
کراچی (۔ ) مُمتاز صحافی اور ادیب شبیر سُومرو کے گزشتہ دِنوں بنگلہ دِِیش کے دورے سے واپسی پر سیر حاصل گفتگو کرنے کے لیے اُن کے اعزاز میں ایک نشست کا اہتمام کراچی پریس کلب کے رُکن حسن امام صدیقی نے گذِشتہ روز کراچی پریس کلب میں کیا، شبیر سومرو نے بتایا کہ وہاں موجود کیمپوں میں اب کَسمَہ پُرسی کی زِندگی گزارنے والے بہاریوں کی اولادوں کی سوچیں وہاں کی موجودہ قیادت کے مثبت اقدامات کے سبب تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، ان کے رشتے دار اور دوست یا مخیر حضرات ان کی امداد اور آبادکاری میں مدد کرکے ان کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرسکتے ہیں، دو دہائیوں سے نوجوان نسل وہاں پروان چڑھی ہے وہ پاکستان آنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی، وہ جفاکش، ہنرمند، خوددار اور زندہ قوم ہے، انہوں نے بدتر حالات میں بھی اپنے آپ کو زندہ رکھا، وہ وہاں اپنے أپ کو “:اردو بولنے والا بنگلہ دیشی” کہلانا پسند کرتے ہیں، شبیر سومرو صاحب نے مزید کہا کہ جب میں نے ان سے کیمپوں میں جاکر ملاقات کی تو پتہ چلا کہ جب وہ اپنے لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو بنگلہ زبان میں گفتگو کرتے ہیں مگر انہوں نے مجھ سے اردو زبان میں بات کی، بہاری کمیونٹی کے لوگوں نے اب کیمپوں اور شہروں کے مختلف علاقوں میں چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنا شروع کر دیئے ہیں، محنت کر کے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کی طرف توجہ دلائی اور”‘ اوبیٹ ہیلپرز”‘ تنظیم کر سربراہ انور خان کی جانب سے کیمپوں ، اِسکولز اور کالجز کھولے گئے ہیں، اِس جیسی تنظیموں اور اِس تنظیم کی طرف سے ذہین اور پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کو اِسکالرشپس بھی مل رہی ہیں اور وہ دیگر ملکوں میں بھی تعلیم حاصل کررہے ہیں، بہاری کمیونٹی کے لوگ اپنی ترقی کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش کی ترقی میں بھی حصہ ڈال رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے حالات بہتر ہورہے ہیں، ان کو کیمپوں سے باہر کی دنیا میں قدم رکھنا اور اپنا، اپنے بچوں کا مُستقبل سنوارنے کے لیے، ہماری ہر سطح پر مدد اور تعاون درکار ہے، وہ وہیں بنگلہ دِیش میں رہائش اختیار کر کے روزگار کمانا چاہتے ہیں، بِیرونِ ملک میں موجود ان کے خوشحال رِشتہ داروں کو چاہیئے کہ وہ اس کارِ خیر میں حصہ لے کران کو وہاں کیمپوں سے نکلنے اور کیمپوں سے باہر کی دُنیا میں بسنے میں خاطر خواہ مدد اور تعاون کریں، اللہ کے ہاں اس کا بہت بڑا اجَر ہے۔
بنگلہ دیش کے کیمپوں میں رہنے والوں کے خیالات اور وطن سے گہری محبت، جزبوں اور حوصلوں کا سُن کر نشسِت میں موجود ہر شخص تالیاں بجانے پر مجبور ہوگیا، اِس طرح وہ منفی پروپیگنڈہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دَم توڑ گیا، محبِ وطن بنگلہ دیشی اور پاکستانیوں کے درمیان نفرت پھیلانے والوں کی سیاسی دکانیں بند ہوگئیں کہ لوگ پاکستان آنا ہی نہیں چاہتے۔ اِس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان، طاہرحسن خان، ڈاکٹر فیاض عالم، اِبرار بختیار، نصیر احمد، ڈاکٹر سعید عثمانی، سرفراز احمد، سہیل سانگی، منور راجپوت، قاضی آصف، اختر سومرو، ابوالحسن، طاہر حبیب، عابد حسین، شکیل احمد خسن، اطہر جاوید صوفی، طارق شعیب، طلحہ عالم، شبیر غوری، فاروق عرشی، اطہر اقبال، ریحان محمود خان، آصف احمد خان و دیگر شریک تھے۔
(ریحان محمود خان)























