گھر مزدوروں کو جلد از جلد سیسی سے رجسٹرڈ کیا جائے۔ ہوم بیسڈ ورکرز کا سیسی ہیڈ آفس پر احتجاج میں مطالبہ

پیرس ریلیز
گھر مزدوروں کو جلد از جلد سیسی سے رجسٹرڈ کیا جائے۔ ہوم بیسڈ ورکرز کا سیسی ہیڈ آفس پر احتجاج میں مطالبہ

کراچی (پ۔ر) مورخہ 19 مئ 2025 کو مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی گھر مزدور خواتین اور ن کی یونینز نے SESSI ہیڈ آفس کے سامنے ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا جسمیں ہوم بیسڈ بینگل ورکرز یونین، زردوزی وومن ورکرز یونین اور یونائیٹڈ ایچ بیبورکرز ہونین سے تعلق رکھنے والی خواتین کارکنان نے حصہ لیا۔ اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کیلیے ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن اور نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن سے بھی تعاون کی درخواست کی گئی تھی۔ ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی صدر سائرہ فیروز نے اس پرامن مظاہرے کی قیادت کی جبکہ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے زمہ داران اور ورکرز بھی شریک تھے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ہوم بیسڈ زردوزی ورکرز یونین کی پروین بانو نے بتایا کہ SESSI نے سالوں پہلے ورکرز رجسٹریشن کیلیے ایک پورٹل متعارف کرایا تھا جسپر متعدد گھر مزدور خواتین اور سیلف ایمپلائیڈ ورکرز نے اپنے آپکو رجسٹرڈ کرا رکھا ہے لیکن تا حال انکو سوشل سیکیورٹی کارڈ جاری نہیں کیا جارہا ہے۔ جبکہ 2021 کے ترمیم شدہ سوشل سیکورٹی ایکٹ میں صراحت کے ساتھ قابل رجسٹرڈ مزدور کی تعریف بیان کی گئ ہے۔ مگر SESSI اس ضمن میں لیبر ڈائریکٹوریٹ کی طرف ذمہ داری ڈال کر تاخیری حربے استعمال کررہی ہے جسکا اس سارے عمل سے کوئ تعلق نہیں ہے۔ مظاہرے سے اقصیٰ کنول نے خطاب کرتے ہوۓ افسوس کا اظہار کیا کہ سالوں سے سندھ پر اس جماعت کی حکومت ہے جسکی قاید بجا طور پر دختر مشرق کہلاتی ہیں مگر انکی ہی جماعت کی حکمرانی میں ہوا کی بیٹیاں قانون بن جانے کے باوجود سوشل سیکیورٹی کارڈ سے محروم ہیں۔ احتجاج سے مہرو ملک اور عینی یونس نے بھی خطاب کیا۔

ہوم بیسڈ فیڈریشن کی صدر سائرہ فیروز نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ اگر جلد گھر مزدور خواتین و دیگر مزدوروں کو سوشل سیکیورٹی کارڈز جاری نہیں کیے گۓ تو اگلا احتجاج چیف منسٹر ہاؤس اور سندھ اسمبلی کے سامنے ہوگا۔ احتجاج کے شرکا سے فیڈریش کے ذمہ داروں اقبال ابڑو، ہمت پھلپوٹو، بلاول نے امید ظاہر کی کہ اس مظاہرے کے مثبت اثرات نکلیں گے اور گورننگ باڈی میں شریک ممبران سیسی کی گورننگ باڈی اور دیگر فورمز پر اس بنیادی مسلے پر بات کریں گے تاکہ گھر مزدور خواتین سیلف ایمپلائیڈ و دیگر مزدوروں کو قانون کے مطابق جلد از جلد سوشل سیکیورٹی کارڈز جاری ہوں اور انکا صحت جیسا بنیادی مسلہ حل ہو۔

احتجاج کے شرکا سے ممبر گورننگ باڈی مختار حسین اعوان نے خطاب کیا اور شرکا کو ہر ممکن تعاون کی یقین دھانی کرائی۔

اسلام الدین تھیم وزیر محنت جو سیسی گورننگ باڈی کے چیرمین بھی ہیں جب ہیڈ آفس پہنچے تو شرکا احتجاج نے انکے سامنے ہوم بیسڈ ورکرز سیلف ایمپلائیڈ ورکرز کے سوشل کارڈ جاری نا ہونے کامسئلہ رکھا جس پر کمنشنر سیسی میانداد راہجو نے اعتراض اٹھایا کہ یہ مسلہ لیبر ڈائیریکٹوریٹ سے حل ہوگا شرکا کے اعتراض کے بعد کمشنر سیسی نے اپنا موقف تبدیل کردیا اور کہا کہ اگر ورکرز اپنا ماہانہ چندہ جمع کرائیں گے تو انکو کارڈ جاری کردیا جاے گا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ کنٹربیوشن جمع کرانے کے حوالے سے سوشل سیکورٹی ایکٹ میں کوئ شق موجود نہیں اور اگر یہ بات درست مان
بھی لی جائے تو سیسی انتظامیہ اب تک کیوں خاموش تھی؟