اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے دوسرے کا حق مارنے والا طاقتور افسر خود اپنے دفتر سے فارغ ، وزیر سیر پر سوا سیر ثابت ہوا ۔ حکومت نے سندھ کے افسر اور وزیر کی لڑائی کی دلچسپ کہانی سنیے پڑھیے اور مسکرائیے۔

اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے دوسرے کا حق مارنے والا طاقتور افسر خود اپنے دفتر سے فارغ ، وزیر سیر پر سوا سیر ثابت ہوا ۔ حکومت نے سندھ کے افسر اور وزیر کی لڑائی کی دلچسپ کہانی سنیے پڑھیے اور مسکرائیے۔


افتاب چنا نے اپنے وی لاگ میں پس منظر کے ساتھ بتایا ہے کہ وزیر اور اس افسر کی لڑائی کب سے اور کیوں چل رہی تھی اور وجہ کیا بنی تبادلے کی اور اب کیا ہو رہا ہے ۔

لیکن افتاب چنا نے جو نہیں بتایا اس رپورٹ میں وہ یہ ہے کہ یہ مذکورہ افسر اپنی طاقت کے نشے میں چور ہو کر دیگر افسران اور ملازمین کا حق بھی مارتے رہے ہیں جس کی سزا انہیں ملی ہے

(1) TikToker Minister VS Faud Ghaffar Soomro I MD Stevta transferred I Mafia Rules I ‪@Aftab-Channa‬ – YouTube

