30 سالہ یامین صبح جنگل میں لکڑیاں کاٹنے گیا تھا کلہاڑی کے وار کرکے قتل کردیا گیا

ملیر کوہی گوٹھ اکمل پاڑہ میں واقع پلاٹ سے 30 سالہ یامین ولد پیارو خان کی لاش ملی ،ایس ایچ او کے مطابق مقتول کو کلہاڑی کے وار کر کے قتل کیا گیا ہے،مقتول جمعہ کی صبح جنگل میں لکڑیاں کاٹنے گیا تھا،انہوں نے بتایا کہ لاش کے ساتھ کلہاڑی اور ایک رندا بھی ملا ہے جو اسی پلاٹ کے چوکیدار کا ہے،چوکیدار نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ وہ 10:30 بجے وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ مقتول کے ورثاء کے مطابق مقتول صبح 9 بجے مذکورہ پلاٹ میں کیا گیا،پلاٹ کے چوکیدار کا بیان مشکوک ہے اور اسے حراست میں لے کر واقعہ سے متعلق تفتیش کی جا رہی ہے، علاوہ ازیں عزیز آباد کے علاقے کریم آباد پل کے نیچے سے ایک شخص کی لاش ملی جسے اسپتال اور بعد ازاں سہراب گوٹھ ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا،متوفی کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
==================

لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شمس محمود مرزا مستعفی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ججز کے مستعفی ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور اب لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ دے دیا، اس سے پہلے سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ بھی مستعفی ہو چکے ہیں، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہونے کے باوجود 26 ویں ترمیم کے ذریعے جسٹس منصور علی شاہ کو چیف جسٹس آف پاکستان بننے سے محروم کر دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکرے کر دیا ہے، میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کےساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں کیوں کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا گیا، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو منقسم کرکے عدلیہ کی آزادی کو پامال کرنے سے ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا، اس نازک موڑ پر میرے لیے دو ہی راستے ہیں، 27ویں ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگی ہے اور انصاف عام آدمی سے دور، کمزور اور طاقت کے سامنے بے بس ہوگیا ہے۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے بھی استعفیٰ دے دیا، استعفے کے متن میں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ 11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا، ان تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئین پاکستان سے تھا، 27 ویں آئینی ترمیم سے قبل میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں، ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینےکی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اپنا استعفیٰ پیش کروں، آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا، خود کو یہ یقین دلانے کی کتنی ہی کوشش کروں، حقیقت یہی ہے آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ہے، نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہیں جو قوم نے عدلیہ پر کیا، تاریخ گواہ ہے اکثر اوقات یہ لباس خاموشی اور بے عملی کی علامت بن گیا، آنے والی نسلوں نے ان کو مختلف طور پر نہ دیکھا تو ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی جیسا ہی ہوگا، امید ہے آنے والے دنوں میں عدل کرنے والے سچائی کے ساتھ فیصلے کریں گے، اسی امید کے ساتھ میں آج یہ چُغہ آخری بار اتار رہا ہوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ فوری طور پر پیش کرتا ہوں، اللہ کرے، جو انصاف کریں، وہ سچائی کے ساتھ کریں۔
=================

صدر مملکت نے جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کرلیے,جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا تھا. جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کےساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا کہ 27 ویں ترمیم کی منظوری سے پہلے میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ اس میں تجویز کردہ شقوں کا ہمارے آئینی نظام پر کیا اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرآنے والی نسلیں انہیں کسی مختلف نظر سے دیکھیں گی، تو ہمارا مستقبل ہمارے ماضی کی نقل نہیں ہو سکتا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ ججوں کا لباس آخری بار اتارتے ہوئے سپریم کورٹ جج کے عہدے سے رسمی استعفیٰ پیش کرتا ہوں جو فوری طور پر مؤثر ہوگا۔

===============