سندھ پولیس کی سال 2024کی کارکردگی۔

تحریر::سید سعدعلی
ڈائریکٹرپریس/پی آراو
برائے انسپیکٹرجنرل آف پولیس سندھ

حصہ اول
2400 نفوذ پر مشتمل سندھ پولیس کا قیام 1843 میں عمل میں لایا گیا، تاریخ پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہیکہ کہ سندھ پولیس کو برصغیر کی پہلی “ماڈرن پولیس”ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔جسکی بنیاد سر چارلس نیپئر نے رکھی اور پولیسنگ کے ماڈل کو دواصولوں پرتقسیم کیا۔پولیسنگ کو مکمل طور پر ملٹری سے علیحدہ رکھا گیا اور سندھ پولیس کو ایک آزاد ادارہ کے طور پر تشکیل دیا گیا تاکہ وہ امن و امان کے لیئے اپنی ذمہ داریوں کو بطریق احسن انجام دے سکیں۔آگے چل کر نیپیئر ماڈل اتنا موثر ہوگیا کہ بمبئی کے گورنر نے مبئی پریذیڈینسی پولیس کو 1852 میں سندھ پولیس کی طرز پر دوبارہ ماڈل بنانے کا حکم دیا بعدازاں نیپئر ماڈل کو اسوقت کے برٹش انڈیا کے دیگر صوبوں میں بھی نافذالعمل بنایا گیا۔نیپئر ماڈل کے تحت سندھ پولیس کا سربراہ کیپٹن ہوا کرتا تھا اور سندھ پولیس کا سب سے پہلا سربراہ کیپٹن ولیم براؤن تھا جو کہ براہ راست گورنر کے ماتحت تھا۔1936میں سندھ کو باقاعدہ صوبے کا درجہ ملنے کے بعد سندھ پولیس کے پہلے انسپکٹر جنرل ای ای ٹرنر مقررہوئے اور اب تک85انسپکٹر جنرل سندھ پولیس کی کمان سنبھال چکے ہیں۔ کیپٹن مارسٹن وہ واحد کمانڈر تھے جنہوں نے عرصہ 21 سال تک سندھ پولیس کو کمانڈ کیا۔وہ اپنی سوچ فکر اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر حاصل ہونیوالی کامیابیوں کیوجہ سے ایک اہم معمار بنکر سامنے آئے۔انکے دور میں سندھ پولیس برصغیر کی انتہائی مستعد اور متحرک پولیس کے طور پر اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتی تھی۔مارسٹن کو کراچی سے بڑی عقیدت تھی یہی وجہ تھی کے وہ ریٹائرمنٹ کے بعد سے اپنی وفات تک یعنی سال 1902 تک کراچی میں ہی مقیم رہے۔

سندھ پولیس کی تاریخ بہادر،نڈر،بے باک اور ہوشیار پولیس افسران اور جوانوں پر مشتمل ایک ایسا گلدستہ ہے جنہوں نے نہ صرف سندھ پولیس کی استعداد اور تعداد کو تقویت دی بلکہ امن و امان کے قیام سمیت دیگر چیلجز سے نمٹنے کے لیے موثرحکمت عملی کو بھی اپنایا ہے۔صوبہ سندھ جو کہ پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے جہاں ملک کے دیگر تمام صوبوں سمیت دنیا بھر سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ سالہا سال جاری رہتا ہے یا یوں کہیئے کہ اس صوبے کو کو لوگ کاروبار کام اور روزگار کا ذریعہ گردانتے ہیں۔سندھ میں امن و امان کا قیام اور حالات پر کنٹرول ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے ۔ہر دور کے کمانڈر نے سندھ پولیس کے جانباز اور بےخوف افسروں، اہلکاروں کے علاوہ ٹیکنالوجی اور جدت کی بدولت نت نئے چیلنجز کا نا صرف بخوبی سامنا بلکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کے ذریعے حل بھی کیا ہے۔ صوبہ سندھ کو دہشت گردی،لسانیت، فرقہ واریت،عسکریت پسندی،سیاست اور دیگر نوعیت کے جرائم کے ساتھ ساتھ مشکل حالات اورچیلنجز کا سامنا رہا ہے اور الحمداللہ سندھ پولیس ہمیشہ سے ان مسائل پر قابو پاکر سرخرو وئی ہے۔

کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو سال 2024 سندھ پولیس کے لیے کم و بیش چیلنجز سے بھرپور سال ثابت ہوا تھا،جس میں نہ صرف امن و امان کا قیام بلکہ بین الاقوامی سطح پر بحال ہوتے ہوئے پاکسان کے مثبت پہلو کی عکاسی اور اسکی حفاظت بھی بہت بڑا چیلنج تھا۔کیوں کہ گزشتہ سال ملک میں عام انتخابات منعقد ہوئے اورپاکستان بشمول صوبہ سندھ میں کئی بین الاقوامی ایونٹس بالخصوص اہم شخصیات کے دوروں کے مواقعوں کا پرامن اور کا کامیاب انعقاد کیا گیااور اس کامیابی کا تمام تر سہرا قانون نافذکرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ شب و روز اپنے فرائض میں مصروف عمل و سرگرم رہنے والے سندھ پولیس کے افسران اور اہلکاروں کوجاتا ہے۔یقینا ان تمام کاوشوں اور امن و امان کے خاطر اپنی قیمتی جانوں کا نظرانہ پیش کرنے والے سندھ پولیس کے ماتھے کا جھومرشہداء پولیس ان کامیابیوں کے زیادہ حقدار ہیں۔

سال2024 میں صوبہ سندھ میں بین الاقوامی کرکٹ میچز/سیریز کا پرامن اور کامیاب انعقاد کیا گیا جس میں آسٹریلیا، ساؤتھ افریقہ،نیوزی لینڈ،اورانگلینڈ کی ٹیموں نےحصہ لیا جبکہ پاکستان سپر لیگ اورسندھ پریمیئر لیگ 2024 کی سیکورٹی بھی سندھ پولیس نے دیگرقانون نافذکرنے والے اداروں کے ساتھ باہم اشتراک سے یقینی بنائی۔اسی سال ایرانی صدر، اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا اور داؤدی بوہرا کمیونٹی کے روحانی پیشوا سمیت 45ہزار سے زائد غیرملکی و ملکی مندوبین نے صوبہ سندھ میں داؤدی بوہرہ کمیونٹی کے 10 روزہ مذہبی تقاریب سمیت دیگرتقریبات میں شرکت کی جبکہ ہتھیاروں کی بین الاقوامی نمائش IDEAS 2024کا انعقاد بھی کراچی میں کیاگیا تمام تقاریب اور دوروں کے دوران فول پروف حفاظتی انتظامات کا سہرا سندھ پولیس اور دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے سرجاتا ہے جنہوں نے تمام تقاریب کی سیکورٹی کو پرامن اور کامیاب بنایا۔

گزشتہ سال سندھ پولیس کی استعداد،قوت اور فلاح کے حوالے سے سندھ حکومت کی جانب سے کئی اہم اقدامات کیے گئے جن میں 6 ارب روپے کی پولیس اسٹیشنز کو بجٹ کی فراہمی،ایس ایچ اوز کو ڈی ڈی اوکااختیار دینا،ہیلتھ انشورنس کے لیے 5ارب سے زائد کی فراہمی جیسے اقدام کے نتیجے میں پولیس کا ہر ملازم اپنا اور اپنی فیملی کا 10 لاکھ روپئے تک کا علاج معالجہ منتخب کردہ معیاری اسپتالوں سے کراسکے گا،شہید کے پیکج کو 10 ملین سے بڑھاکر 23 ملین بمعہ ماہانہ تنخواہ ریٹائرمنٹ کی عمر تک بھی کردیا گیا ہے جبکہ شہید کے ورثاء میں شامل دو اہل افراد کو پولیس میں ملازمت بھی دی جارہی ہے،انسداد دrہشت گردی میں ماڈرن اصلاحات،سیف سٹی پروجیکٹ،داخلی اور خارجی راستوں پر کیمروں کی تنصیب،آن لائن ڈرائیونگ لائسنس کا اجراء،آن لائن پولیس ویریفیکیشن اسناد کا اجراء، پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم، اسپیشل برانچ سے آن لائن کوائف کی تصدیق،11ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی بھرتی،جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی کی فراہمی ودیگر اقدامات وغیرہ قابل ذکرہیں۔

گزشتہ سال سندھ حکومت اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی جانب سے شعبہ تفتیش کو بہتربنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات انتہائی موثرثابت ہوئے۔سندھ حکومت کی جانب سے سندھ پولیس کے شعبہ تفتیش کےعملہ کو تنخواہ کے ساتھ ایک اضافی بنیادی تنخواہ کا اجراء کیا گیا جبکہ مختلف نوعیت کے مقدمات کی تفتیش کے لیے خصوصی تفتیشی افسران کی تعنیاتی کو بھی ممکن بنایا گیا۔قتل ،اغوا،ڈکیتی،جنسی استحصال اوردیگرنوعیت کے مقدمات کی تفتیش کے لیے تجربہ کی بنیاد پر خصوصی افسران متعین کیے گئے ہیں۔ سال 2024 میں ڈکیتی میں مزاحمت کے دوران شہریوں کے قتل کے 98 مقدمات میں 75 مقدمات (77فیصد)کو بہترین اور مؤثر تفتیش کی بدولت ناصرف حل کیا بلکہ ایسے جرائم میں ملوث 112 کریمنلز کو گرفتار بھی کیا جبکہ پولیس ایکشن کے نتیجے میں 33 کریمنلز/ڈکیت ہلاک بھی ہوئے۔اسی طرح دوران ڈکیتی مزاحمت پر شہریوں کو زخمی کرنے سے متعلق درج 321 مقدمات میں 226 مقدمات(71فیصد) کو شعبہ تفتیش نے کامیابی سے ناصرف منطقی انجام تک پہنچایا بلکہ 332 کریمنلز کو گرفتار بھی کیا جبکہ پولیس کے مؤثر کاروائیوں کے نتیجے میں 36 کریمنلز/ڈکیت ہلاک ہوئے۔اگر مذکورہ جرائم یعنی دوران ڈکیتی قتل اور شہریوں کو زخمی کیئے جانیکے مقدمات کے حل کے شرح تناسب پر نگاہ ڈالی جائے تو وہ باالترتیب 77 اور 71 فیصد رہی جو کہ بلاشبہ جرائم کے خلاف پولیس کے کامیاب اقدامات کا ثبوت ہے۔

