
کراچی، 8/مئی، 2025 – سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے چانسلرمحمد اکبر علی خان کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں رجسٹرار کموڈور (ر) سید سرفراز علی نے یونیورسٹی میں 3 / مئی کو پیش آنے والے واقعات کے پس منظر اور پسِ پردہ حقائق اور اس کے مضمرات پر بات کرتے ہوئے فیکلٹی ممبران کو تمام ترصورتحال سے آگاہ کیا۔
اس ضمن میں رجسٹرار سید سرفراز علی کا کہنا تھا کہ چند فیکلٹی ممبران یہ تاثر دے رہے ہیں کہ جیسے وہ سرسید یونیورسٹی کی پوری فیکلٹی کے نمائندہ ہیں جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔پوری فیکلٹی کی نمائندگی کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے یہ چند فیکلٹی ممبران اپنے ذاتی مفادات کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں۔
سرسیدیونیورسٹی کی سیکیورٹی پر بات کرتے ہوئے رجسٹرار سید سرفراز علی کاکہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے شیڈول کے مطابق امتحانات جاری رکھنے اور طلبہ و طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں کو تعطل کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے ایک پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کیں تاکہ جامعہ کا نظم و نسق متاثر نہ ہو۔اضافی سیکوریٹی کا مقصد نہ صرف جامعہ کاتحفظ بلکہ اساتذہ کی عزت و تکریم کو بھی یقینی بنانا ہے۔ہم نہیں چاہتے کہ3 /مئی کو ہونے والے پُرتشدد اور خلافِ قانون واقعات دہرائے جائیں۔یونیورسٹی انتظامیہ، فیکلٹی اور طلبہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گی اور ان کی آرا اور تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید اصلاحات کی جائیں گی۔
میٹنگ میں فیکلٹی ممبران نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ انھیں اعتماد میں لیا گیا۔فیکلٹی ممبران نے 3 /مئی کے خلافِ قانون واقعات کی پُرزور مذمت کی اور جامعہ کے تحفظ اور تعلیمی سرگرمیوں کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے انتظامیہ کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔علاوہ ازیں، فیکلٹی ممبران نے یونیورسٹی کی جانب سے لیے گئے اقدامات پرکامل اعتماد کا اظہار کیا۔























