ہندوستان میں “نیوز پاکستان” یوٹیوب چینل پر پابندی: صحافت کی آزادی پر حملہ؟

ہندوستان میں “نیوز پاکستان” یوٹیوب چینل پر پابندی: صحافت کی آزادی پر حملہ؟

ہندوستان میں ایک اور مقبول پاکستانی نیوز چینل “نیوز پاکستان” کو یوٹیوب پر بین کر دیا گیا ہے۔ یہ چینل ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کی اصل تصویر پیش کرنے اور حقائق پر مبنی خبریں نشر کرنے کے لیے جانا جاتا تھا۔ ہندوستانی حکومت کی جانب سے اس چینل پر پابندی عائد کرنے کے اقدام کو صحافت کی آزادی پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

“نیوز پاکستان” کے منیجنگ ڈائریکٹر اور معروف صحافی جی ایم جمالی نے ہندوستانی وزیراعظم اور ان کی حکومت کی اس حرکت کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف آزادی اظہار کو دبانے کی کوشش ہے بلکہ ہندوستان میں جمہوریت اور میڈیا کی آزادی کے دعوؤں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ جمالی نے زور دے کر کہا کہ “حقائق کو چھپانے سے سچ مٹتا نہیں، بلکہ اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔”

یہ پابندی اس وقت عائد کی گئی جب “نیوز پاکستان” چینل نے ہندوستانی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اقلیتوں کے خلاف تشدد اور مودی سرکار کی پالیسیوں پر تنقیدی رپورٹس پیش کی تھیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں میڈیا پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور جو بھی آواز حکومتی موقف کے خلاف اٹھتی ہے، اسے فوری طور پر دبا دیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی اداروں اور صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ہندوستانی حکومت کے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے میڈیا کی آزادی کو محدود کرنا جمہوریت کے لیے ایک خطرناک رجحان ہے۔ دوسری جانب، ہندوستانی حکومت کا موقف ہے کہ یہ چینل “غلط معلومات” پھیلا رہا تھا، جس پر وہ مزید تبصرہ کرنے سے گریز کر رہی ہے۔

اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا ہندوستان واقعی دنیا کی سب سے بڑی “جمہوریت” ہے یا وہاں میڈیا کی آزادی بتدریج ختم کی جا رہی ہے؟ “نیوز پاکستان” جیسے چینلز پر پابندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی حکومت تنقید برداشت کرنے کے بجائے اسے دبانے پر یقین رکھتی ہے۔

صحافتی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی برادری ہندوستان میں میڈیا کی آزادی کی صورت حال پر سنجیدگی سے توجہ دے اور ان اقدامات کی مذمت کرے جو جمہوریت اور آزادی اظہار کے اصولوں کے منافی ہیں۔
==========================

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان جب مارے گا تب پوری دنیا جان جائے گی۔

اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارتی پنجاب میں کسی بھی شہری علاقے میں کارروائی نہیں کی، ایک ذمہ دار ملک کے طور پر پاکستان نے ہر ممکن اسٹریٹیجک احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان بھارتی جارحیت کا اپنے طے کردہ وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے، بھارتی ڈرونز نے لاہور میں فوجی تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، بھارت نے کوئی ایڈونچر کیا تو ہماری آرمی، نیوی اور فضائیہ الرٹ ہیں۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کے کئی ڈرونز نے پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کی، بھارت کے ڈرون نے لاہور میں فوجی تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے 5 جنگی طیاروں کو گرایا۔
============================

’جنگ تباہی ہے‘ علی ظفر نے امن کا مطالبہ کردیا

پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار علی ظفر کا کہنا ہے کہ جنگ تباہی ہے بات چیت ہی واحد حل ہے۔

گلوکار علی ظفر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم نے گھر کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ کیا آپ واقعی جانتے ہیں کہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟

علی ظفر نے لکھا کہ ’یہ فلم نہیں ہے جنگ تباہی ہے، معصوم جانیں جن میں بچوں اور اہل خاندان کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

علی ظفر نے عالمی طاقتوں کو مخاطب کرتے ہوئے مزید لکھا کہ دنیا کو جاگنا ہوگا، ہمیں امن کی ضرورت ہے۔ ہر زندگی اہمیت رکھتی ہے۔ ہر قوم حفاظت کی مستحق ہے۔ بین الاقوامی برادری کو اس پاگل پن کو روکنے کے لیے فیصلہ کن مداخلت کرنی چاہیے۔

انہوں نے اس مسئلے کا حل بتاتے ہوئے لکھا کہ بات چیت ہی واحد حقیقی حل ہے۔ بات کریں اور ایک دوسرے کی سنیں، مسئلہ حل کریں۔ خطے اور دنیا بھر میں اربوں زندگیوں کا انحصار اس پر ہے۔

دوسری جانب پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و ہوسٹ حنا الطاف نے اپنے مداحوں پر زور دیا کہ وہ بالی ووڈ کی مشہور شخصیات کا بائیکاٹ کریں۔

ساتھ ہی انہوں نے بھارتی فوج کی جانب سے نہتے پاکستانی شہریوں پر رات کے اندھیرے میں کیے گئے حملے پر جشن منانے والی بھارتی اداکاروں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

اداکارہ نے اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان سرحد کے دونوں جانب معصوم جانوں کے نقصان کی مذمت کرتا ہے مگر ہمارے دکھ پر آپ لوگوں کو خوش ہوتے اور جشن مناتے دیکھنا بہت تکلیف دہ ہے۔

انہوں نے اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ میں صرف یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ان تمام بھارتی اداکاروں اور ان لوگوں کو اَن فالو اور اَن سبسکرائب کریں اور اُن (پاکستانی فنکاروں) سے فاصلے پر رہیں جو اس ملک میں رہتے ہیں لیکن جب بات ہمارے وطن کی ہو تو خاموش رہتے ہیں۔