
Ismail Panhwar is with Muhammad Hadi and
7 others
at Zaitoon restaurant.
ہمارے قابل فخر بھائی امریکن ایوارڈ یافتہ عراق میں چیف انجنیئر کی حیثیت سے ڈیوٹی ادا کرنے والے رانا عبدالرزاق صاحب نے زیتون ریسٹورنٹ گلشن حدید پر حج کی سعادت حاصل کرنے والے محترم جناب اشفاق حسین پہنور محترم جناب محمد ھادی اور محترم جناب خالد عباس کی اعزاز میں تقریب سجائی گئی اور پاگستان اسٹیل سے جبری نکالے گئے باصلاحیت نوجوان فیروز خان کو فیئر ویل پارٹی دی گئی تقریب کی صدارت ایم آر ایچ ٹی شاپ سی ایم ڈی پاکستان اسٹیل کے سابق انچارج محترم جناب انعام الحق صاحب نے کی
======================
صوبوں کے اختیارات میں کمی کی بات کی گئی تو مخالفت کریں گے، فضل الرحمان
تازہ ترینقومی خبریں07 نومبر ، 2025
امیر جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر صوبوں کے اختیارات میں کمی کی بات کی گئی تو ہم مخالفت کریں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران فضل الرحمان نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات میں کمی کی کوشش قابلِ قبول نہیں، جمیعت علماء اسلام صوبوں کو مزید با اختیار بنانے کی بات کرتی ہے، صوبوں کے حق میں اضافہ کیا جاسکتا، کمی نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 27ویں ترمیم پر تو فی الحال بات نہیں کرسکتے، ترمیم کا کوئی مسودہ تاحال منظر عام پر نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات میں کمی کی کوشش قابل قبول نہیں۔ ہماری جماعت صوبوں کو مزید با اختیار بنانے کی بات کرتی ہے، صوبوں کے حق میں اضافہ کیا جاسکتا، کمی نہیں۔
آرٹیکل 243 اور آئینی عدالت پر اتفاق رائے ہوچکا ہے، رانا ثنا
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ آرٹیکل 243 سے متعلق جمہوریت پر اثر پڑے گا تو قابل قبول نہیں ہوگا، ٹھیک تو کچھ بھی نہیں ہورہا۔ ٹھیک کرنے کےلیے اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ اپنے ملک کے بچوں کو اپنی سگی اولاد کی طرح سمجھتا ہوں۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ سود کے حوالے سے حکومت کی طرف سے کوئی پیشرفت نظر نہیں آرہی۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن بھی نہیں کی جا رہی ہے، مدارس کے ہاتھ مروڑ کر وزارتِ تعلیم کے تحت رجسٹر کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں حکومت 35 شقوں سے دستبردار ہوئی، اگر دستبردار شقوں میں سے کوئی شق 27ویں ترمیم میں پاس ہوئی تو آئین کی توہین سمجھی جائے گی۔ 26ویں ترمیم کے دستبردار ہونے والے نکات 27 ویں ترمیم میں قابل قبول نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ہم نے 26ویں آئینی ترمیم میں حکومت کا ساتھ نہیں دیا۔























