جدید گاڑیوں کے نام پر لوٹ مار کب تک


تحریر ۔۔شہزاد بھٹہ
یہ تحریر جون 2020 میں لکھی گئی تھی آج کل ایک ایسی گاڑی کے حادثے کو لے سب لوگ بیکار ترین اور جان لیوا گاڑیوں کے بارے پوسٹ شیئر کر رھے ہیں

چند دن پہلے کسی نے سوشل میڈیا پر موٹر وے پر ایک حادثے کی تصویر اپ لوڈ کی ۔۔

۔تباہ حال گاڑی کی حالت دیکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ھو گیا کہ اج کل پاکستان میں مختلف کاریں بنانے والی کمپنیاں چاروں ھاتھوں سے پاکستانی عوام لوٹ رھی ھیں۔۔۔
دنیا میں اصول ھے کہ وہ اپنے عوام کی حفاظت کرتیں ھیں اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتیں ۔۔۔

۔ہاکستان میں جوں جوں گاڑیوں کی قیمت بڑھتی جارھی ھیں ان کی کوالٹی بد سے بدتر ھوتی جارھی ھیں
گاڑی کی باڈی ذرا ملاحظ فرمائیں کتنی باریک چادر لگائی ھوئی ھے اس کو ذرا سا ھاتھ ماریں تو اندر چلی جاتی ھے اور ان کی قیمت چیک کریں


۔اخر کوئی ادارہ ھے جو ان گاڑیوں کی کوالٹی چیک کرے یا پھر وہ بھی پیسے لیکر سو جاتے ھیں ۔۔۔
جو گاڑیاں پانچ دس سال پہلے مارکیٹ میں اتیں تھی ان کی باڈی نہایت مضبوط ھوتی تھی
اب تو بس اللہ مالک ۔۔۔۔۔۔۔۔
===================

آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے اسسٹنٹ کنٹرولر کی لاش گھر سے برآمد، پولیس
انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) یونیورسٹی سکھر کے اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات اشتیاق میمن کی گھر سے لاش ملی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اشیاق میمن کی 2 بہنیں بھی گھر میں بےہوشی کی حالت میں ملی ہیں، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد صورتحال واضح ہوسکے گی۔

پولیس نے بتایا ہے کہ اشتیاق میمن کے رشتے داروں نے فون اٹینڈ نہ ہونے پر انکے گھر کا دروازہ توڑا اور دیکھا تو اشتیاق میمن کی لاش ملی۔