
اسلام آباد: پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان موجودہ صورتحال نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ تشویشناک حد تک کشیدہ ہو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “انڈیا کی جانب سے سویلین آبادی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کا ردعمل انتہائی پرتشدد نہیں ہوگا، لیکن ہم انڈین فورسز کو ضرور جواب دیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “انڈیا کی طرف سے جھوٹ اور پراپیگنڈے کا ایک طوفان برپا کیا جا رہا ہے۔ ہم نے صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ انڈیا نے سرحد پار غیر فوجی علاقوں پر حملے کیے۔ انڈیا کو ہر محاذ پر شدید جوابی کارروائی کا سامنا ہے۔”
دفتر خارجہ کا انڈیا کو واضح انتباہ
اسی دوران، پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے نیوز بریفنگ میں انڈیا کی جارحیت پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ “پہلگام واقعے کو بہانہ بنا کر انڈیا نے پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کیے۔ کیا کسی ملک کو سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی افواہوں کی بنیاد پر حملہ کرنے کا حق حاصل ہے؟”
انہوں نے خبردار کیا کہ “انڈیا کا جنگی جنون پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ پاکستان ضبط و تحمل سے کام لے رہا ہے، لیکن انڈیا کی لاپرواہی دو جوہری طاقتوں کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کر سکتی ہے۔”
ترجمان خارجہ نے زور دے کر کہا کہ “انڈیا کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔ ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کے مقدمات میں انڈیا کی ہچکچاہٹ ہی انصاف میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ پاکستان عالمی برادری سے انڈیا کی جارحیت روکنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے۔”
بین الاقوامی برادری سے مداخلت کی اپیل
ماہرین کے مطابق، موجودہ کشیدگی خطے میں ایک بڑے تنازعے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر عالمی اداروں اور امن پسند ممالک سے انڈیا کی جارحانہ پالیسیوں کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
===================
ایل او سی پر بھارتی فوج کی فائرنگ، 5 شہری شہید، پاک فوج نے کئی بھارتی چیک پوسٹیں اور بٹالین ہیڈ کوارٹر تباہ کردیا
بھارتی فوج شکست کے بعد لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے لگی جس کے بعد پاکستان کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
لائن آف کنٹرول پر ایک مرتبہ پھر بھارتی جارحیت میں پہل کے بعد پاکستان کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی فوج نے بلااشتعال فائرنگ کر کے ہجیرہ، فارورڈ کہوٹہ اور کھوئی رٹہ میں سول آبادی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 5 شہری شہید اور 7 زخمی ہوگئے۔
بھارتی فوج نے شہری آبادی پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا تاہم پاک فوج کی جوابی کارروائی میں بھارتی فوج کی توپیں خاموش ہوگئیں۔
ذرائع کے مطابق بھارتی فوج کے بلااشتعال فائرنگ کرنے پر پاک فوج نے بھی پھرپور جواب دیا جس کے نتیجے میں کئی بھارتی چیک پوسٹیں تباہ ہوگئیں۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ کیلر سیکٹر میں ڈوبہ مور پوسٹ اور بٹالین ہیڈ کوارٹر تباہ کردیا گیا ہے۔ حاجی پیر سیکٹر میں بھارتی فوج کی رِنگ کنٹوئر اور پوکران مارٹر بگھسر پوسٹ کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔
کیلر سیکٹر میں دشمن کی مہیری پوسٹ خالصہ ٹاپ اور رکھ چکری سیکٹر میں دنا ٹاپ اور ماؤنڈ پوسٹ بھی تباہ کردی گئی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کے تازہ ترین حملوں میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
افواجِ پاکستان نے بھارت کے 77 ڈرونز تباہ کردیے
علاوہ ازیں پاکستان کے مختلف شہروں میں آج بھی بھارت کے کئی ڈرونز تباہ کردیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 8 مئی کی شام تک 29 بھارتی ڈرونز کو مار گرایا گیا جبکہ کل رات سے آج دن تک مزید 48 ڈرونز تباہ کردیےگئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق وہاڑی، پاکپتن اور اوکاڑہ میں اسرائیلی ساختہ 6 بھارتی ڈرون تباہ کردیے گئے ہیں۔
ایک ڈرون کو وہاڑی، ایک پاکپتن اور 4 ڈرونز کو اوکاڑہ میں تباہ کیا گیا جس کے بعد اب تک دشمن کے کُل 35 ڈرونز کو تباہ کیا جاچکا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق تمام ڈرونز مسلسل ریڈار پر مانیٹر کیے جارہے تھے، جب بھی کوئی ڈرون آتا تو وہ مسلسل ریڈار پر دیکھا جارہا ہوتا ہے۔
==========================
پہلگام واقعے کو جواز بنا بھارت کو جج، جیوری اور سزا دینے والا بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ترجمان پاک فوج
بھارت کے پاس اگر کوئی ثبوت ہیں تو کسی غیر جانبدار ملک کو پیش کرے ،بھارت ہمیشہ دہشتگردی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال کر سیاسی فائدے لینے کی کوشش کرتا ہے،بھارت نے ہمیشہ پاکستان پر بغیر ثبوت الزام لگائے ہیں اور اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے،ڈی جی آئی ایس پی آر کا ترک ٹی وی کو انٹرویو
پہلگام واقعے کو جواز بنا بھارت کو جج، جیوری اور سزا دینے والا بننے کی ..
