مسی ساگا میں باغ دوستی— کریا پارک “Kariya Park”

بشیر سدوزئی( ٹورانٹو)

کینیڈا کے شہر مسسی ساگا کے پُررونق اور مصروف علاقے اسکوئر ون کے قریب ایک خاموش، پُرسکون اور دلکش گوشہ میں چند لمحے آپ کی زندگی میں خوش گوار یادوں کا اضافہ کرتے ہیں۔ گو کہ چند منٹ ہی میں آپ سارے پارک کو دیکھ سکتے ہیں لیکن جتنی دیر بھی یہاں موجود رہیں۔ ذہن پر سکون اور دل شاد رہتا ہے۔ مسی ساگا کا یہ گوشہ سکون ہے کریا پارک “Kariya Park” — اس کا حاطہ بہت وسیع یا لمبا چوڑا نہیں مگر مسی ساگا کی مین شاہراہ کے کنارے پر واقع یہ خوب صورت قطعہ آراضی ایک ایسا مقام ہے جو صرف ایک پارک ہی نہیں ایک تاریخ، ایک تعلق اور ایک تہذیب کا آئینہ دار ہے۔ یہ باغ جاپانی شہر کریا “Kariya” اور کینیڈا کے شہر مسسی ساگا “Mississauga” کے درمیان قائم دیرینہ دوستی کی یاد گار اور دونوں شہروں ہی نہیں دو قوموں کا مشترکہ نشان ہے۔ کریا پارک کا باقاعدہ افتتاح جولائی 1992ء میں عمل میں آیا، اور یہ پارک جاپانی طرز تعمیر، باغبانی اور روایتی حسن سے مزین کیا گیا۔ مسی ساگا آنے والے سیاحوں کے لیے یہ پارک کشش کا باعث ہے۔ یہاں بہار کے موسم میں


چیری بلاسم کے درختوں پر کھلتے ہوئے پھول نہ صرف آنکھوں کو خیرہ کرتے ہیں بلکہ دل کو ایک عجیب سی خوشی اور سکون سے بھر دیتے ہیں۔ یہ چھوٹی سی جگہ پر بانس کے جُھرمٹ، پانی کے چشمے، لکڑی کے پُل اور پتھریلے راستے انسان کو جاپان کی کسی روایتی بستی میں لے جاتے ہیں۔ اور انسان تصور ہی تصور میں کینیڈا میں بیٹھ کر جاپانی تہذیب و تمدن سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ پارک کی پیشانی پر نصب ایک تختی پر واضح درج ہے کہ یہ باغ 7 جولائی 1981 سے 7 جولائی 1996 تک دونوں شہروں کے درمیان قائم پندرہ سالہ دوستانہ تعلقات کی یاد میں قائم کیا گیا تھا۔ اس یادگار تختی پر درج الفاظ آج بھی اس دوستی کی گواہی دیتے ہیں جو دو قوموں کے درمیان ثقافتی احترام، ہم آہنگی اور باہمی تعلقات کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ یہ پارک صرف ایک سیرگاہ نہیں بلکہ ایک سبق ہے کہ مختلف ثقافتوں کے درمیان امن، ہم آہنگی اور محبت کیسے پروان چڑھتی ہے۔ کریا پارک آج بھی جاپانی تہذیب و تمدن کا ایک حسین نمونہ بن کر مسسی ساگا کے شہریوں اور دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ ہمارے ساتھی اور میزبان مرزا یاسین بیگ نے مسی ساگا کے اسکوئر ون کے سیر سپاٹے اور مال کے طہ خانے میں گاڑی، کالی، پھیکی اور کڑوی کافی سے لطف اندوز ہونے کے بعد ایک نئی اور منفرد جگہ دیکھانے کی دعوت دی تو ہم سعادت مند شاگرد کی طرح ان کے ساتھ ہو لیے۔ مسی ساگا شہر سے جھیل کی طرف جانے والی سڑک کی فٹ پاتھ پر روانہ ہوئے ابھی زیادہ فاصلہ بھی نہیں طہ کیا تھا کہ فٹ پاتھ کے کنارے پر لگی کریا پارک کی تختی پر نظر پڑھی۔ لکڑی کی تختی پر لکھے جلی حروف جیسے پارک میں داخل ہونے کی دعوت دے رہے ہوں۔ کچھ چائنیز سیاح پارک کے دروازے پر کھڑے فوٹو گرافی میں مصروف تھے جنہوں نے ہمیں دیکھ کر رستہ چھوڑ دیا۔ ہم اندر داخل ہوئے تو ساڑھیوں میں ملبوس مدراسی خواتین فوٹو شوٹنگ میں مصروف تھیں۔ خواتین اور بچوں کی یہ سرگرمیاں پارک میں زندگی کی حرارت اور تازگی کی علامات تو تھیں ہی لیکن پھولوں کی بہار اور چھوٹی چھوٹی آبشاروں، دریاوں اور نالوں کے پتھروں کے ساتھ آبشاروں اور جھیلوں کے اوپر لکڑی کے پل ماحول کو معطر و خوب صورت بنا رہے تھے۔ ہم نے بھی جیل کے کنارے لکڑے کے بنچ پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا تو جھیل سے کچھوا نکل کر پتھر پر بیٹھ گیا اور گلہری بھی بل سے نکل کر ہمارے قریب پہنچ گئی۔۔ واہ کیا معاشرہ ہے کہ انسان کیا جانور بلکہ جنگلی حیات کو بھی جان کا خطرہ نہیں۔۔ ان کو بھی معلوم ہے کہ اس معاشرے میں انصاف کا بول بالا ہے اور سب کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ کچھوا اور گلہری بھی بڑے شیطان تھے کہ ہمیں چھیڑتے رہے لیکن ہم بھی بڑے پکے تھے کہ ان کی طرف آنکھ بھی نہ اٹھائی کہ ایسا نہ ہو کہ گلہری شکایت لے کر پہنچ جائے یا کوئی گواہ بن جائے کہ ہم نے گلہری کو حراساں کیا، اس کا جواب کیسے اور کہاں دیتا پھروں گا۔ پارک کے اصل مکینوں سے الگ سلگ کے بغیر ہی باہر نکلنے میں افیت جانی اور چپکے سے باہر نکل گئے اور نئے مقام کی طرف روانہ ہوئے جو ٹورانٹو تھا ۔