کیا نیا ناظم آباد کے ماہرین اور انجینیئرز کی بات پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے ؟

کیا نیا ناظم آباد کے ماہرین اور انجینیئرز کی بات پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے ؟

گذشتہ کئی سالوں سے کراچی میں مون سون کی بارشیں تباہی کا سبب بنتی آرہی ہیں۔ خصوصاً 2020 اور اس کے بعد کے سالوں میں شہر کے “اعلیٰ” ترین رہائشی منصوبوں جیسے ڈی ایچ اے اور نیا ناظم آباد میں بھی شدید آبادکاری دیکھنے میں آئی۔ ڈی ایچ اے کے کئی فیزز اور نیا ناظم آباد کی سڑکیں زیرِ آب آگئیں، جبکہ لوگ اپنے ہی گھروں اور بنگلوں میں پھنس کر رہ گئے۔ یہ مناظر دیکھ کر یہ سوال اٹھنا لازمی تھا کہ “کیا واقعی شہر کے ترقیاتی منصوبوں کو موسمی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے؟”

کراچی اور بارشوں کا المیہ
کراچی کا ڈرینج سسٹم دہائیوں سے ناکام ہے۔ ملیر اور لیاری ندیوں پر غیرقانونی قبضے، گجر نالہ اور دیگر چھوٹے نالوں کی صفائی میں غفلت، اور نکاسی آب کے بند نظام نے شہر کو ہر بارش کے بعد ایک جھیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ حکومتی دعووں کے باوجود، ہر سال نئے علاقے سیلاب کا شکار ہوتے ہیں۔ کیا صرف چند پمپ لگانے اور نالوں کی “عارضی صفائی” سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟

ڈی ایچ اے اور نیا ناظم آباد: کیا انتظامی دعوے قابلِ اعتماد ہیں؟
نیا ناظم آباد کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اب انہوں نے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کر لی ہیں، ماہرین اور انجینئرز کی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے نئی ڈرینج پلاننگ کی گئی ہے، اور اب رہائشیوں کو پانی بھرنے سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ لیکن کیا محض چند ٹیکنیکل تبدیلیاں اتنی کافی ہیں؟ کیا ان دعوؤں کی تصدیق ہو چکی ہے؟ کیا گذشتہ سالوں کی ناکامیوں کے بعد عوام کو یقین دلایا جا سکتا ہے کہ اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؟

بنیادی مسئلہ: منصوبہ بندی یا صرف ردِ عمل؟
حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں ہر سال سیلاب کی وجہ صرف بارش نہیں، بلکہ نااہل منصوبہ بندی، بدانتظامی، اور دیرپا حل کی بجائے عارضی مرمت ہے۔ اگر نیا ناظم آباد یا ڈی ایچ اے جیسے منصوبے بھی شدید بارشوں میں ڈوب جاتے ہیں، تو کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ شہر کی بنیادی ڈھانچے کی پلاننگ ہی غلط ہے؟

آخری سوال: کیا عوام کو بار بار آزمائش کا نشانہ بنایا جائے گا؟
انتظامیہ کے تمام دعوؤں کے باوجود، جب تک شہر کے تمام نکاسی آب کے نظام کو مکمل طور پر بحال نہیں کیا جاتا، ندیوں اور نالوں کو قبضہ مافیا سے پاک نہیں کیا جاتا، اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا حقیقی منصوبہ نہیں بنایا جاتا، تب تک کراچی والوں کو ہر سال اسی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک بار پھر محض دعوؤں پر یقین کر کے اپنی جان و مال کو خطرے میں ڈالیں گے؟

شہر کو محفوظ بنانے کے لیے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف تسلی کے بیانات کی۔