Transcript:
(00:00) السلام علیکم میں ہوں افضل چنہ مرحبا بھی بھی میری نئو ویلوگ آج کی سٹوری یہ ہے کہ آہ بسیکلی وہ کل شام کو آرڈر ہوا تھا لیکن اس کا تھوڑا سا بیک گراؤنڈ آپ آہ دوستوں کو بتاتا چلوں کہ ایک آہ جیسے آپ تھمڈل میں بھی پڑھ سکتے ہیں کہ ایک آہ ٹک ٹاکر وزیر ہے شند گورمنٹ نے پہلی بار ان کو وزارت دی ہے شند ٹیکنیکل ایجوکیشن کی وہاں پہ وہ ٹک ٹاکر آ کے جو اتھل پتھل کی ہے وہ ایک بیسیکلی ایک بندے کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں اور وہ بندہ خود بھی غیر قانونی برتی ہوا ہے لیکن ٹک ٹاکر ہے تو اس کو تو ششکیں چاہیے ہیں اب ہوا یہ ہے کہ ایک ادارہ ہے سندھ گورنمنٹ کا سندھ ٹیکنیکل ایڈیوکیشن
(00:53) ووکیشنل ٹریننگ آثارٹی تو وہاں پہ یہ ٹک ٹاکر جو جیالہ ہے جنید بلند کے نام سے انہوں نے جیسے ہی ادارہ سنبھالا آکے تو پہلے تو انہوں نے ایک ٹرانسپورٹ افسر تھے لالہ سرور وہ سترہ گریڈ کے تھے تو ان کو اٹھا کے یہ کوئی اپنا چاہیتہ لے کے آئے ہیں چار گریڈ کا چھوٹا ملازم مطلب کلارک بھی نہیں ہوگا اس سے بھی کم والا کہ اس کو دو چار کروڑ کی ہے جو ٹرانسپورٹ کی بجیٹ ہے اس پہ بٹا دیا ہے کہ بھئی جالی بلنگ ہوگی اور سارا دندہ کریں گے اس کے علاوہ سندھ گورمنٹ نے وہاں پہ ایک بہت ہی قابل اور شریف اور اچھے باپ کے اچھے بیٹے
(01:37) کو جن کا نام ہے یہ ہیں فواد گفار سمرو صاحب یہ پاکستان ایڈمنسٹیٹیو سرویسز کے گریڈ انیس کے افسر ہیں ان کو یہاں پہ مینجنگ ڈائریکٹر کر کے اسٹیوٹ آکر لگایا تھا تو جس پہ یہ ٹک ٹاکر اور فواد صاحب کے بیچ میں انبن چلتی رہی پندرہ اٹھارہ دن سے پہلے دن سے ہی بلکہ کیونکہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سرویس کے افسران سے تھوڑی بہت ہمیں مطلب میڈیا کو یا عام پبلک کو امید�منسٹریٹو سروس کے افسران سے تھوڑی بہت ہمیں مطلب میڈیا کو یا عام پبلک کو امید ہے کہ وہ کہیں پہنہ کہیں نہ کہیں سٹینڈ لیتے ہیں باقی سندھ کے افسران تو جتنی زیادہ چاپلوسی کریں گے تو
(02:16) اتنا ہی ان کو اچھا عوضہ ملے گا نہیں تو پھر وہ پوسٹنگوں کے لیے بیچارے پریشان ہیں تو ایک وہ تھا ان کے اور بھی پھر جنید بلند نے ایک انتہائی شریف اور قابل جو ڈپٹی ڈائریکٹر تھے فائنینس کے قاضی نظام ان کو اٹھا کے ایک دوسرے اپنے چائیتے کو رکھا کوئی مہمن ہے تو اس پہ بھی جیسے ہی فواد گفار سمرو واپس آئے پوستیں اپنی چار سنبھالی تو انہوں نے پھر قاضی نظام کو واپس فنینس میں رکھا جس پہ منسل صاحب کو گصہ آیا کہ بھئی یہ کیا ہے میرا تو دندہ یہ بند کروا رہے ہیں تو بہت سارے ایسے چھوٹی چھوٹی چیزیں تھی جن پہ ایک لاوہ ان دونوں کے بیچ میں آہ بن رہا تھا
(03:01) اور ایک پہاڑ بن گیا جس پہ پھر جنید بلند نے کل جا کے کہیں پہ رویا ہوگا تو وہاں سے پھر فون آیا اور فون آنے کے بعد جو ہے فواد گفار سمرو صاحب کا ٹرانسفر کر دیا گیا ان کو ایم ڈی جو ہے سی او جو ہے ٹرانس کراچی ایک ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کا پروجیکٹ ہے اور شرجیر مہمن صاحب تو اس کے منسٹر ہیں تو وہاں پہ ان کو لگا دیا گیا ہے جبکہ ایم ڈی اسٹیوٹا کی سیٹ پہ تارک منظور چانڈے ہو یہ بھی ایک پاکستان ایڈمنسٹرٹو سروسز کے بندے ہیں ان کو کل انہوں نے پوسٹنگ کیے آج انہوں نے چار سنبھالا ہے یا تھوڑی دیر میں جب تک یہ ویڈیو اپلوڈ ہوگی چار
(03:40) سنبھالیں گے لیکن کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جیسے آپ اتنے اہم اداروں پہ یہ ٹک ٹاکر ٹائپ بندے بٹھا دیں گے ٹک ٹاک پہ آپ ان کے ششکے دیکھیں تو خربوزہ بھی خود لے رہا ہے جبکہ اصل ریالیٹی تو ہم صافیوں کو پتہ ہے جو ہم لوگ فیلڈ میں دکے کاتے ہیں کہ سیدھے موکی شیطانی ملاتا ٹک ٹاک والی زندگی اور اس میں ان کی جو یہ ڈرامے واضحیاں ہیں اس میں ہو کیا رہا ہے کہ اسٹیوٹا کے اندر میں کوئی دو سو دس ٹیکنیکل ہنر دینے والے ادارے ہیں جو لاوارس اور تباہ اور برباد ہونے کے چکروں بالکل بارٹر پہ کھڑے ہیں تو میری سن گورنمنٹ سے اپیل ہوگی کہ اس ٹائپ کے ٹک ٹاکرز کو تھوڑا سا پکڑ کے
(04:30) رکھیں اور سندھ کے ادارے ویسے ہی تباہ ہو رہے ہیں یہ تو اللہ کا نام لے کے بغیر کسی ڈر و خوف کے یہ اپنا زندہ کرتا رہے گا شکریہ