کراچی میں پانی کی بوند بوند کو ترسا دیا گیا ہے۔ کراچی کے متعدد علاقوں میں پانی کی فراہمی نہیں کی جا رہی۔ یونیورسٹی روڈ کی پائپ لائن کی مرمت کے باوجود پانی کی فراہمی نہیں کی جا رہی۔عوام تین تین چار چار ہزار کے ٹینکرز ڈلوانتے پر مجبور

کراچی میں پانی کی بوند بوند کو ترسا دیا گیا ہے۔ کراچی کے متعدد علاقوں میں پانی کی فراہمی نہیں کی جا رہی۔ یونیورسٹی روڈ کی پائپ لائن کی مرمت کے باوجود پانی کی فراہمی نہیں کی جا رہی۔عوام تین تین چار چار ہزار کے ٹینکرز ڈلوانتے پر مجبور۔پانی کی فراہمی کا نظام کراچی کے عوام دشمن ہاتھوں میں ہے۔یئر کراچی تحقیقات کرائیں۔ مئیر کراچی تحقیقات کرائیں پانی کی فراہمی درست کرائی جائے۔ ایم پی پی

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایم پی پی (میری پہچان پاکستان) کی کراچی آرگنائزنگ کمیٹی نے پانی کی عدم فراہمی پر سخت احتجاج کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں پانی کی بوند بوند کو ترسا دیا گیا ہے۔ کراچی کے متعدد علاقوں میں پانی کی فراہمی نہیں کی جا رہی۔ یونیورسٹی روڈ کی پائپ لائن کی مرمت کے باوجود پانی کی فراہمی نہیں کی جا رہی ہے۔ عوام تین تین چار چار ہزار کے ٹینکرز ڈلوانتے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ جنکی بساط نہیں وہ بورنگ کراکے کھارا پانی استعمال کر رہے ہیں۔ جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پانی کی فراہمی کا نظام کراچی کے عوام دشمن ہاتھوں میں ہے۔مئیر کراچی تحقیقات کرائیں۔ پانی کی فراہمی درست کی جائے۔ پانی کے بل 170سے730کر دیئے گئے لیکن پانی دستیاب نہیں۔ یہ پانی ٹینکرز میں دستیاب ہے نلوں میں نہیں۔ لانڈھی، کورنگی، اسکیم 33، گلستان جوہر، سرجانی ٹاؤن، ملیر، صفورا، اورنگی ٹاؤن سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ نیو کراچی میں رات کو پانی آتا تھا جو بند ہے۔ کراچی کا پانی روکنے کا مذموم عمل کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کی ضرورت ہے۔ کراچی کے عوام کے ساتھ حکومت سندھ اور انکے ماتحت اداروں کا یہ سلوک افسوس ناک ہے۔ وزیر اعلی سندھ فوری کراچی کے تمام علاقوں کو یکساں پانی کی فراہمی یقینی بنائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