جب بلاول کے بارے میں وزیراعلی سندھ کا اندازہ بھی غلط نکلا ، وزیراعلی سمجھے بلاول ایک دو دن میں اپنی بات بھول جائیں گے اور وہ اس مشکل کام سے بچ جائیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔


جب بلاول کے بارے میں وزیراعلی سندھ کا اندازہ بھی غلط نکلا ، وزیراعلی سمجھے بلاول ایک دو دن میں اپنی بات بھول جائیں گے اور وہ اس مشکل کام سے بچ جائیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اس وقت گہری سوچ میں پڑ گئے جب ان کا اندازہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں غلط نکلا وہ سمجھ رہے تھے کہ بلاول نے جو بات کی ہے ایک دو دن میں وہ بھول جائیں گے اور یہ معاملہ دب جائے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا بلاول نے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد ایک شام وزیراعلی سے کہا کہ مسٹر چیف منسٹر میں چاہتا ہوں کہ تمام متاثرین کو گھر بنا کر دوں ۔ وزیراعلی نے بلاول کی بات سنی اور ا کر اپنے کچھ اہم لوگوں سے صلاح مشورہ کیا جو اعداد و شمار سامنے ائے وہ مشکل کام تھا اس لیے وزیر اعلی نے کہا کہ اس کام کو چھوڑ دیتے ہیں بلاول خود ایک دو دن میں اس بات کو بھول جائیں گے اور معاملہ دب جائے گا لیکن اگلے ہی روز بلاول نے پھر چیف منسٹر سے پوچھا کہ میں نے اپ کو کام دیا تھا اس کا کیا کیا ۔ اس پر مراد علی شاہ کو اندازہ ہوا کہ یہ کام سنجیدہ ہے اور بلاول بھولیں گے نہیں اس کام کے لیے کچھ کرنا پڑے گا پھر انہوں نے تفصیلات بیان کی اور بتایا کہ اس کے لیے بہت سے فنڈز درکار ہوں گے حکومت کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے اعداد و شمار کے مطابق 20 لاکھ سے زیادہ گھر بنا کر دینے تھے جس کے لیے اربوں روپے نہیں اربوں ڈالر درکار تھے بلاول نے کہا اپ فنڈز کی پرواہ مت کریں جہاں سے فنڈز ہم جنریٹ کر سکیں گے کریں گے اپ اپنی تیاری کریں پھر بلاول بھٹو زرداری وزیر خارجہ کی حیثیت سے وزیراعظم کے ساتھ جنیوا گئے اور وہاں کانفرنس میں پاکستان کا کیس پیش کیا اور اس کانفرنس میں جتنے بھی پروجیکٹس پیش کیے گئے جب ہم وہاں سے باہر نکلے تو سب سے زیادہ جو فنڈز جمع ہوئے تھے وہ سندھ کی ہاؤسنگ اسکیم کے لیے تھے اس طرح بلاول کی کامیاب ایک عملی سے ہمیں کامیابی حاصل ہوئی حوصلہ ملا اور ہم نے کام اگے بڑھایا ۔
سندھ میں 21 لاکھ سلام متاثرین کے گھر نئے سرے سے تعمیر کرنے کا مشکل کام شروع ہوا یہ 600 ارب روپے سے زیادہ کا پروجیکٹ بن چکا ہے دنیا میں کبھی اتنی بڑی تعداد میں گھر دوبارہ نہیں بنے سب سے بڑا ریکارڈ نیپال کا تھا جہاں سات لاکھ گھر بنائے گئے تھے اور اسی طرح کشمیر کے زلزلے کے بعد چھ لاکھ سے زیادہ گھر بنے تھے لیکن یہاں 21 لاکھ گھر بنانے تھے اور ایک کروڑ 60 لاکھ لوگوں کو اباد کرنا تھا یہ کسی ایک جگہ پر بھی نہیں تھے بلکہ 27 اضلاع میں پھیلے ہوئے تھے اتنی بڑی رقم کا بندوبست کرنا اور پھر اس کو ٹرانسپیرنٹ طریقے سے ان تک پہنچانا اور گھر بنانا بہت بڑا چیلنج تھا چھ بڑی معروف این جی اوز کی خدمات حاصل کی گئیں پہلے فوج اور ڈپٹی کمشنرز نے گھر گھر کا سروے کر کے بتایا کہ 21 لاکھ گھر ہیں جو متاثر ہوئے ہیں اور ان کو دوبارہ تعمیر کرنا ہے اس کے بعد چھ این جی اوز نے گھر گھر جا کر دوبارہ تصدیق کی اور پھر ہم نے ان تمام متاثرین کو براہ راست ان کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا 90 فیصد لوگوں کے بینک اکاؤنٹ نہیں تھے اس طرح پہلے مرحلے میں 8 لاکھ لوگوں کے بینک اکاؤنٹ کھولے گئے اٹھ لاکھ خواتین براہ راست مستفید ہوئیں ان کو زمین کے مالکانہ حقوق دینے کا فیصلہ ہوا ۔ تین لاکھ روپے فی متاثرہ خاندان کو دینے کا فیصلہ ہوا پہلی قسط 75 ہزار روپے کی تھی جس کے ساتھ وہ بنیاد رکھتا ہے اور اس کے بعد دوسری کیس ایک لاکھ روپے کی جس کے ذریعے وہ دیواریں کھڑی کرتا ہے اور پھر تیسری کیس جس کے ذریعے وہ چھت ڈالتا ہے تیسری قسط بھی ایک لاکھ روپے کی ہے اور جب چھت پڑ جاتی ہے تو پھر باقی 25 ہزار روپے دروازے کھڑکیوں کے لیے رنگ روغن کے لیے دیے جاتے ہیں یوں اٹھ لاکھ مکانات تعمیر کر کے نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا جا چکا ہے اور دسمبر 2025 تک 21 لاکھ گھر مکمل ہو جائیں گے اس کام کے لیے ورلڈ بینک ایشین ڈیویلپ بینک بینک اسلامک بینک سمیت سب مالیت اداروں نے سندھ گورنمنٹ کے اس منصوبے کو کامیابی سے اگے بڑھایا

