
مرکزی رہنماء ن لیگ اختیار ولی نے کہا ہے کہ پاک فوج کیخلاف عمران خان اور پی ٹی آئی سے بھی زیادہ غلیظ ترین گھٹیا بیان سہیل آفریدی نے دیا، سہیل آفریدی یاد رکھو! آپ عمر بھرکیلئے وزیراعلیٰ نہیں ہو۔ انہوں نے ایکس پر اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ آج تک عمران خان یا پی ٹی آئی کی جانب سے فوج کے خلاف جتنے بیانات دیئے گئے وہ انتہائی گھٹیا تھے، لیکن آج جو سہیل آفریدی کا بیان ہے یقین کریں انتہائی غلیظ اور گھٹیا ترین بیان ہے، آپ اس پاک فوج پر الزام لگا رہے ہیں جس کو حرمین شریفین کی پاسداری اور حفاظت کی ڈیوٹی سونپی گئی ہے، اور وہ فوج جس نے ماضی میں بھی حرمین شریفین کی خدمت کی تھی اور وہاں پر حملے ناکام بنا دیئے تھے، آپ اس پاک فوج کی جوانوں اور شہداء کی توہین کررہے ہیں ،جوپاکستان کیلئے جانیں قربان کردیتے ہیں۔
وہ پاک فوج جوان جو انڈیا اور اسرائیل سے جیت کر آتے ہیں۔وہ پاک فوج جو پاکستان کے دشمنوں کے خلاف سینہ سپر ہوکر لڑتے ہیں آپ ان کے خلاف کیا نفرت پھیلانا چاہتے ہیں؟سہیل آفریدی ! آپ کی ایک مہمان اداکار سے زیادہ حیثیت نہیں ہے، آپ عمر بھرکیلئے وزیراعلیٰ نہیں بن گئے، یاد رکھو! ڈرائیور بیمار ہوگیا ہے اور آپ کوکنڈیکٹر سے اٹھا کر ڈرائیور سیٹ پر بٹھادیا گیا ہے، اصل ڈرائیور آنے کے بعدآپ جلدی اتر جائیں گے۔
لیکن آپ کے بیان سے اغیار کی بو آرہی ہے، اس سے انڈیا اور سرحد پار کی بدبو آرہی ہے، پاکستان کے دشمنوں اوراسرائیل کی بو آرہی ہے۔ سہیل آفریدی آپ پاکستان اور خیبرپختونخواہ کے ساتھ نہیں کھڑے بلکہ اپنے آپ کو دیکھیں آپ کہاں کھڑے ہیں؟ آپ ڈیورنڈلائن کے اس پار کی ترجمانی کرنا بند کریں۔سب سے پہلے آپ کو اپنے حلقے وادی تیراہ کا چیف ایگزیکٹو بننا چاہیئے۔
آپ کے حلقے میں بھنگ کے کارخانے لگے ہوئے ہیں، منشیات تیاری کی جاتی ہے، وہ منشیات پورے ایریا میں تقسیم ہوتی ہے جس سے نوجوان تباہ وبرباد ہورہے ہیں، اس منشیات کے کاروبار سے آپ کو بھی حصہ ملتا ہے۔آپ کی کابینہ کے دو وزیر ہیں جن کے بھائیوں کی گاڑیاں پشاور میں منشیات کی اسمگلنگ میں تھانوں میں کھڑی ہیں ، وہ گاڑیاں نکلوائیں اور ان وزراء کو کابینہ سے باہر نکالیں۔ پاک فوج ملک وقوم کے تحفظ کیلئے قربانیاں دیتی ہے، آپ ہرزہ سرائی پر آپ رعایت نہیں دی جائے گی، اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
==========================
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے سکیورٹی فورسز سے متعلق شرانگیز بیان پر شدید مذمت
جمعہ 7 نومبر 2025 19:30
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے سکیورٹی ..
اسلام آباد( 07 نومبر2025ء) وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے خلاف دیے گئے بیان کو شرانگیز اور ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے بہادر سپوتوں کے بارے میں دیا گیا بے بنیاد اور حقائق سے منافی بیان کسی طور قابلِ قبول نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کے لیے اپنی جانیں نچھاور کرنے والے جری افسران اور جوانوں کے بارے میں اس طرح کے بیانات صرف دشمن کو خوش کرنے کی کوشش ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیوں کو پوری قوم اور دنیا تسلیم کرتی ہے، جنہوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن میں امن قائم کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس صوبے کے سب سے زیادہ جوان شہید ہوئے، اسی کے وزیرِ اعلیٰ نے احسان فراموشی کی انتہا کر دی۔ محسن نقوی نے زور دیا کہ کوئی بھی محب وطن شہری اس طرح کے بیان کا تصور بھی نہیں کر سکتا، اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کو فوراً قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔
=================================
اس وقت پاک افغان مذاکرات ختم ہوچکے، خواجہ آصف
اس وقت پاک افغان مذاکرات ختم ہوچکے، خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات ختم ہوچکے ہیں، مذاکرات کے اگلے دور کا اب کوئی پروگرام نہیں، ترکیہ اور قطر ہمارے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران وزیر دفاع نے کہا کہ اس وقت پاک افغان مذاکرات میں مکمل ڈیڈلاک ہے، مذاکرات کے اگلے دور کا اب کوئی پروگرام نہیں، اس وقت اب مذاکرات کے اگلے دور کی امید نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور قطر کے شکر گذار ہیں، انہوں نے خلوص کے ساتھ ثالثوں کا کردار ادا کیا۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ افغان وفد کہہ رہا تھا کہ ان کی بات کا زبانی اعتبار کیا جائے، جس کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بین الاقوامی مذاکرات کے دوران کی گئی حتمی بات تحریری طور پر کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں افغان وفد ہمارے موقف سے متفق تھا مگر لکھنے پر راضی نہ تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اب ثالثوں نے بھی ہاتھ اٹھالیے ہیں ،ان کو ذرا بھی امید ہوتی تو وہ کہتے کہ آپ ٹھہر جائیں، اگر ثالث ہمیں کہتے کہ انہیں امید ہے اور ہم ٹھہر جائیں تو ہم ٹھہر جاتے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ہمارا خالی ہاتھ واپس آنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے ثالثوں کو بھی اب افغانستان سے امید نہیں، اگر افغان سرزمین سے پاکستان پر حملہ ہوا تو اس حساب سے ردعمل دیں گے۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اگر افغان سر زمین سے کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہمارے لیے سیز فائر قائم ہے۔ جب افغانستان کی طرف سے سیزفائر کی خلاف ورزی ہوئی تو ہم موثرجواب دیں گے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغانستان کی سر زمین سے پاکستان پر حملہ نہ ہو۔























