حیدرآباد: پٹاخے بنانے والی فیکٹری میں دھماکا، 3 افراد جاں بحق، 5 زخمی

حیدر آباد کے علاقے لطیف آباد میں پٹاخے بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 3 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے۔

ریسکیو اور پولیس اہلکار موقع پر موجود ہیں، دھماکے کے بعد عمارت میں لگی آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر ایک گھر میں پٹاخے بنانے کی فیکٹری بنائی گئی تھی، پٹاخے ایک کمرے میں بنائے جا رہے تھے، جو تباہ ہو گیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر لطیف آباد کے مطابق غیر قانونی طور پر ایک گھر میں پٹاخے بنانےکی فیکٹری بنائی گئی تھی، پٹاخے ایک کمرے میں بنائے جا رہے تھے۔

ریسکیو حکام کے مطابق دھماکےکے بعد عمارت میں لگی آگ بجھانےکی کوششیں جاری ہیں۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہےکہ فیکٹری رہائشی علاقے سے باہرکھیتوں کے قریب بنائی گئی تھی، دھماکے اور آگ لگنے سے فیکٹری کا کچھ حصہ گرگیا ہے۔

========================

صوبہ خیبرپختونخواہ کے اضلاع بنوں اور لکی مروت میں پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے مشترکہ آپریشن میں 5 خوارج مارے گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تختی خیل کے سرحدی علاقے میں فتنۃ الخوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلعی پولیس اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ طور پر ایک اہم اور فیصلہ کن آپریشن کیا، ڈی آئی جی بنوں سجاد خان نے کی قیادت میں ہونے والے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں فتنۃ الخوراج کے 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، آپریشن میں تمام پولیس اہلکار محفوظ رہے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ آپریشن ریجنل پولیس افسر بنوں سجاد خان کی نگرانی میں ہوا، ان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخواہ پولیس کے جوان امن و امان کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر دم تیار ہیں اور یہ کارروائیاں اسی عزم کا عملی ثبوت ہیں، آپریشن کے دوران عوام کی بھرپور امداد اور تعاون پولیس کو حاصل رہا، علاقہ مکینوں نے پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر مشکوک سرگرمیوں سے متعلق مسلسل معلومات فراہم کیں جس سے کارروائی کو کامیاب بنانے میں بڑی مدد ملی۔

آئی جی پی خیبرپختونخواہ ذوالفقار حمید نے بنوں اور لکی مروت پولیس کی بروقت اور مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ خوارج کے خاتمے کے لیے ایسی کامیاب کارروائیاں علاقے میں دیرپا امن کو یقینی بنائیں گی، خیبرپختونخواہ پولیس کی جانب سے اس طرح کی کارروائیاں جاری رہیں گی، جس کے ذریعے دہشت گردوں کو کہیں بھی محفوظ پناہ گاہ نہیں ملنے دی جائے گی اور مشترکہ آپریشن امن کے استحکام کے لیے جاری رہے گا۔
اردو پوائنٹ ویڈیوز