4 ہزار گھر باہر بیٹھے پاکستانیوں نے گود لیے 87 ہزار گھر لوگوں نے خود بنائے ایک لاکھ لوگوں کے گھر اس لیے روک دیے گئے کہ وہ دریا کے اندر کچے علاقے میں بیٹھے تھے جہاں گھر بنانا غیر قانونی ہے اب ان کے لیے الگ زمین کا بندوبست کر کے ان کو گھر بنا کر دیے جائیں گے ۔ اپ اندازہ لگائیں کہ ایک کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ لوگ اس منصوبے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں یہ 154 ملکوں کی ابادی سے بڑی ابادی بنتی ہے گویا سندھ حکومت اس وقت دنیا کے 154 ملکوں کی بڑی ابادی سے بڑا منصوبہ چلا رہی ہے ۔ وزیراعلی کے مطابق اب صوبائی حکومت کا یہ منصوبہ ہے کہ پورے صوبے میں جتنے بھی کچے مکانات ہیں ان کو پکا کیا جائے گا ایک مرتبہ سیلاب متاثرین کے متاثرہ گھروں کی تعمیر نو کا منصوبہ مکمل ہو جائے تو اس کے بعد تمام کچے گھروں کو پکے گھروں میں تبدیل کیا جائے گا اس کے لیے جو بھی فنڈز درکار ہوں گے سندھ حکومت ان کا بندوبست کرے گی اور لوگوں کو پکے پختہ گھر بنا کر دے گی تاکہ انے والے برسوں میں کسی بھی بڑی طوفانی بارش یا برسات کے پانی یا سیلاب سے ان کے کچے گھر بہہ نہ جائیں ۔

https://www.youtube.com/watch?v=FwsYC4y5Z7M