قومی اسمبلی نے سینیٹ کی منظور شدہ 27 ویں ترمیم میں کیا تبدیلیاں کیں؟
13 نومبر ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (زیب النساء برکی) قومی اسمبلی نے سینیٹ کی منظوری شدہ 27 ویں ترمیم میں کیا تبدیلیاں کیں جسٹس آفریدی اپنی مدت ختم ہونے تک چیف جسٹس پاکستان کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ آرٹیکل 6 میں فیڈرل آئینی عدالت شامل، حلف سے متعلق ترامیم ختم۔ چیف جسٹس پاکستان کا تعین سینیاریٹی کے اصول پر ہوگا۔ قومی اسمبلی نے بدھ کے روز آئین (ستائیسویں ترمیم) بل 2025 منظور کر کے سینیٹ کی جانب سے پہلے منظور شدہ ورژن میں اہم تبدیلیاں کیں۔ اس ترمیم شدہ بل میں نئی قائم ہونے والی فیڈرل آئینی عدالت (FCC) کے دائرہ کار کی وضاحت کی گئی، ملک کے اعلیٰ ججوں کے عہدوں اور رینکنگ کی وضاحت کی گئی اور سینیٹ کے مسودے سے وہ کئی شقیں حذف کی گئیں جو مختلف آئینی عہدوں کے حلف سے متعلق تبدیلیوں کی تجویز دیتی تھیں۔ یہ ترامیم اس وقت اپنائی گئیں جب ایوان کے اکثریتی اراکین نے ان کی حمایت کی۔ اہم تبدیلیاں شق 2 میں کی گئی ہیں، جس نے آئین کے آرٹیکل 6(2A) میں ترمیم کی یہ شق اعلیٰ غداری کے جرائم سے متعلق ہے۔ قومی اسمبلی کے ورژن میں لفظ ʼفیڈرل آئینی عدالتʼ شامل کیا گیا تاکہ نئی قائم شدہ عدالت کو واضح طور پر آرٹیکل 6 کے دائرہ کار میں لایا جا سکے، جبکہ سینیٹ کے ورژن میں عدالت کا نام نہیں تھا۔ نیز قومی اسمبلی نے شق 2A شامل کی، جس نے آئین کے آرٹیکل 10(4) میں ترمیم کی، جو احتیاطی حراست سے متعلق ہے اور اس میں ʼسپریم کورٹʼ کے الفاظ شامل کیے گئے۔ اسی دوران قومی اسمبلی نے سینیٹ کی منظوری شدہ مسودے کی کئی شقیں حذف کر دییں جن میں شق 4، 19، 51 اور 55 شامل ہیں، جو مختلف آئینی عہدوں پر حلف کے متن میں تبدیلی تجویز کرتی تھیں۔ شق 4 نے آرٹیکل 42 میں ترمیم کی تجویز دی تھی، جو صدر کے حلف کے حوالے سے چیف جسٹس پاکستان کی موجودگی میں لینے کی شرط لگاتی ہے۔ شق 19 آرٹیکل 168 میں ترمیم کرتی، جو پاکستان کے آڈیٹر جنرل کی تقرری اور حلف سے متعلق ہے۔ شق 51 آرٹیکل 214میں ترمیم کرتی، جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر حلف لیتا ہے۔ شق 55 آرٹیکل 255(2) میں ترمیم کرتی، جو اس صورت حال کو کور کرتی ہے جب حلف مقررہ شخص کے سامنے نہیں لیا جا سکتا۔ تمام حلف سے متعلق شقیں قومی اسمبلی نے حتمی ورژن میں ختم کر دی ہیں۔ بیرسٹر علی طاہر نے دی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ سینیٹ کی منظوری شدہ 27 ویں ترمیم میں زیادہ تر ترامیم “ظاہری نوعیت کی ہیں” اور کچھ جگہوں پر صرف چھوٹے حوالہ جات شامل کیے گئے ہیں جیسے آرٹیکل 6 میں فیڈرل آئینی عدالت کا ذکر۔ تاہم سب سے اہم تبدیلی موجودہ چیف جسٹس پاکستان سے متعلق شق 23 میں کی گئی، جس نے آرٹیکل 176 میں ایک نئی شق شامل کی تاکہ یہ واضح ہو کہ “آئین کی کسی بھی شق کے برعکس، موجودہ چیف جسٹس پاکستان اپنی مدت کے دوران چیف جسٹس کے عہدے پر برقرار رہیں گے”
==========================
قومی اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے27 ویں آئینی ترمیم کی منظور ی دے دی
نیوز ڈیسک
November 12, 2025
اسلام آباد:قومی اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے27 ویں آئینی ترمیم کی منظور ی دے دی ۔ترمیم کے نتیجے میں چاروں صوبوں کی نمائندگی سے وفاقی آئینی عدالت قائم ہو گی ۔صدر مملکت اور گورنر کو اپنی مدت کے دوران کئے گئے فیصلوں پر تاحیات عدالتی استثنیٰ حاصل ہو گا۔
آئین کی 243 شق میں ترمیم کی منظوری سے ستائیس نومبر سے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔آرمی چیف کے پاس چیف آف ڈیفنس کا عہدہ بھی ہو گا۔شاندار کامیابی کے اعتراف کی صورت میں مارشل آف ائیر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے ٹائٹل متعارف کرائے گئے ہیں۔ تینوں ٹائٹل عمر بھر کے لئے ہوں گے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ سے منظور ہونے والی 27 ویں آئینی ترمیم پیش کی ۔ سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق نے”دستور ستائیسویں ترمیمی بل 2025″ کی 59شقوں کی شق وار منظوری لی۔
قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دو تہائی اکثریت سے 234 ارکان کے ووٹ سے حاصل کی ۔ اس موقع پر قائد ایوان وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی ایوان میں موجودرہے اپوزیشن کے 4 ارکان نے آئینی ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا ۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کوبتایا کہ دستور عدالت کے قیام کے بعد چیف جسٹس کے عہدے کے حوالے سے وضاحت کردی گئی ہے۔
وزیراعظم نے آئینی ترمیم کی منظور ی کے بعد ایوان کو مبارک باد پیش کی جس کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس کی کاروائی 13نومبر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کردی گئی ۔























