
کراچی: وزیر بلدیات، ہاوسنگ و ٹاٶن پلاننگ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ نۓ صوبے کی بات ایک شوشہ ہے زہنی فتور ہےنیا صوبہ بنۓ گا تو کتنی اسمبلیاں کتنے دفاتر بنانے ہوں گے؟ بلدیات کا نظام سب سے ذیادہ بااختیار سندھ کا ہے جمہوریت کے جو لوگ چمپین بنتے ہیں انہوں نے بلدیاتی اداروں کو معطل کردیا تھا ہم بلدیاتی اداروں کو مذید بااختیار کررہے ہیں یہ بات انہوں نے ہفتے کے روز ایسوسی ایشن آف بلڈرز (آباد) کے آفس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوۓ کہی انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت بہتری کرکے دکھاۓ گی ہم صرف کراچی میں نہیں پورے سندھ میں کام کر کے دکھاٸیں گے ہمیں پتا ہے شہر کی سڑکوں کی صورتحال خراب ہے چیٸرمین بلاول بھٹو کی ہدایت اور وژن کے تحت شہر کے انفرا اسٹریکچر پر کام کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ وفاق سے ہمیں چند فیصد حصہ ملتا ہے کراچی کے لیے وفاق کی کیا کوٸ زمہ داری نہیں ہے؟ مگر سیاسی جماعتیں عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ہم پر تنقید کرتے ہیں ہماری نیت پر شق نہ کیا جاۓ ہم بہتری کی جانب جانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ادارے میں جس افسر کے خلاف شکایت ہوتی ہے فوراً ایکشن لیتے ہیں کوئی بھی افسر ایسا نہیں جس کے خلاف ایکشن نہ لیا جاسکتا ہو جو افسر اپنے آپ کو طاقتور سمجھتا ہے اس کے خاف فوری ایکشن لیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ستاٸیسویں ترمیم کراچی اور آباد والوں کے لیے ہے ستاٸیسویں ترمیم میں عوام کی بھی بہتری ہے کراچی واحد شہر ہے جہاں لوگ گھومنے نہیں بلکہ بسنے کے لیے آتے ہیں انہوں نے کہا کہ نسلہ ٹاور کی مثال ہمارے سامنے ہے متاثرین آج تک پریشان ہیں ہم نے نسلہ ٹاور بچانے کے لیے باقاعدہ بل بھی منظور کرایا تھا عدالتوں کا احترام کرتے ہیں ماضی میں عدالتوں سے جو کمنٹس اور فیصلے آتے تھے وہ سب کے سامنے ہے ناصر شاہ نے کہا کہ درست بات پر ہم افسران کے خلاف لازمی ایکشن لیتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ کراچی میں کام کیا جاۓ پالیسی اور باٸ لاز بناۓ جارہے ہیں جس طرح قانون کی خلاف ورزی کی گٸ دبٸ میں کوٸ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا زمین کے معاملات کو دیکھا جارہا ہے زمین کے معاملات کو آباد کے لوگ خود بھی دیکھیں گے اگر کوٸ قبضہ کرتا ہے تو وہ بھی کوٸ ڈویلپرز یا بلڈر ہی ہو گا ناصر شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو کا بہتری اور امن کا وژن ہے وزیر اعلیٰ سندھ بلاول کے مشن کو آگے بڑھانے میں پیش پیش ہیں بلڈر ایک اہم شعبہ ہے تعمیراتی صنعت کے چلنے سے ہزاروں لوگوں کو روزگار ملتا ہے آباد کے ممبران کے مساٸل کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں آباد کے ممبران کو جو سہولتیں درکار ہیں فراہم کی جاۓ گی کچھ ایشو ہیں جن کو مل کر حل کریں گے عوام کی سہولت کے لیے تمام وساٸل بروۓ کار لاٸیں گے جو اسکیم شروع کی گٸ ہیں ان کو انجام تک پہنچایا جاۓ گا ماضی میں جو غیر قانونی تعمیرات ہوٸ ہیں اس کو دیکھا جارہا ہے ایک سوال کے جواب میں ناصر شاہ نے کہا کہ ملک اور فوج کے لیے ہماری جان حاضر ہے ہماری افواج نے انڈیا کو منہ توڑ جواب دیا پاک فوج کے جوان ہمارے لیے اپنی جان قربان کررہے ہیں
=================
بشریٰ بی بی فیض حمید کیلئے کام کرتی تھیں: خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی سابق انٹیلی جنس سربراہ جنرل فیض حمید کے لیے کام کرتی تھیں، بشریٰ بی بی کی دی گئی معلومات چند روز میں درست ثابت ہو جاتی تھیں۔
جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے اکانومسٹ کی خبر کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی مکمل طور پر فیض حمید اور جنرل باجوہ کے کنٹرول میں تھے، جنرل عاصم منیر کی رپورٹ پر بانی پی ٹی آئی نے ناراض ہو کر انہیں ہٹا دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیا، طاقت کے لیے ایک خاتون کو لانچ کیا گیا، چار پانچ سال کی لوٹ مار ایک منصوبے کے تحت کی گئی۔ لوٹ مار کے پیسے سے بانی پی ٹی آئی کو حصہ ملتا تھا، باقی پیسہ باہر گیا۔
عمران خان برطانوی جریدے میں چھپنے والے مضمون سے آگاہ ہیں
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں پلان کے تحت فیصلے ہوئے۔ پنجاب جیسے صوبے کے ساتھ سنگین مذاق ہوا، آکسفورڈ سے پڑھ کر بھی یہ سب کرنا افسوسناک ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عدلیہ کے تبادلوں پر نیا قانون دنیا کے مطابق ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس کے خواب دیکھے ہوئے تھے وہ نہ بن سکے، عدلیہ آزاد ہونی چاہیے مگر ثاقب نثار اور اعجاز الاحسن والے انداز میں نہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ فیض حمید عدالتوں اور بانی پی ٹی آئی دونوں کو کنٹرول کر رہے تھے، ملک کی کمانڈ جادو ٹونے کے حوالے کر دی گئی تھی، بشریٰ بی بی دشمن ملک کے ہاتھ لگ جاتیں تو سنگین خطرات پیدا ہوسکتے تھے۔























