
بے نظیر اور نواز شریف نے جب سمجھوتے کیے تھے تو ان کی سیاسی مقبولیت اتنی زیادہ نہیں تھی
کراچی اسٹاف رپورٹر
سیاسی حلقوں کا دعوی ہے کہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کی کنجی عمران خان کے پاس ہے اگر عمران خان اپنے موقف سے پیچھے ہٹتے ہیں تو حالات بہتر ہو جائیں گے ورنہ ملک کے مستقبل پر دھند چھائی رہے گی اور ترقی سوالیہ نشان بنی رہے گی اس لیے ضروری ہے کہ عمران خان پیچھے ہٹ جائیں ذرائع یہ بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ عمران خان اس وقت بہت زیادہ طاقتور پوزیشن پر ہیں جب بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتے کیے تھے تو ان کی پوزیشن صفر تھی اور نہ ہی دونوں مقبولیت کی بلندیوں پر تھے شاید عمران خان کو بھی اپنی اس پوزیشن کا ادراک ہو گیا ہے اس لیے وہ اپنی شرائط منوانے پر ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ عمران خان کو بالاخر ایک دن جھکنا پڑے گا کیونکہ پاکستان میں کوئی سیاست دان اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر اگے نہیں بڑھ سکتا اس لیے مناسب ہے کہ عمران خان ہار مان لیں اس سوال کے جواب میں کہ عمران خان کے پیچھے ہٹنے کا کا مطلب کیا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ سب سے پہلے تو وہ نو مئی کی معافی مانگ لیں اور اس کے بعد ملک میں دوبارہ انتخابات کے مطالبے سے بھی دستبردار ہو جائیں























