
یہ نتائج کراچی کی سیاست کے بدلتے ہوئے منظر کا دلچسپ آئینہ ہیں، مگر کچھ “سیاسی مسخروں” کے لیے شرمناک اور سبق آموز بھی ہیں۔ آئیے، ان نتائج کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں اور “ہارنے والوں” کی بے بسی پر روشنی ڈالتے ہیں۔
1. تحریک لبیک پاکستان (TLP) کے حافظ سعد رضوی نے 7.5 ہزار ووٹ حاصل کیے۔ مگر پچھلے انتخابات میں TLP نے کبھی کوئی نشست نہیں جیتی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا ووٹ بینک ابھی تک منتشر ہے۔
2. الطاف حسین نے 2.2 ہزار ووٹ حاصل کیے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ کراچی میں ان کی حمایت اب بھی موجود ہے، چاہے ان کی سیاسی سرگرمیاں محدود ہی کیوں نہ ہوں۔
3. ایک حیرت انگیز نتیجے میں، ڈاکٹر عشرت العباد نے 1.4 ہزار ووٹ لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ وہ صرف 6 ماہ سے سیاسی طور پر متحرک ہیں، اور اتنے کم وقت میں مقبولیت حاصل کرنا ان کی سیاسی طاقت کا ثبوت ہے۔ پہلے سروے میں وہ پہلی پوزیشن پر تھے۔
4. جماعت اسلامی (JI) نے 1.3 ہزار ووٹ حاصل کیے اور چوتھی پوزیشن پر رہی۔ یہ ان کی زمینی حمایت کا عکس ہے، کیونکہ وہ ایک منظم جماعت ہیں، اور حافظ نعیم الرحمن کی مقبولیت بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
5. ایم کیو ایم پاکستان کے تمام رہنما—کمال (378 ووٹ)، مقبول (57 ووٹ)، ستار (29 ووٹ) یا تسوری (160 ووٹ)—سب بری طرح ناکام رہے۔ ان کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ اتنے ایم این ایز اور ایم پی ایز ہونے کے باوجود ان کی عوامی حمایت ختم ہو چکی ہے۔ لگتا ہے کہ ان کا مقبول ہونا اب ایک خواب ہی رہ گیا ہے۔ انہیں سیاست چھوڑ کر کچھ اور کام کرنا چاہیے۔
6. مرتضیٰ وہاب (پیپلز پارٹی)، جو کراچی کے میئر ہیں، 261 ووٹ کے ساتھ غیر مقبول رہے، جو ان کے میئر بننے کے طریقہ کار پر سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔
7. حلیم عادل شیخ (پی ٹی آئی) بھی خاطر خواہ ووٹ نہ لے سکے، جو کراچی میں پی ٹی آئی کی گرتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
8. آفاق احمد (ایم کیو ایم-حقیقی) کا حال بھی دیکھنے لائق ہے۔ 30 سال کی سیاست کے بعد صرف 85 ووٹ لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ اب انہیں بالکل بھی سنجیدہ نہیں لیتے۔
9. خالد مقبول صدیقی اور فاروق ستار جیسے “ریٹائرڈ سیاستدانوں” کو اب سیاست سے مکمل ریٹائرمنٹ لے لینی چاہیے۔ ان کی مقبولیت کا سورج غروب ہو چکا ہے، اور ان کا حال دیکھ کر افسوس کے بجائے ہنسی آتی ہے۔
کراچی کی سیاست کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ یہاں کا اصل مقابلہ دو “غیر مقیم” رہنماؤں—الطاف حسین اور ڈاکٹر عشرت العباد—کے درمیان ہے، جبکہ باقی “زمین پر موجود” رہنما بری طرح ناکام ہیں۔ عوام نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ صرف انہی شخصیات کا ساتھ دیں گے جو ان کے دلوں میں جگہ بنا سکتی ہیں، چاہے وہ شہر کے اندر ہوں یا باہر۔
یہ فیصلہ سازوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ جب حمایت غیر مقبول لوگوں پر کی جائے، تو عوام کا غصہ بھڑکتا ہے۔ اور جب کسی مقبول اور قبول شدہ شخصیت کا ساتھ دیا جائے، تو عوام بھی انہیں پسند کرتی ہے۔ کراچی کی سیاست کا اصل مقابلہ اب صرف ان ہی لوگوں کے درمیان ہے جو مقبول ہیں، چاہے وہ شہر سے باہر ہی کیوں نہ ہوں۔























