
نادر گُرامانی شائع November 15, 2025 اپ ڈیٹ 2 گھنٹے پہلے
صدر آصف علی زرداری نے ہفتے کے روز 3 بلوں کی منظوری دے دی ہے، جن میں وہ بل بھی شامل ہے جس کے تحت چیف آف دی آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدتِ ملازمت کو بطور چیف آف دی ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) تقرری کے بعد دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔
صدر نے پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2025، پاکستان ایئر فورس (ترمیمی) بل 2025، اور پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دی، ان منظوریوں کے نوٹیفکیشنز بھی پیپلز پارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیے گئے۔
صدر کی منظوری کے بعد یہ بل اب آئین کا حصہ بن چکے ہیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے رواں ہفتے قومی اسمبلی میں وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب سی ڈی ایف کی 5 سالہ مدتِ ملازمت ان کی تقرری کے نوٹیفکیشن کی تاریخ سے شروع ہوگی۔
یہ تمام تینوں قانون سازی کے مسودے، جنہیں رواں ہفتے بغیر کسی بحث کے جلد بازی میں پارلیمنٹ سے منظور کرلیا گیا تھا، متنازع 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق ہیں۔
ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے قیام اور فوجی قیادت کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کی راہ ہموار ہوئی ہے، اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔
نئی ترامیم کے تحت آرمی ایکٹ میں ’چیف آف دی آرمی اسٹاف‘ کی اصطلاح کو 27ویں ترمیم کے مطابق ’چیف آف دی ڈیفنس فورسز‘ سے تبدیل کر دیا جائے گا، اسی طرح ’چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی‘ (سی جے سی ایس سی) کی اصطلاح کو ’کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ‘ سے تبدیل کیا جائے گا۔
مزید برآں، پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کی شق 8A میں ترمیم کی گئی ہے، جس کے مطابق ’یہ شرط عائد کی جاتی ہے کہ پہلی بار چیف آف دی آرمی اسٹاف کو بیک وقت چیف آف دی ڈیفنس فورسز کے طور پر آئین کے آرٹیکل 243 کی شق 4 کی پیراگراف (اے) کے تحت مقرر کیے جانے کی صورت میں، اس عہدے کی مدتِ ملازمت کا آغاز اس کے نوٹیفکیشن کی تاریخ سے ہوگا۔
ایک اور ترمیم نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر کی تقرری سے متعلق ہے، جس کے مطابق ’وزیر اعظم، چیف آف دی آرمی اسٹاف (جو بیک وقت چیف آف دی ڈیفنس فورسز بھی ہوں) کی سفارش پر پاکستان آرمی کے جرنیلوں میں سے کسی کو 3 سالہ مدت کے لیے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کر سکتے ہیں۔
ترمیم وزیر اعظم کو مزید اختیار دیتی ہے کہ وہ سی ڈی ایف کی سفارش پر کمانڈر کو مزید 3 سال کی مدت کے لیے دوبارہ تعینات یا توسیع دے سکیں۔
ترامیم کے تحت یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی تقرری، دوبارہ تقرری یا توسیع، یا اس ضمن میں تقرری کرنے والے اتھارٹی کی صوابدید، کسی بھی بنیاد پر کسی عدالت میں چیلنج نہیں کی جاسکے گی۔
مزید برآں، وفاقی حکومت، آرمی چیف اور بیک وقت سی ڈی ایف کی سفارش پر تحریری حکم کے ذریعے فوج میں تعینات وائس چیف آف دی آرمی اسٹاف یا ڈپٹی چیف آف دی آرمی اسٹاف کو وہ تمام اختیارات سونپ سکتی ہے، جو کسی بھی قانون، قواعد، ضوابط، احکامات یا ہدایات کے تحت چیف آف دی آرمی اسٹاف کو حاصل ہوتے ہیں۔
اسی دوران، ایئر فورس اور نیوی کے قوانین میں کی گئی ترامیم کے ذریعے ان کے دستاویزات سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے عہدے کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
======================
بنوں: پولیس اور شہریوں کا لکی باؤنڈری پر آپریشن، 5 دہشتگرد ہلاک
بنوں (15 نومبر 2025): پولیس اور شہریوں نے لکی باؤنڈری پر آپریشن کرتے ہوئے 5 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔
ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان نے آپریشن کی قیادت کی۔ انہوں نے بتایا کہ بنوں ریجن میں دہشتگردی کے خاتمے کیلیے پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔
سجاد خان نے بتایا کہ عوام نے بھی اس آپریشن میں پولیس کے شانہ بشانہ بھرپور حصہ لیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عوام اور پولیس کا یہ اتحاد اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، ان شاء اللہ عوامی طاقت سے ہی دہشتگردوں کا خاتمہ کریں گے۔
اس سے قبل خبر سامنے آئی کہ لکی مروت اور بنوں کے سرحدی علاقے شیخ لنڈک میں مقامی قبائل اور دہشتگردوں میں جھڑپ ہوئی۔ پولیس اور مقامی قبائل کی فائرنگ سے 4 مبینہ دہشتگرد مارے گئے۔
تین روز قبل سی ٹی ڈی بنوں نے انٹیلی جنس بیسڈآپریشن کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے انتہائی مطلوب 2 ٹارگٹ کلرز ہلاک کر دیے تھے تاہم دہشتگردوں کے دیگر 2 ساتھی فرار ہوگئے تھے۔
ہلاک دہشتگردوں کی شناخت فضل اللہ عرف فیض اللہ اور سفیر الرحمان کے ناموں سے ہوئی تھی، دونوں دہشتگرد پولیس اہلکاروں پر حملوں اور دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔
آپریشن کے دوران کلاشنکوف، پستول، ہینڈ گرنیڈ، موبائل فونز اور کالعدم تنظیم کا کارڈ برآمد کر لیا گیا۔























