
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا سیف سٹی کے ڈی ایچ اے ہیڈکوارٹر کا اچانک دورہ
ایمرجنسی ریسپانس گاڑیوں کو نادرا اور ایکسائز کے ساتھ مربوط کرنے کی ہدایت
شہر بھر میں 23 ایمرجنسی ریسپانس گاڑیاں مرحلہ وار تعیناتی کا بھی حکم
کراچی کو محفوظ اور اسمارٹ شہر بنانے کے عزم پر قائم ہیں، مراد علی شاہ
کراچی( 30 دسمبر) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں سیف سٹی اتھارٹی کے ہیڈکوارٹر کے اچانک دورے پر پہنچ گئے اور ہدایت دی کہ ہنگامی صورتحال میں فوری شناخت اور گاڑیوں کی رجسٹریشن کا ڈیٹا اسی وقت حاصل کرنے کےلیے ایمرجنسی ریسپانس گاڑیوں کو نادرا اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کے نظام کے ساتھ منسلک کیا جائے۔
وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ وزیر اعلیٰ کو ڈی جی سندھ سیف سٹی اتھارٹی آصف اعجاز شیخ نے منصوبے کی پیشرفت اور صلاحیتوں پر بریفنگ دی ۔
وزیر اعلیٰ نے کراچی کے سیکیورٹی انفرا اسٹرکچر کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر بنانے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ہنگامی حالات میں فوری کارروائی کےلیے بنائی گئی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایمرجنسی ریسپانس گاڑیاں سیف سٹی پروجیکٹ کا اہم حصہ ہیں، یہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے چہرے اور نمبر پلیٹ کی فوری شناخت کو یقینی بناتی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری کارروائی کی جاسکے۔
مراد علی شاہ نے ایمرجنسی ریسپانس گاڑیوں کی افادیت کو بڑھانے کےلیے انہیں ڈیٹا کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ڈی جی سیف سٹی کو ہدایت کی کہ ایمرجنسی ریسپانس گاڑیوں کو نادرا اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کو سسٹم کے ساتھ مربوط کرنے سے ملزمان کی شناخت اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تفصیلات فوری طور پر حاصل کی جاسکتی ہیں اور کسی بھی ہنگامی حالت میں ٹارگٹڈ ایکشن لیا جاسکےگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہنگامی ردعمل کےلیے ڈیٹا تک فوری رسائی ضروری ہے۔
بریفنگ کے دوران پورے سیف سٹی انفرا اسٹرکچر کو نادرا اور ایکسائز سسٹم کے ساتھ مربوط کرنے کے وسیع منصوبے پر بھی غور کیا گیا تاکہ وسیع، باہمی مربوط نگرانی اور جوابی کارروائی کا نیٹ ورک تشکیل دیا جاسکے۔
وزیراعلیٰ نے کراچی بھر میں 23 ایمرجنسی ریسپانس گاڑیاں مرحلہ وار تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔ پہلی 5 گاڑیاں فوری طور پر تعینات کی جائیں گی جبکہ باقی 18 گاڑیاں آئندہ دو ماہ کے دوروان آپریشنل کردی جائیں گی۔ انہوں نے کراچی کی سیکیورٹی صلاحیتوں میں اضافے کےلیے مقررہ مدت پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
سیف سٹی پروجیکٹ کی مجموعی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے سیف سٹی حکام کو ہدایت کی کہ پورے منصوبے کو 2025 میں مکمل کرنے کےلیے کوششیں تیزکریں۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کے تحفظ اور ہنگامی کارروائی کی صلاحیتوں میں اضافے سے کراچی کو محفوظ اور اسمارٹ شہر بنانے کےلیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آخر میں مقررہ وقت کے دوران محنت اور جانفشانی سے منصوبے کی تکمیل کی ضرورت پر زور دیا۔
عبدالرشید چنا
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ























