وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے تیر سے بلاول بھٹو زرداری کا شکار کیسے کیا ؟ اندرونی کہانی

وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے تیر سے بلاول بھٹو زرداری کا شکار کیسے کیا ؟ اندرونی کہانی


تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنی سیاست اور حکومت کی جانب بڑھتے ہوئے خطرات کو جلد بھانپ لینے اور فوری تدارک کا ہنر جانتے ہیں یہی بات انہیں اپنے بڑے بھائی میاں محمد شہباز شریف کے طرز حکومت سے مختلف منفرد اور زیادہ پریکٹیکل ثابت کرتی ہے تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم بننے والے نواز شریف کی کامیابیوں تک تو کوئی نہیں پہنچ سکا لیکن اب وزیراعظم شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کی کامیابیوں کے سفر کو خود آگے بڑھا رہے ہیں اور بڑا پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہے ہیں ان کا محتاط رویہ عاجزی انکساری ہر جگہ قابل تعریف قرار دی جاتی ہے مشکل ترین معاشی حالات میں وہ دوسری مرتبہ وزیراعظم بند کر کامیابی سے اپنی حکومت چلا رہے ہیں ۔


ان کی حکومت کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کا تعاون ایک ایسی مجبوری ہے جس کا طرفین کو احساس ہے اور وہ چاہتے ہوئے بھی اس تعاون کا رشتہ توڑ نہیں سکتے ۔ دریائے سندھ پر نئی کینالز بنانے کے معاملے پر بظاہر بلاول بھٹو زرداری نے فتح حاصل کی اور نون لیگ کو دو قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا لیکن دیکھا جائے تو یہ کامیابی بھی وزیراعظم شہباز شریف کے حصے میں رہی کے منہ کے ان کی حکومت چل رہی ہے اب ایک اور تازہ مثال دیکھیے کہ پی ٹی ائی کی جانب سے اسپیکر کے


خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا شوشہ چھوڑا گیا اور مسلم لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف فوری طور پر صورتحال کو بھانپ گئے اور انہوں نے یورپ کے دورے کے لیے بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں وفد بھیجنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا اس فیصلے سے ایک طرف پی ٹی ائی کی ممکنہ تحریک کا دم ہے تو مات کے غبارے سے ہوا نکال دی دوسری طرف پیپلز پارٹی کے تیر سے بلاول بھٹو زرداری کا شکار کر لیا اب بلاول بھٹو زرداری پوری دنیا میں جا کر وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کا مقدمہ لڑیں گے اور مودی کی حکومت کے خلاف شہباز شریف حکومت کی کامیابیوں کی داستان بیان کریں گے اور پاکستان کا نام روشن ہوگا سبز علی پرچم سر بلند ہوگا اور سارا کریڈٹ بالاخر وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کو ملے گا ۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی بھی اپنے کارڈ ہوشیاری سے کھیلنے کی ماہر ہے وہ بھی فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی حکومت میں نہ ہوتے ہوئے بھی بلاول پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وفد کی قیادت کریں گے یہ بلاول کا قد بڑھانے اور پیپلز پارٹی کی اہمیت کو منوانے کا ایک اور قدم ہے اور اس میں بھی صدر آصف زرداری اس لیے خوش ہوں گے کہ ان کے بیٹے کی واہ واہ ہوگی ۔ ڈون لیگیوں سے بات کریں تو وہ کہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد چاہے سپیکر کے خلاف ہو یا وزیراعظم کے خلاف وہ موجودہ حالات میں اور اس کی جو اپوزیشن ہے اس میں پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر تو کامیاب ہو نہیں سکتی اور اگر وزیراعظم شہباز شریف نے دانشمندانہ اقدام اٹھاتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کو اپنی حکومت کا وکیل بنا کر دنیا کے دورے پر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ پیپلز پارٹی اب پی ٹی ائی کے ساتھ اتحاد میں نہیں جا سکے گی اور وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کو مزید وقت مل جائے گا کہ وہ اپنی پالیسیوں اور منصوبوں کو تیزی سے اگے بڑھا سکیں اور عوام کو ریلیف دے کر اپنی پارٹی مسلم لیگ نون کو مزید مضبوط مستحکم اور پاپولر بنا سکیں