سندھ بھر میں امن وامان کے قیام اور جرائم کے خلاف پولیس اقدامات میں متاثر کن اضافہ دیکھنے میں آیا جس کی بدولت مختلف اضلاع میں چھاپہ مار کاروائیوں کے دوران سال 2024 یکم جنوری تا دسمبر 3864 پولیس مقابلوں میں 1782 جرائم پیشہ گروہوں کو ختم کرتے ہوئے 7383 کریمنلز کو موقع پر ہی رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا جبکہ پولیس کے جرائم کے خلاف مؤثر انسدادی اقدامات کے نتیجے 342 ڈکیت/کریمنلز ہلاک جبکہ 21504 گرفتار ہوئے۔علاوہ اذیں مذکورہ دورانیئے میں قانون شکن عناصر اور انکے کارندوں کے خلاف انتہائی ٹھوس اور مربوط ایکشن کے نتیجے میں 05 نوٹیفائیڈ ڈاکو ہلاک جبکہ 08 گرفتار ہوئے اسی طرح ہائی ویز پر ڈکیتی و رابریز میں ملوث 03 ڈکیت ہلاک جبکہ 26 گرفتار بھی ہوئے گرفتار و ہلاک ملزمان کے قبضہ سے02 ایل ایم جیز، 14 جی تھری رائفلز،04 ایم پی فائیو،180 ایس ایم جیز/کلاشنکوف،644 شاٹ گنز/ریپیٹرز/ایم پی فائیو,9400 پستول/ریوالورز/ماؤذر،78748 راؤنڈز/کارٹریجز اور 42 گرنیڈز برآمد ہوئے۔

صوبہ سندھ کے تمام اضلاع میں گذشتہ سال 2024 کے دوران منشیات مافیاز کے خلاف مجموعی طور پر 10692 چھاپوں کے تحت 12200 مقدمات درج ہوئے جن میں 14506 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔گرفتار ملزمان کے قبضہ سے 117.378 کلو آئس، 57.679 کلو ہیروئن 9096.411 کلو گرام چرس،104.469 کلو گرام افیون جبکہ 361544 لیٹر شراب بھی برآمد ہوئی۔

سندھ پولیس کے دلیر اور شجاع افسران اور جوانوں نے ڈاکوؤں کے خلاف سکھر،گوٹکی، کشمور اور شکارپور کے کچہ ایریاز میں انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز کے نتیجے میں گذشتہ سال 2024 کے دوران ہونیوالے 559 مقابلوں کے نتیجے میں 73 ڈاکو ہلاک،120 زخمی جبکہ مجموعی طور پر 378 ڈاکوؤں کو گرفتار کیا گیا رپورٹ کے مطابق زخمی و ہلاک ڈاکوؤں کے قبضہ سے 436 کی تعداد میں غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہیکہ کچہ ایریاز میں متعلقہ ضلعی پولیس نے ٹیکنیکل بیسڈ معلومات کو استعمال میں لاتے ہوئے 618 شہریوں کو ہنی ٹریپ سے بچایا جو مختلف اشیاء،شادی،خواتین کی آواز کے جھانسے میں آکر ڈاکوؤں کے چنگل میں جانے ہی والے تھے۔علاوہ اذیں گذشتہ سال کچہ کے علاقوں میں جرائم کے خلاف جاری آپریشن کے دوران 19 پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔

سال 2024 سندھ پولیس کی تاریخ میں کامیابیوں اور قربانیوں کا سال رہا۔ پولیس نے عوام کے تحفظ اور امن و امان کی بحالی کے لیے انتھک محنت کی۔سندھ پولیس کی بہادری،جرائم کی بیخ کنی کے لیئے انکی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ہر پلیٹ فارم سے عوامی خدمت کے عزم نے نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان کے وقار کو بھی بلند کیا۔