راولپنڈی-ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت کے پاس اگر کوئی ثبوت ہیں تو کسی غیر جانبدار ملک کو پیش کرے، ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آرکاکہنا ہے کہ پہلگام واقعے کو جواز بنا کر کی جانے والی جارحیت پر بھارت کو جج، جیوری اور سزا دینے والا بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
بھارت ہمیشہ دہشت گردی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال کر سیاسی فائدے لینے کی کوشش کرتا ہے۔پاکستان بھارت کے پہلگام واقعے سے متعلق تمام تر بے بنیاد الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان پر بغیر ثبوت الزام لگائے ہیں اور اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔21 ویں صدی کی جنگ میں ہر حملے کا الیکٹرانک ثبوت ہوتا ہے، اگر پاکستان نے کوئی میزائل حملہ کیا ہوتا تو اس کا کوئی الیکٹرانک ثبوت ہوتا۔
پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد حکومت پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیااور پاکستان نے آزادانہ اورغیر جانبدارتحقیقات کی پیش کش کی۔ بھارت نے پاکستان کی یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بھارت کی جانب سے پاکستان پر بغیرثبوت الزام کا سلسلہ بندہونا چاہئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے پاکستان میں 6 مختلف مقامات پر حملے کر کے عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔
بھارت نے مسجد پر بمباری کی، خواتین اور بچوں کو شہید کیا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو بھارتی گولہ باری کا سامنا ہے اور بھارت کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ بدقسمتی سے وہ جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی دعویٰ ہے انہوں نے پاکستانی طیارے گرائے تو پھراس کا ملبہ کہاں ہے؟ اگر ان کے پاس ہمارے پائلٹ ہیں تو وہ کہاں ہیں؟ بھارت نے وہاں پر بین الاقوامی میڈیا کو خاموش کر دیا ہے، اب بھارتی میڈیا ہر گھنٹے فرضی کہانیاں بنا رہا ہے جو مضحکہ خیز بن چکی، جب ہم جواب دیں گے تو دنیا خود سن لے گی، ہمیں بھارتی میڈیا کی ضرورت نہیں ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستان صرف چھوٹے ہتھیاروں سے جواب دے رہا ہے۔ ڈرون، راکٹ یا بڑے حملے نہیں کئے جا رہے۔ پاکستان لائن آف کنٹرول پر صرف ان بھارتی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو پاکستانی علاقے میں فائرنگ کر رہی ہیں۔ یہ کارروائی صرف دفاعی نوعیت کی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ بغیر کسی قابل اعتبار ثبوت کیا، پاکستان ان بے بنیاد الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
بھارت سے مطالبہ ہے کوئی ثبوت ہیں تو کسی غیر جانبدار ملک کو پیش کرے۔ہم صرف چھوٹے ہتھیاروں کے ذریعے چوکیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، یہ کسی بڑے حملے جیسا نہیں ہے جیسا کہ بھارتی میڈیا نے گزشتہ رات سے ایک سنسنی پھیلائی ہے، بھارت کی جانب سے ایک مکمل میڈیا مہم چلائی جا رہی ہے کہ پاکستان نے ڈرون، طیارے اور بین الاقوامی سرحد پر بڑے پیمانے پر حملے کئے ہیں۔ یہ سراسر جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ ہے جس کے کوئی ثبوت موجود نہیں یہ بہت مضحکہ خیز ہے۔























