
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ مستعفی ہونے والے ججز ایسے تھے جیسے پارٹیز تھیں، کیا نواز شریف کو حکومت سے نکالنے کا فیصلہ آزادانہ تھا۔
ملک محمد احمد خان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان ججز کا انصاف اور سزا صرف ایک پارٹی کے لیے تھی، عمر عطا بندیال کے فیصلے متعصبانہ تھے، جس کا دل کرتا ہے منتخب لوگوں کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیتا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ جج صاحبان کے استعفوں کا سلسلہ ابھی رکے گا نہیں، آئین کا حلیہ بگاڑ دیا گیا تھا، ایک عرصے سے کہہ رہے تھے کہ پارلیمنٹ کو اس کا حق دیا جائے۔
ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ آئین کو اپنی اصل روح کے مطابق واپس لایا جا رہا ہے، 27ویں آئینی ترمیم پر ایک سیاسی جماعت سیاست کر رہی ہے۔
==========================
وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد کچہری دھماکے کیلئے خودکش جیکٹ تیار کرنے والے کو درزی گرفتار کرلیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کچہری دھماکے میں استعمال ہونے والی خودکش جیکٹ تیار کرنے والے درزی کو گرفتار کیا گیا ہے، پشاور میں تیار کی جانے والی خودکش جیکٹ اسلام آباد لانے والا سہولتکار بھی پکڑا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں دھماکے کے لیے استعمال ہونے والی خودکش جیکٹ پشاور میں تیار کی گئی، یہ جیکٹ کچھ دن ایک ٹیلر کے پاس رکھی گئی، جسے معلوم تھا یہ خودکش جیکٹ ہے، انٹیلیجنس اداروں نے اس ٹیلر کو بھی گرفتار کیا ہے جب کہ تفتیش کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ خودکش جیکٹ کو پشاور سے گڑ کی بوری کے ذریعے اسلام آباد لایا گیا۔
ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سہولتکار اور درزی کی گرفتاری کے بعد تحقیقات جاری ہیں جن سے تفتیش کے دوران مزید اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں، انٹیلیجنس ادارے اس معاملے میں تمام پہلوؤں کو زیرِ تفتیش رکھے ہوئے ہیں تاکہ ناصرف حملے کے منصوبہ سازوں تک پہنچنے میں مدد ملے بلکہ مستقبل میں ایسے اقدامات کو روکنا بھی ممکن ہو۔
اس سے پہلے اسلام آباد کچہری خودکش حملے کے سہولت کار اور ہینڈلر کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے، اس حوالے سے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے سے پہلے سہولت کار اور خودکش بمبار دونوں نے کئی بار جوڈیشل کمپلیکس کی ریکی کی تھی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد میں خود کش حملہ کرنے والا دہشتگرد پاکستانی نہیں تھا، وانا اور اسلام آباد کے حملوں میں شواہد دیکھ کر ہم نے بھارت اور افغانستان کا نام لیا کیوں کہ وانا اور اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ حملوں کی تحقیقات میں بھارت اور افغانستان کے ممکنہ کردار کے شواہد سامنے آئے ہیں، حکومت ان شواہد کو متعلقہ ثالث ممالک کے ساتھ شیئر کرے گی تاکہ دہشتگردی کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔
=====================
حج 2026 کیلئے سخت طبی شرائط عائد کردی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے حج 2026ء کے لیے سخت ترین طبی قوانین نافذ کیے گئے ہیں، جن کے تحت بیمار یا کمزور عازمین کو ناصرف حج سے روکا جائے گا بلکہ سعودی عرب پہنچنے کی صورت میں فوری طور پر وطن واپس بھی بھیجا جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ حج 2026 کے لیے سعودی حکام کی ہدایات کی روشنی میں پاکستان نے بھی عازمینِ حج کے لیے سخت طبی شرائط عائد کی ہیں، اس حوالے سے وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حج 2026ء میں صرف وہی افراد سفر کر سکیں گے جو مقررہ معیار کے مطابق مکمل بنیادی صحت کے حامل ہوں، بیمار عازمین کو ڈی پورٹ کرنے کی پالیسی سختی سے نافذ کی جائے گی، وطن واپسی کے تمام اخراجات بھی متعلقہ عازم کو خود برداشت کرنا ہوں گے۔
وزارت کے ترجمان نے بتایا کہ گردوں کے مریض، ڈائیلاسز کرانے والے افراد، دل کے امراض میں مبتلا افراد، اور مشقت برداشت نہ کر سکنے والے مریضوں کو حج کی اجازت نہیں دی جائے گی، پھیپھڑوں اور جگر کے امراض میں مبتلا افراد، شدید اعصابی یا نفسیاتی بیماریوں، یادداشت کی کمزوری، ڈیمنشیا، الزائمر، رعشے اور شدید معذوری کے شکار افراد کے لیے بھی حج پر مکمل پابندی ہوگی۔
ترجمان وزارتِ مذہبی امور نے مزید کہا کہ حاملہ خواتین، کالی کھانسی، تپ دق، وائرل ہیمرجک فیور، اور کینسر کے مریضوں کو بھی حج کی اجازت نہیں ہوگی، میڈیکل افسر عازمین کے فٹنس سرٹیفکیٹ کا حتمی فیصلہ کرے گا اور جن افراد کو سفر کے قابل نہ سمجھا گیا انہیں حج پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سعودی عرب میں قائم خصوصی مانیٹرنگ ٹیمیں عازمین کے فٹنس سرٹیفکیٹس کی درستگی کی تصدیق بھی کریں گی۔























