نامور صحافیوں حامد میر اسد طور مطیع اللہ جان اور خاتون وکیل ایمان مزاری کو سزائے موت ، ثاقب نثار اور باجوا کی گرفتاری کا مطالبہ کیوں ؟ جرم کی نوعیت اور سزا کا تعین کیسے ؟


نامور صحافیوں حامد میر اسد طور مطیع اللہ جان اور خاتون وکیل ایمان مزاری کو سزائے موت ، ثاقب نثار اور باجوا کی گرفتاری کا مطالبہ کیوں ؟ جرم کی نوعیت اور سزا کا تعین کیسے ؟

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے نامور صحافیوں حامد میر مطیع اللہ جان اور اسد طور کو سزائے موت اور تیری مزاری کی صاحبزادی مزاری کو گرفتار کر کے سزائے موت دینے کا مطالبہ سامنےآیا ہے جبکہ ثاقب اور باجوا کو بھی گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ ان کے جرم کی نوعیت اور سزا کا تعین کیسے کیا گیا یہ بھی ایک سوال ہے ۔ یہ سارے مطالبات سوشل میڈیا پر مشہور وی لاگر

میٹھا جی نے اپنے ایک تازہ وی لاگ میں کیے ہیں جو سیاسی ڈیرہ کے نام سے سوشل میڈیا چینل چلاتے ہیں اور ان کے تین لاکھ 31 ہزار سے زیادہ سبسکرائبر ہیں اور وہ اپنے کڑاکے دار اور دبنگ پروگراموں کی وجہ سے مشہور ہیں

اپنے تازہ وی لاگ میں انہوں نے پاکستان کے سینیئر صحافیوں وکلا جرنیلوں ججوں کو احتساب کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے ان کے پروگرام کا عنوان ہے جنرل باجوا کا نمبر لگ گیا ثاقب نثار کیوں نہیں

نیازی کے مذاکرات کیوں ؟ اس پروگرام میں انہوں نے سینیئر صحافیوں حامد میر مطیع اللہ جان اور اسد طور سے نام لے کر باقاعدہ مطالبہ کیا ہے کہ ان کو گرفتار کیا جائے اور ان کو پھانسی دی جائے اور

ایسے چند درجن لوگوں کی قربانی سے پاکستان کے معاملات بہتر بنائے جا سکتے ہیں تو اس میں کیا مضائقہ ہے