
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے بھارت کے جنگی جنون کے خلاف اہم پریس کانفرنس کا انعقاد
ہم امن پسند لوگ اور جنگ کے خلاف ہیں مگر ننگی جارحیت کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے، بات ملکی سلامتی پر بات آئی تو بھرپور دفاع کریں گے، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ
مشکل حالات میں معلوم ہوتا ہے کہ فوج کیوں ضروری ہے ، میرے پاس ہتھیار نہیں قلم کی طاقت ہے ،معروف مزاح نگار و دانشور انور مقصود
کراچی () آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے بھارت کے جنگی جنون کے خلاف اہم پریس کانفرنس کا انعقاد حسینہ معین ہال ،احمد شاہ بلڈنگ میں کیاگیا ، پریس کانفرنس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ اور معروف ادیب و مزاح نگار انور مقصود ، سینئر اداکار و نائب صدر منور سعید، جوائنٹ سیکریٹری آرٹس کونسل و معروف ادیبہ نور الہدیٰ شاہ ،معروف شاعر و ماہر تعلیم پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے گفتگو کی جبکہ معروف شاعر افتخار عارف ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس میں شریک ہوئے، سیکریٹری آرٹس کونسل اعجاز فاروقی ، معروف شاعرانور شعور، شاعرہ فاطمہ حسن، ہما میر ، شاہد رسام، فرخ شہاب، اسجد بخاری، شکیل خان، تنویر انجم، افضال احمد سید سمیت پریس کانفرنس میں صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی ، پریس کانفرنس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ بھارت نے جنگی جنون میں مبتلا ہو کر 7 مئی کو بزدلانہ حملہ کیا ہے جس میں ہماری 30 سے زائد جانوں کا نقصان ہوا، مگر جتنے ہم پر حملے ہوئے پاک فوج کے نوجوانوں نے اس کا بھرپور جواب دیا ،ان کو یہ توقعات نہیں تھی کہ پاکستان ایک مضبوط اور طاقتور ملک ہے ، ہم جنگ کے خلاف اور امن پسند لوگ ہیں مگر ننگی جارحیت کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اگر ہمارے ملک کی سلامتی پر بات آئی تو ہم دفاع کریں گے، ہم یہ نہیں چاہتے کہ مظلوم عوام اس جنون دہشت گردی کا نشانہ بنیں، دونوں ممالک کے خطے میں امن کا ہونا بہت ضروری ہے، پاکستان مسلسل یہ بتانے کی کوشش کررہا ہے کہ ہمیں حالات جنگ میں رکھا جارہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں، اسرائیل کے علاوہ اس جنگی جارحیت کے معاملے میں کوئی بھی ہندوستان کے ساتھ نہیں، سندھ طاس معاہدہ ملتوی کر کے ہماری مسجدوں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، یہ تو یزید سے بھی آگے کا معاملہ ہے، جب سے مودی کی حکومت آئی ہے تب سے جنگی جنون کے حالات ہیں ، مودی نے اپنے لوگوں کو بے وقوف بنایا ہوا ہے ، اس نے بہت سے مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے، پڑوسی ملک کو یہ لگتا ہے کہ پاکستانی قوم ٹوٹی ہوئی ہے، انہوں نے کہاکہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی تمام ادیبوں اور فنکاروں کی نمائندگی کرتا ہے، ہمیشہ سے پاکستان کے ادیب اور فنکاروں نے پاکستان میں امن کو کوشش کی ہے ، ہمارے پڑوسی ملک میں بھی ادیبوں نے جنگ کے خلاف نظمیں لکھی ہیں، ہندوستان کے ادیبوں اور امن پسند لوگوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔معروف مزاح نگار و دانشور انور مقصود نے کہاکہ مشکل حالات میں معلوم ہوتا ہے کہ فوج کیوں ضروری ہے ، آج پچیس کروڑ لوگ سپاہی بن گئے ہیں، میرے پاس ہتھیار نہیں قلم کی طاقت ہے، میں اپنے پرچم کی اس طرح عزت کرتا ہوں جس طرح ہندوستان کرتا ہے ، ملک آبادی اور رقبے سے پہچانے نہیں جاتے، میرے لیے پاکستان اتنا ہی بڑا ہے جتنا ایک بھارتی باشندے کے لیے بھارت۔ انہوں نے کہاکہ جنگ شروع کرنا آسان ہے مگر ختم کرنا مشکل ہے ، ہم نے پانچ جہاز گرائے اس کی خوشی کم ہے مگر معصوم بچوں کی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے ، بھارت کا میڈیا کبھی نہیں بدل سکتا شام تعریف کریں شاید بدل جائے، مودی ووٹوں سے جیتے ہیں مگر شاید اس حادثے کے بعد ان کو عقل آجائے کہ میں مسلمانوں کے ساتھ ٹھیک نہیں کررہا، زمانہ بدل گیا جنگ کوئی نہیں چاہتا، ہم سب چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کریں، ہمیں اس راہ پر چلنا چاہیے جہاں ہماری حکومت اور فوج چاہتی ہے۔ معروف شاعر افتخار عارف نے وڈیو لنک پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انسانی جانیں جہاں بھی ضائع ہوتی ہیں ہم اس کے خلاف ہیں، پہلگام میں جو بھی ہوا اس کی مذمت کرتے ہیں، ہم شروع دن سے کہہ رہے ہیں کہ پہلگام واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں، ابھی واقع ختم بھی نہیں ہوتا بھارت پاکستان پر الزام لگا دیتا ہے، ہم اپنی خود مختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر سکتے، ہمارے میڈیا نے نہایت احتیاط کے ساتھ کام لیا ہے، ہمارے دانشور، صحافی اور اہل قلم سب مذمت کرتے ہیں، انہوں نے کہاکہ امن ہر قیمت پر قائم ہونا چاہیے، بین الاقوامی برادری امن کا قیام عمل میں لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے، انہوں نے کہاکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی حفاظت نہ کریں، پہلے دن سے ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ہاں واقعات ہوتے ہیں ہم تو الزام تراشیاں نہیں کرتے، پاکستان و ہندوستان کے عوام جنگ نہیں چاہتے، اہل قلم، فنکار برادری بھی جنگ کے خلاف ہے لیکن خود مختاری کی حفاظت ہمارا حق ہے، عالمی طاقتوں کو زبانی بیان بازی کے بجائے عملی طور پر کام کرنا چاہیے۔ نائب صدر و سینئر ادا کار منور سعید نے کہاکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے یہ مودی اور ہم سب کو بھی معلوم ہے، مودی مجبور ہے جو ہم پر جنگ مسلط کر رہا ہے، اس جنگ سے بچنے کے لیے ہمیں بھی کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا، جنگ کرنا اور اس کا جواب دینا دونوں میں فائدہ نہیں لیکن جب آپ پر جنگ مسلط کی جا ئے تو آپ کو ہاتھ پاؤں مارنا پڑتے ہیں، انہوں نے کہاکہ پاک فضائیہ نے جس طرح جواب دیا شاندار تھا، مگر افسوس ہوتا ہے کہ دونوں طرف نہتے لوگ مارے جاتے ہیں، دونوں ممالک کے ادیب دانشور، فنکار برادری جنگ کی وباءکے خلاف ہیں، جوائنٹ سیکریٹری آرٹس کونسل ومعروف ادیبہ نور الہدی شاہ نے کہاکہ جنگ ایک جنون ہے جو پہل کرتا ہے وہ جنونی ہوتا ہے اور یہ قابل مذمت بات ہے ، میں بھارت کی میڈیا پر حیران ہوں ، آپ لوگوں کو اکسا رہے ہیں، آپ بھول گئے ہیں کہ گھر پر آپ کے بچے سو رہے ہیں ، ایٹمی طاقت آپ بھی ہیں اور ہم بھی، ہم نہیں سوچ سکتے کہ ہم کسی بچے کو ماریں، پاکستانی میڈیا تحمل کے ساتھ چنے ہوئے الفاظوں کے ساتھ بات کررہا ہے، اس وقت پاک بھارت کے ادیبوں اور فنکاروں کو سوچ سمجھ کر لکھنا بولنا ہے ، اداکار ، فنکار ،ادیب کا کام امن ہے اور آپ کیسے جنگ چاہ رہے ہیں ، پچیس کروڑ جانوں کے بچاؤ کے لیے امن کی بات کرتے ہیں ، انہوں نے کہاکہ اگر حملہ ہوگا تو جواب ضرور ملے گا ، سندھ دریا کا راستہ روکنا فضول بات ہے، قدرت کے بہاؤ کو کوئی نہیں روک سکتا ہے ، معروف شاعر و ماہر تعلیم ڈاکٹر پیر زادہ قاسم رضا صدیقی نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں، ہمیں اپنے لوگوں کے لیے کام کرنا ہے، ہمارے معاشرے کو نالج بیسڈ سوسائٹی بنانا ہے نہ کہ جنگ کو فروغ دینا، کچھ لوگوں کی سوچ ایسی ہوتی ہے جو بہتر چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے منفی چیزوں کو فروغ دیتے ہیں، مودی کی سوچ نہایت غلط ہے، یہ سوچ کبھی بھی ہندوستان کے لیے ٹھیک نہیں ہو سکتی، ہمیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہو گا، میرا تعلق نوجوانوں سے ہے ہمارے ہاں ایک سوچ یہی ہے کہ مثبت طریقے سے حل کرنا چاہیے، ہماری افواج پاکستان سارے معاملے کو جس طرح دیکھ رہی ہے قابل ستائش ہے، ہمارے ہاں بڑی تعداد نوجوانوں کی ایسی ہے جو ہر سطح پر لڑنے کے لیے تیار ہے، انہوں نے کہاکہ ہندوستان نے جو شدت پسند رویہ اختیار کیا ہے وہ غلط ہے اور بھارت غلط رویے سے پوری دنیا میں اپنے آپ کو منوانا چاہ رہا ہے۔























