
نوجوانوں ہی میں سے کوئی سامنے آئے گا جو تحریک کو منتقی انجام تک پہنچائے گا۔
مسلہ کشمیر کے حل کے لیے کے ایچ خورشید کا نظریہ ہی پاکستان اور کشمیریوں کے مفاد میں ہے۔کینیڈا میں خطاب
کیلگری( ) معروف ادیب و سفرنامہ نگار بشیر سدوزئی نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کو باصلاحیت مدبر اور دلیر قیادت کی ضرورت ہے جو بین الاقوامی لیڈروں کو اس بات پر قائل کر سکے کہ مسلہ کشمیر برصغیر کے دو ارب انسانوں کی زندگی کے لیے خطرہ ہے۔ اس کو حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن قائم ہونا ممکن نہیں۔ پاکستان اور کشمیریوں کے مفاد میں ہے کہ کے ایچ خورشید کے دیئے ہوئے نظریہ کے مطابق تحریک آزادی کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر متحرک کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کینیڈا کے شہر کیلگری میں کشمیری نژاد تاجر حافظ ظریف حنیف کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب سے سردار خضر حیات خان ڈاکٹر الیاس خان، شاہ پال خان، سردار مشتاق خان، سردار ہمایوں خان، اور دیگر نے بھی خطاب کیا جب کہ میزبان حافظ ظریف حنیف خان نے مہمانوں کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ بشیر سدوزئی نے کہا کہ مسلہ کشمیر کی وجہ سے برصغیر کی لگ بھگ دو ارب عوام خطرے میں ہے کیوں کہ جموں و کشمیر کے حریت پسند
جدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں، مودی مائنڈ سیٹ پاکستان پر بلاجواز الزامات لگاتا ہے جس سے دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔ حالیہ جنگ کے دوران بھی بین الاقوامی طاقتوں نے بروقت مداخلت نہ کی ہوتی تو نقصان کے بڑھنے کا اندیشہ تھا۔ انہوں نے کیا کہ مودی کے فاشزم کا بین الاقوامی سطح پر جواب دینے کے لیے جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کو باصلاحیت مدبر اور دلیر قیادت کی ضرورت ہے جو ایک قوم کی تحریک آزادی کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرا سکے۔ آزادی کے بیس کیمپ سے فائدہ حاصل کیا جانا چاہیے تاہم بدقسمتی سے اس وقت کشمیری عوام قیادت سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بغیر لیڈر کے کوئی بھی قوم آزادی حاصل نہیں کر سکتی۔ مجھے گمان ہے کہ بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہمارے بچوں میں سے کوئی نوجوان ہی سامنے آئے گا جو تحریک کو منتقی انجام تک پہنچائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ المیہ ہے کہ 78 برسوں کے دوران ہمارے بیانیے کو بین الاقوامی پذیرائی نہیں ملی، جس سے بھارت جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کرتا رہا، مادر وطن پر بھارت کے اس ناجائز قبضہ کو چھوڑانے کے لیے مسلحہ جدوجہد کے ساتھ سفارتی سطح کو بھی مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا ڈائس پورا اس کمی کو پورا کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارا ڈائس پورا ذاتی پبلسٹی کے لیے تقسیم ہے اور ہر کوئی اپنی ذات میں لیڈر ہے۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم کشمیریوں سے کہا کہ وہ اپنی شناخت کو بحال کریں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نہتے لوگوں پر جو مظالم کر رہی ہیں ان کو انسانی حقوق کے کارکنوں اور اداروں کے ساتھ اٹھائیں۔ کینیڈا کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم نوجوان کشمیریوں کو تحریک کی طرف راغب کریں تاکہ کہ وہ قوم کی رہنمائی کریں۔ کشمیری نزاد البرٹا صوبائی اسمبلی ممبر عرفان صابر نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔























