
راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں ڈھائی ارب روپے کی مبینہ کرپشن کیس کی احتساب عدالت راولپنڈی میں سماعت ہوئی۔ اس موقع پر ادارے کے فنانس ڈپارٹمنٹ کے اسٹینوگرافر جہانگیر احمد کی پلی بارگین درخواست منظور کی گئی۔
عدالت نے قومی رقوم کی واپسی پر ملزم کی رہائی کا حکم دے دیا اور الزام قبول کرنے پر ملزم 10 سال کیلئے کسی بھی سرکاری عہدے کیلیے نااہل قرار دے دیا گیا۔
نیب آرڈیننس کے تحت ملزم پر 10 سال کیلئے مالیاتی اداروں اور بینکوں سے لین دین پر پابندی بھی عائد کی گئی۔ نیب نے ملزم جہانگیر احمد کو رواں سال 24 اکتوبر کو گرفتار کیا تھا۔
ملزم پر سرکاری اکاؤنٹ سے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے اپنی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا الزام تھا۔ پلی بارگین درخواست منظور ہونے کے بعد ملزم نے 45 لاکھ روپے کی پہلی قسط ادا کر دی۔
آر ڈی اے اکاؤنٹس سے ڈھائی ارب روپے خردبرد ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ میگا کرپشن اسکینڈل میں نیب کو 27 افسران کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے۔
میگا کرپشن کی تحقیقات کے آغاز پر ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس محمد جنید تاج نے مبینہ طور پر خودکشی کی تھی۔
=====================
حکومت کا 27ویں ترمیم کل کابینہ سے منظور کروانے کا فیصلہ
27ویں ترمیم وفاقی کابینہ
وفاقی حکومت نے 27ویں ترمیم کل کابینہ سے منظور کروانے کا فیصلہ کرلیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی، کابینہ اجلاس کل صبح 9 بجکر 45 منٹ پر ہوگا۔
کابینہ اجلاس کمیٹی روم نمبر 2 پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوگا۔
علاوہ ازیں 27ویں آئینی ترمیم کل سینیٹ میں پیش کی جائے گی جس پر غور کے لیے سینیٹ دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی کی منظوری دے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی صدارت فاروق ایچ نائیک کریں گے، کمیٹی کو ترمیم پر غور کے لیے دو دن کا وقت دیا جائے گا، پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس ہفتہ اور اتوار کو بھی ہوں گے۔
یہ پڑھیں: 27ویں ترمیم پر غور کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ
پیر کو سینیٹ میں پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پیش ہوگی جس کے بعد سینیٹ پیر یا منگل کو آئینی ترمیم کی منظوری دے گی۔ذرائع کے مطابق اسی روز ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کردی جائے گی، قومی اسمبلی بحث کے بعد بدھ یا جمعرات تک ترمیم منظور کرلے گی۔
گزشتہ روز سینیٹر فیصل واوڈا نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئینی ترمیم پر ان سے بات ہوئی ہے، وہ بڑے مضبوط سیاست دان ہیں ان کا ملکی سیاست میں اہم کردار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان ترامیم کے معاملات کو دیکھیں گے اور سمجھیں گے، انہوں نے کہا ہے کہ تجاویز کا جائزہ لیں گے۔























