
انگریزوں کے دور میں جب کراچی ایک چھوٹا شہر تھا تو اس کے لیے پینے کا پانی ڈم لوٹی کے کنووں اور ہالیجی جھیل سے آتا تھا 1880 کی دہائی میں ان مقامات سے پانی ملتا تھا کچھ پمپنگ کی جاتی تھی اور کچھ گریوٹی سے پانی آ جاتا تھا قیام پاکستان کے بعد کراچی میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے گریٹر کراچی کے جی پروجیکٹ شروع کیا گیا یہ 1958 کی بات ہے کے جی سے بنتا ہے کینجھر گجو کینال ۔ اس کے بعد کراچی کے لیے مزید پانی کے مختلف منصوبے مختلف ادوار میں بنتے رہے پھر 1978 میں کراچی کے لیے اضافی پانی کا بندوبست کیا گیا اس کے 20 سال بعد 1998 میں 100 ملین گیلن پانی اضافی طور پر کراچی کو دیا جانے لگا اور پھر جنرل مشرف کے دور میں 2006 میں کراچی کے لیے مزید 100 ملین گیلن پانی کا اضافہ کیا گیا جیسے کے تھری پروجیکٹ کہا جاتا ہے اس کے بعد کراچی کے لیے کوئی اضافی پانی منظور نہیں ہوا اور ارسا کے پاس کیس گیا تھا کراچی کو مزید پانی دینے کے لیے لیکن دریائے سندھ سے کراچی کے لیے مزید پانی نہیں مل سکا

اب دیکھا جائے تو زمینی حقائق یہ ہیں کہ پچھلے 20 سال سے کراچی کو کوئی ایک قطرہ بھی اضافی پانی نہیں مل سکا جبکہ ابادی کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے اور سرکاری اعداد و شمار بھی دیکھے جائیں تو 2025 میں ڈھائی کروڑ کی آبادی ہو جائے گی جس کے لیے 2400 کیو سک پانی درکار ہوگا اور اس وقت 1200 کیوسک پانی کینچھر جھیل میں دریائے سندھ سے آتا ہے اور اب مزید 1200 کیو سک پانی دریائے سندھ سے کے بی فیڈر کے ذریعے کینجھر جھیل تک پہنچانے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے جس کا گزشتہ روز خود وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے موقع پر معائنہ کیا کراچی کے لیے دوسرا بڑا سورس ہب ڈیم ہے جہاں سے 100 ملین گیلن پانی لانے کے لیے ایک پرانی ہب کینال موجود ہے لیکن وہ بوسیدہ ہو چکی ہے

اس میں سے 100 ملین گیلن پانی نہیں پہنچ پاتا بلکہ 60 سے 65 ملین گرن پانی ہی آپاتا ہے اب اس نے بہتر کر کے دوبارہ وہاں سے 100 ملین گلن پانی لینے کی منصوبے پر کام ہو رہا ہے اور اس کے علاوہ 100 ملین گیلن پانی اضافی حب کینال ٹو کے ذریعے لانے پر منصوبے پر کام ہو رہا ہے جو دسمبر 2025 یا 26 میں مکمل ہو سکے گا ۔ کوٹری معراج سے جو کے بی فیڈر کنال پانی لے کر ٹھٹھا اتی ہے اس کے پشتے اور کنارے کچے ہیں اس لیے پانی کا رساؤ ہو جاتا ہے اب اس کو پختہ کرنے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے 38 کلومیٹر طویل اس کینال کو سیمنٹ سے پختہ کر دیا جائے گا تو 500 کیو سک پانی بچ جائے گا جو کراچی کو فراہم کرنے میں کام ائے گا ۔

اس کے علاوہ حب سے 100 ملین گیلن اضافی پانی مل جائے گا تو کافی صورتحال بہتر ہو جائے گی
لاہور پشاور کوئٹہ جیسے شہروں سے اگر کراچی کا موازنہ کیا جائے تو یہ بالکل مختلف شہر ہے یہاں 140 کلومیٹر دور سے پانی پہنچایا جاتا ہے انے والے دنوں میں جو منصوبے زیر

غور ہیں جن پر کام ہو بھی رہا ہے ان میں ہنجر جھیل میں پانی کا ذخیرہ بڑھایا جانا ہے اور اب ڈیم کی گنجائش کو بڑھانے کے لیے اس کی دیواریں اونچی کرنی ہوں گی تاکہ وہاں زیادہ پانی ذخیرہ کیا جا سکے اور وہ کراچی اور بلوچستان دونوں کے کامآ سکے اس سلسلے میں سندھ حکومت کی واپڈا اور بلوچستان حکومت سے بات چیت ہو چکی ہے اور اس پر کام جاری ہے
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے وفاق اور سندھ حکومت کے اشتراک سے بننے والے کے بی فیڈر منصوبے پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے، امید ہے اس سال کے آخر تک 40 فیصد کام مکمل ہوجائےگا۔ْ منصوبے کے پہلے مرحلے میں کے 4 واٹر سپلائی پروجیکٹ فیز 1 کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کےلیے 510 کیوسک کے کینال کی لائننگ کی جا رہی ہے۔ آئندہ سال مکمل ہو نے پر کے بی فیڈر سے کراچی کو 260 ملین گیلن پانی یومیہ ملےگا جس سے شہر میں پانی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملےگی۔۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ مکمل ہونے سے طویل عرصےسے پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے کراچی کی صورتحال میں تیزی سے بہتری کی امید ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کلری بگھار ( کے بی ) فیڈر پروجیکٹ شہر کو پانی کی سپلائی بڑھانے کا اہم منصوبہ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ اور وفاقی وزارت آبی وسائل کے مشترکہ منصوبے کے بی فیڈر پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔ 2025 کے آخر تک منصوبے کا 40 فیصد مکمل ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں کینال کی لائننگ اور پشتے مضبوط کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ 510 کیوسک کے کینال سے کے 4 منصوبے کے پہلے مرحلے کی ضروریات کےلیے کافی مقدار میں پانی دستیاب ہوگا۔ آئندہ سال جب کے بی فیڈر مکمل ہوگا تو کراچی کو 260 ملین گیلن اضافی پانی روزانہ سپلائی کیا جائےگا۔ کے بی فیڈر سے پانی کینجھر جھیل سے سپلائی کیا جائےگا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے بی آر ٹی بس سروس کو پورے سندھ میں توسیع دینے کا اعلان کیا۔ دریں اثنا ءحب ڈیم اور حب کینال کی تعمیر اور بحالی کے کام کا معائنہ کرنے کےبعد میڈیا سے بات کرتے ہوئےوزیراعلیٰ سندھ کا کہناتھاکہ دفتر میں بیٹھ کر پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد حب کینال کی سائٹ پر آ کر جائزہ لینے سے زیادہ بہتر معلومات ملی ہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=iqjP-816lEQ























