
کراچی، 20 مئی 2025
سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے غیر قانونی طور پر درآمد کیے گئے غیر ملکی بندروں (کیپوچن اور مارمو سیٹ) کو کراچی سے لاہور منتقل کرنے کی تجویز کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ محکمہ نے وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی سے اپیل کی ہے کہ 8 مئی 2025 کو جاری کی گئی منتقلی کی سفارش پر نظرثانی کی جائے اور اس معاملے میں قانونی تقاضے اور سائنسی اصول مدنظر رکھے جائیں۔
یہ 26 بندر دسمبر 2024 میں پاکستان کسٹمز نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر اس وقت ضبط کیے تھے جب انہیں جنوبی افریقہ سے جعلی کاغذات کے ذریعے پاکستان لایا گیا، جو کہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ بندروں کو فوری طور پر کراچی میں ایک نجی جانوروں کی فلاحی تنظیم “عائشہ چندریگر فاؤنڈیشن” کے پاس عارضی طور پر رکھا گیا۔
اس دوران وزارت موسمیاتی تبدیلی کے نائب کنزرویٹر وائلڈ لائف نے بندروں کو لاہور منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے، حالانکہ یہ کیس اب بھی کراچی کی کسٹمز عدالت میں زیر سماعت ہے۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے سے قبل کوئی بھی اقدام عدالتی عمل کی خلاف ورزی تصور ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال پر چیف سیکریٹری سندھ نے اپریل میں ایک اہم اجلاس طلب کیا جس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی، پاکستان کسٹمز، سندھ وائلڈ لائف، WWF پاکستان اور دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے نتیجے میں ایک تکنیکی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے قانونی، سائنسی اور فلاحی بنیادوں پر اپنی سفارشات پیش کیں۔ سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور WWF کراچی کی مشترکہ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ بندروں کی لاہور منتقلی ان کی صحت اور بہبود کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے اور یہ فیصلہ سائنسی اور قانونی اصولوں کے منافی ہوگا۔ باوجود اس کے، وزارت موسمیاتی تبدیلی نے 8 مئی کو کمیٹی سے مشاورت کیے بغیر ہی بندروں کی منتقلی کی سفارش جاری کر دی، جس پر سندھ وائلڈ لائف نے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ محکمہ نے کہا کہ عدالت کو اس سفارش سے آگاہ نہیں کیا گیا، جو شفافیت اور قانونی عمل کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 2020 کی شق 21 کے مطابق صوبے میں موجود ہر قسم کی جنگلی حیات، چاہے وہ کسی بھی ذریعہ سے آئی ہو، مکمل قانونی تحفظ رکھتی ہے۔ وائلڈ لائف رولز 2022 کے قاعدہ (2)43 کے مطابق، اگر کسی ملک سے غیر قانونی طریقے سے جنگلی جانور صوبے میں لائے جائیں تو ان کو اسی ایئر لائن کے ذریعے ڈی پورٹ کرنا ضروری ہوتا ہے یا انکی واپسی کے لیے بتائے گئے قانونی طریقے پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ سائنسی طور پر، کیپوچن اور مارمو سیٹ بندر حساس نوعیت کے جنگلی جانور ہیں، جو مخصوص درجہ حرارت، خوراک، ماحول اور طبی دیکھ بھال کے متقاضی ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ لاہور میں جس ادارے کو ان بندروں کی میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا ہے، وہاں ماضی میں جانوروں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے، صفائی کے ناقص انتظامات، غذائی کمی، اور ویٹرنری سہولیات کی کمی کے باعث جانوروں کی اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ مزید منتقلی سے بندروں پر دوبارہ ذہنی دباؤ اور جسمانی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ چونکہ یہ بندر غیر قانونی راستے سے لائے گئے ہیں، اس لیے یہ بھی خدشہ ہے کہ یہ کسی نامعلوم بیماری کے حامل ہو سکتے ہیں، جو انسانی یا دیگر جانوروں میں منتقل ہو سکتی ہے۔ ایسے میں بغیر مکمل طبی جانچ اور قرنطینہ کے انہیں کہیں اور منتقل کرنا صحتِ عامہ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے وزارت موسمیاتی تبدیلی سے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ پر دوبارہ غور کیا جائے اور فیصلہ اسی اعلیٰ سطحی فورم پر کیا جائے جس پر اتفاق ہوا تھا۔ محکمہ نے کہا ہے کہ جانوروں کی فلاح، قانون کی پاسداری، اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔























