گلشن حدید میں پانی کا بحران: شہری شدید احتجاج پر مجبور

گلشن حدید میں پانی کا بحران: شہری شدید احتجاج پر مجبور

گلشن حدید کے شہری آج پانی کے شدید بحران کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ عوامی غم و غصہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ لوگوں نے دھمکی دی ہے کہ “آج پانی نہیں ملا تو نیشنل ہائی وے بلاک کرکے سخت احتجاج کریں گے”۔

شہریوں کا المیہ:
گلشن حدید کے رہائشی چھ دن سے پانی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسٹیل ملز کی انتظامیہ نے “بجلی فالٹ” کے نام پر پانی کی سپلائی معطل کر رکھی ہے، جس سے ہزاروں گھرانے متاثر ہو رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ “گلشن حدید فیز ٹو کے لوگ پانی کے مصنوعی بحران میں جان بوجھ کر دھکیل دیے گئے ہیں”۔

انتظامیہ کی بے حسی:
اسٹیل ملز نے اپنی ذمہ داری سے مکمل دستبرداری اختیار کرتے ہوئے شہریوں کو “ٹینکرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا” ہے۔ ٹینکر مافیا من مانی قیمتیں وصول کر رہا ہے، جبکہ غریب عوام پانی کے لیے تڑپ رہے ہیں۔

نمائندوں کی خاموشی:
پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندے بھی اس بحران میں “بے بس” دکھائی دے رہے ہیں۔ عوامی دباؤ کے باوجود وہ “ن لیگی منظر سے غائب” ہیں، جس سے شہریوں کا اعتماد مزید کم ہو رہا ہے۔

عوامی مطالبہ:
احتجاجی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ اگر فوری طور پر پانی کی سپلائی بحال نہیں ہوئی، تو شہری نیشنل ہائی وے کو بند کر کے اپنا غم و غصہ ظاہر کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ “گلشن حدید کے شہری دہرے عذاب میں مبتلا ہو گئے ہیں”—ایک طرف پانی کا قحط، دوسری طرف انتظامیہ کی بے رحمی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ متعلقہ ادارے فوری اقدامات کریں، ورنہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