں ایسے انفرادی عوامل دیکھ سکتے ہیں جن میں صرف اور صرف اپنا فایدہ ھی نظر آتے ھیں اجتماعی فائدے کم ھوتے ھیں یہی سماجی شعور کی کمی ھوتی ھے
سماج روایات کا مظہر ھوتا ھے جس میں ایک دوسرے کی ضروریات و نظریات کا خیال رکھا جاتا ھے تب ھی ایک مہذب معاشرے کی تشکیل ھوتی ھے ایک وقت تھا ھمارا معاشرہ ایک خوبصورت و روایات کا امین تھا گھر اور تعلیمی ادارے تربیت گاہ کے کام کرتے تھے سکولز اور کالجز میں ایسی سرگرمیوں پر زور دیا جاتا تھا جس سے اجتماعی سوچ پیدا ھوتی تھی ایک ٹیم کی طرح کام کئے جاتے تھے ایک دوسرے کے دکھ سکھ اور مدد کرنے کی ترغیب دی جاتی ھار جیت اور برداشت رواداری کا سبق دیا جاتا مگر پھر پیسے کی ڈور نے سب کچھ تباہ و برباد کر دیا برداشت رواداری اور شائستگی ایک دوسرے کی عزت و احترام کہیں دور چلا گیا جس کے مناظر ھم روز دیکھتے ہیں خاص طور پر کسی سڑک پر سفر کر رھے ھوتے ھیں
کسی سیانے نے کہا کہ اگر کسی بھی معاشرے میں شعور تربیت، برداشت و رواداری دیکھنی ھو تو وھاں کی کسی سڑک کنارے کھڑے ھو جائیں آپ کو خود ھی اندازہ ھو جائے گا کہ اس عوام کی ذہنی حالت و شعور کیا ھے اگر یہی معیار ھے تو ھم پاکستانی نیچے آتے ہیں سڑک پر ٹریفک قوانین کا جنازہ ذرا دھوم سے نکلے کو درست ثابت کرتا ھے
زیر نظر تصویر رائے ونڈ روڈ پر واقع ایک بنک کے باھر کی ھے بنک کے کسی پڑھے لکھے نوجوان افسر نے اپنی گاڑی معذور افراد کے لیے بنائے گئے ریم کے سامنے کھڑی کر رکھی ھے جو یقیناً سارے دن کھڑی رھے گئی اگر کوئی ویل چیئر استعمال کرنے والا یا جسمانی معذور بنک کسی کام کے سلسلے میں اجائے تو بنک کے اندر کیسے جائے گا
یہ سوچنے کی بات ھے یہ گاڑی جس بندہ کی ھے وہ لازم آنکھیں رکھتا ھو گا اور یقینا اس کو ریم بھی نظر آتا ھو گا مگر کیا کریں کہ ایسے لوگوں میں شعور نامی چیز کا فقدان ھے اور وہ لازمی اپنے بارے میں سوچنے والے معاشرے کا فرد ھے
کچھ عرصہ پہلے عدالتی حکم پر بلڈنگ بائی لاز میں یہ بات شامل کی گئی تھی کہ ھر بلڈنگ میں معذور افراد کے لیے ریم بنائے جائیں گئے اس عدالتی حکم کو مانتے ھوئے ھم نے عوامی مقاصد کے لیے استعمال ھونے والی بلڈنگز میں رسما ریم تعمیر کر رکھے ہیں ان میں بنک بھی شامل ہیں اگر زیادہ تر ریم کو دیکھیں تو یہ بات سامنے آتی ھے کہ سارے ریم صرف کاروائی ڈالنے کے لیے بنائے گئے ہیں یہ معذور افراد کی ضروریات کو پورے نہیں کرتے بلکہ ان پر ویل چیئر استعمال کرنا نہایت مشکل ھے یہاں متعلقہ اداروں سے درخواست ھے کہ بلڈنگ میں بنائے گئے ریم کو چیک کریں کہ یہ ریم قابل استعمال بھی ھیں یا نہیں
لگتا ھے زندگی کے دیگر معاملات میں ڈنگا ٹپاؤ سسٹم ھی چل رھا ھے